*صحابۂ کرامؓ کی عظمت پر حملے اور اہلِ سنت کا موقف*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
16 محرم الحرام 1448ھ
________________________________
الحمد للہ اللہ ربّ العزت نے اس امت پر بے شمار احسانات فرمائے ہیں جن میں سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت فرمائی پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معیت و نصرت کے لیے ایسی برگزیدہ جماعت کا انتخاب کیا جسے دنیا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام سے جانتی ہے۔ یہی وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے دینِ اسلام کو اپنے ایمان اخلاص قربانی اور جانثاری سے زندہ رکھا قرآن و سنت کی حفاظت کی اور اسے قیامت تک آنے والی امت کے لیے محفوظ کر دیا۔ اس لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی محبت و عظمت ایک جذباتی مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایمان عقیدہ اور اہلِ سنت والجماعت کے اجماعی مسلک کا بنیادی حصہ ہے۔
آج جب بعض لوگ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت عظمت اور مقام کو نشانہ بنا کر امت کے ایمان و عقیدہ میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایسے حالات میں عظمتِ صحابہ کا دفاع ان کے فضائل کو عام کرنا اور باطل شبہات کا علمی رد کرنا وقت کی اہم ترین دینی ذمہ داری ہے۔
صحابہ کرام کی محبت اور احترام ہر شخص پر واجب ہے اور سب سے عظمت والے لوگ وہ ہیں جن کی محبت اور دوستی رکھنا بھی واجب ہے۔
اور اور ان کی دشمنی سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے وہ اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جنہیں اللہ ربّ العزت نے اپنے نبی علیہ السلام کی صحبت کے لئے چنا ہے اور انہیں (لوگوں تک) دین منتقل کرنے اور قرآن مجید کی ذمہ داری نبھانے یہ توفیق عطا فرمائی اور ان سے راضی ہو گیا اور ان کی تعریفیں کیں اور پاکیزگی بیان کی۔
اللہ رب العزت نے فرمایا ۔
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (سورۃ توبہ 100)۔ اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک ہندوستان میں ایک صاحب علم و قلم طلیق اللسان چرب زبان جادو بیان خطیب نے حسینیت کے لبادہ میں رافضیت کا فتنہ و فساد برپا کر رکھا تھا اور قرن اول سے چلے آرہے اہل سنت و جماعت کے صحابہ کرام کے سلسلے میں اجماعی مسلک سے بغاوت کی راہ اپناتے ہوئے نعوذ باللہ کاتب وحی رسالت پیکر صدق و عدالت خوگر امانت و دیانت سیدنا امیر معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما کی نہ صرف صحابیت کا انکار کر رہے ہیں بلکہ نہایت تحقیر آمیز انداز میں ان کا اسم مبارک بھی لے رہے ہیں باغی طاغی منافق غاصب جیسے گستاخانہ جملوں سے نواز کر لاکھوں کروڑوں محبان اہل بیت عاشقان شمع رسالت اور فداکاران عظمت صحابہ کے دلوں کو مجروح کر رہے ہیں (هداه اللہ الى الصراط المستقيم)۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس و نفوس عظمت و عدالت کا دفاع ہر مومن صادق کا فرض ہے اور ان کی صحابیت کو نشانہ بنانے والی اور ان کی عظمت حرمت اور عدالت و ثقاہت کو مجروح کرنے والی ہر آواز کو دلائل و شواہد کی طاقت سے کچلنا اور اپنے ایمان ویقین اور اسلامی زندگی کے قلعہ کو مسمار ہونے سے بچانا ہر صاحب ایمان کا فرض منصبی ہے کیونکہ یہی وہ نفوس قدسیہ اور گروہ مقدس ہے جن کی روایات کی اساس پر ہمارے ایمان ویقین اور عقیدہ توحید کا قلعہ تعمیر ہوا ہے صحابه کرام رضی اللہ عنہم بھی قیامت تک کے لئے ہر مومن کے ایمان کی صداقت کا معیار ہیں انہیں کے توسط سے رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین اور احکام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر نازل ہونے والا قرآن اپنی اصالت و حقیقت کے ساتھ ہم تک پہونچا ہے حدیث و سنت کا پورا کہ پورا ذخیرہ انہیں جاں مصطفیٰ کی مرویات پر مشتمل ہے جن کو ہر دور میں روافض نے مجروح و مشکوک کرنے کی منظم کوششیں کیں اور اپنے ایجنٹس تعیینات کرتے رہے آج دو سال سے حسینی صاحب روافض کے جانباز سپاہی بن کر میدان میں نظر آرہے تھے ۔
یزید و معاویہ کے بعد روایات حدیث کے شہنشاہ محبوب سید الکونین فقیه الامت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں زبردست گستاخی شروع کر دی اور نعوذ باللہ انہیں خائن قرار دیا کہ حدیث شریف کا آدھا حصہ گول کر گئے ؟ جس پر ایک ہنگامہ ہو گیا کہ حسینی صاحب تو دین کی بنیاد کی کھودنے میں لگ گئے ان کا علاج ضروری ہے نیز امت مسلمہ اور ملت اسلامیہ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اہمیت ضرورت عظمت و عزت اور مقام و مرتبہ سے عوام و خواص کو واقف کرانا بھی وقت کا اہم تقاضہ ہے اور اپنے ایمان کو شکوک و شبہات سے محفوظ رکھنا لازم ہے۔
افسوس کہ ہر زمانے میں کچھ ایسے فتنے سر اٹھاتے رہے ہیں جنہوں نے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات کو ہدف بنایا ان کی خدمات کو مشکوک کرنے کی کوشش کی اور ان کے مقام و مرتبہ پر اعتراضات کھڑے کیے۔ حالانکہ قرآنِ کریم نے ان کی مدح و ستائش فرمائی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے فضائل بیان فرمائے اور ائمۂ امت نے بالاتفاق ان کے احترام محبت اور توقیر کو ایمان کا تقاضا قرار دیا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کو مضبوط رکھے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسنِ ظن اختیار کرے ان کے فضائل کو عام کرے اور ہر اس شبہے کا علمی حکیمانہ اور دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں جواب دے جو ان کی عظمت کو مجروح کرنے کے لیے پھیلایا جائے۔
آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے مدارس مساجد دینی اجتماعات اور گھروں میں عظمتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مضامین کو عام کیا جائے نوجوان نسل کو بتایا جائے کہ صحابۂ کرام ہی وہ روشن چراغ ہیں جن کی روشنی میں امت نے صدیوں تک ہدایت کی راہیں طے کی ہیں۔ ان کی محبت دلوں کی زینت ان کا ادب ایمان کی علامت اور ان کی سیرت ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ اطہار سے سچی محبت ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق اور ہر قسم کے فتنوں سے اپنے ایمان کی حفاظت نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔