اگر ہماری بعض ماسیاں خالات عمات و عزیزات
خانگی نزاعات، طعن و تشنیع کی محفلوں، اور خورد و نوش کے معمولی معرکوں سے کچھ فرصت نکال سکیں تو بعید نہیں کہ وہ بھی علمی و تحقیقی دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کر لیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنی ذہنی و علمی صلاحیتوں کو ایسے مشاغل میں صرف کر دیتی ہے جن کا حاصل نہ علم ہے، نہ فکر، اور نہ ہی امت کے لیے کوئی نفع۔
چند روز قبل ترکی کی معروف محققہ ڈاکٹر ماجدہ مخلوف اس جہانِ رنگ و بو سے رخصت ہوئیں۔ وہ اُن خوش نصیب خواتین میں سے تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کو تحقیق، تتبع اور خدمتِ علم کے لیے وقف کر دیا۔ متعدد علمی کتب اور مخطوطات کی تحقیق و تنقیح کے ذریعے انہوں نے اہلِ علم میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا اور اپنے پیچھے ایسا علمی سرمایہ چھوڑا جو مدتوں اہلِ دانش کے لیے باعثِ استفادہ رہے گا۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ بعض تعلیمی اداروں سے وابستہ طالبات اور معلمات کی توجہ علمی ریاضت کے بجائے سوشل میڈیا کی رنگینیوں پر زیادہ مرکوز نظر آتی ہے۔ واٹس ایپ چینلوں کی تزئین، اسٹیٹس کی تشہیر، اور مجازی دنیا میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی فکر تو بہت ہے، لیکن مطالعہ، تحقیق، تصنیف اور علمی انہماک کی طرف رجحان کم دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ تحقیق کا میدان محض خواہشات سے نہیں، بلکہ شب بیداری، محنتِ مسلسل، ذوقِ جستجو اور فکری ریاضت سے آباد ہوتا ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ علمی عظمت کا سفر صرف و نحو کے ابتدائی مباحث سے شروع ہو کر تحقیق و اجتہاد کی منزلوں تک پہنچتا ہے۔ جو قومیں علم کو زینت نہیں بلکہ ضرورت سمجھتی ہیں، انہی کے دامن سے محققین، مصنفین اور مفکرین جنم لیتے ہیں۔ اگر ہماری بہنیں اور بیٹیاں بھی وقت کے صحیح مصرف کو سمجھیں، غیر ضروری مشاغل سے خود کو بچائیں اور مطالعہ و تحقیق کو اپنا شعار بنائیں، تو بعید نہیں کہ مستقبل میں امت کو کئی نئی محققات، مصنفات اور عالمات میسر آئیں۔
علم کے افق پر نام وہی زندہ رہتے ہیں جو اپنے پیچھے اسٹیٹس نہیں، بلکہ کتابیں چھوڑ جاتے ہیں؛ جو واٹس ایپ چینل نہیں، بلکہ علمی آثار اور تحقیقی ذخائر یادگار بناتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو فنا کے بعد بھی زندہ رکھتا ہے۔
نوٹ۔۔اگر تحریر میں تلخی ہو تو شربت سمجھ کر پی جانا نقصان نہیں ہوگا لیکن فائیدہ ضرور ہوگا
محمد مصعب پالنپوری