الفاظ ہمارے سوچ آپ کی 

"اپنی زبان سے نکلے الفاظ کی ذمہ داری تو ہم لے سکتے ہیں،
 لیکن سمجھنے والے کی سوچ کی ذمہ داری نہیں لی جا سکتی۔"

 ہم بولتے وقت لفظوں کا کتنا ہی بہترین انتخاب کیوں نہ کر لیں 
 مگر سننے والا اُسے اپنے ترازو میں تولتا ہے۔

ہم نیت بھی صاف رکھتے ہیں 
 لہجہ بھی نرم رکھتے ہیں 
 الفاظ بھی چن کر بولتے ہیں 
 طنز بھی نہیں کرتے 
اور دل دکھانے سے بھی ڈرتے ہیں 

لیکن پھر بھی 

سمجھنے والے کی سوچ کی ذمہ داری نہیں لی جا سکتی
 کیوں 
کیونکہ وہ اپنے ماضی،
 اپنے زخم
اپنی انا 
اور اپنے موڈ کے چشمے سے ہماری بات کو دیکھتے ہے۔
تو ہم کیا کریں
 غلط فہمی ہو تو فوراً کلیئر کریں،
انا کو سائیڈ پر رکھ کر۔  
دوسری بات جہاں لگے کہ اگلا سمجھنا ہی نہیں چاہتا،
 وہاں بحث جیتنے سے خاموشی بہتر ہے۔ 

آخری لفظ

 اللہ دلوں کے حال جانتا ہے 

دیکھو

 ہم پیغام کے ذمہ دار ہیں، مطلب کے نہیں۔
عائشہ 🍁