ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے اتحادِ امت ناگزیر ہے
امتِ مسلمہ کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اپنے رب کی ہدایت اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھاما، باہمی اتحاد و اخوت کو فروغ دیا اور اجتماعی شعور کے ساتھ آگے بڑھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت، سربلندی اور کامیابی عطا فرمائی۔ لیکن جب آپس کے اختلافات، تعصبات اور انتشار نے ان کے درمیان جگہ بنائی تو ان کی اجتماعی قوت کمزور پڑ گئی اور دشمنوں کو انہیں نقصان پہنچانے کے مواقع مل گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو اختلاف و انتشار کے بجائے اتحاد، باہمی احترام اور اخوت کا درس دیا ہے، کیونکہ امت کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
آج ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان مختلف نوعیت کے دینی، سماجی اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ کبھی مذہبی شعائر کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی مساجد، مدارس اور اوقاف سے متعلق مسائل پیدا کیے جاتے ہیں اور کبھی اسلامی تشخص پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ان تمام آزمائشوں کے باوجود مسلمانوں نے بڑی حد تک صبر، حکمت اور آئینی و قانونی طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنے حقوق کے تحفظ کی کوشش کی ہے۔ تاہم بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب معاملہ صرف کسی ادارے یا کسی مخصوص طبقے کا نہیں رہتا بلکہ براہِ راست رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس، آپ کی عزت و ناموس اور اسلامی مقدسات سے متعلق ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ہر مسلمان کا دل بے چین ہو جاتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مومن کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں امت کو واضح ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103) یہ آیت صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا بنیادی اصول ہے۔ اسی طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اپنے والد، اپنی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہی وجہ ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ کسی ایک جماعت، تنظیم یا مکتبِ فکر کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ایمانی ذمہ داری ہے۔ فقہی، اجتہادی اور مسلکی اختلافات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں اور صدیوں سے امت کے علمی ورثے کا حصہ رہے ہیں، لیکن جب دینِ اسلام، قرآنِ مجید، اسلامی مقدسات اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا معاملہ سامنے آئے تو ان اختلافات کو امت کے اجتماعی مفاد پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔ اختلاف اگر علمی دائرے میں رہے تو امت کے لیے باعثِ وسعت ہے، لیکن اگر وہ نفرت، تعصب اور انتشار میں بدل جائے تو یہی اختلاف امت کی کمزوری بن جاتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دور میں بعض اوقات ہمارے اندرونی اختلافات اس حد تک نمایاں ہو جاتے ہیں کہ امت کے مشترکہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر معمولی فقہی مسائل پر تلخ بحثیں ہوتی ہیں، ایک دوسرے پر اعتراضات کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات ایسے الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو اسلامی اخوت کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف امت کے اندر باہمی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ اجتماعی مسائل پر ہماری آواز بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے علمی اختلافات کو احترام کے دائرے میں رکھیں اور مشترکہ دینی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریں۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مفتیانِ کرام، مشائخِ عظام، دینی اداروں اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران ایک مشترکہ مشاورتی نظام قائم کریں، جہاں امت کو درپیش اجتماعی مسائل پر سنجیدگی، اخلاص اور دور اندیشی کے ساتھ غور کیا جائے۔ جب کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کا تعلق پوری امت سے ہو تو ایک متفقہ، باوقار اور ذمہ دارانہ موقف سامنے آنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف امت کے اندر اعتماد بڑھے گا بلکہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ علمی اختلافات کے باوجود مسلمان اپنے دینی مقدسات کے تحفظ کے معاملے میں متحد ہیں۔
اسی طرح مساجد، مدارس، جامعات اور دینی اجتماعات میں اتحادِ امت، اختلاف کے آداب، حسنِ اخلاق اور باہمی احترام کو مستقل موضوع بنایا جانا چاہیے۔ نئی نسل کو یہ سکھایا جائے کہ اپنے مسلک سے محبت اور دوسرے مسلمان کے احترام میں کوئی تضاد نہیں۔ اسلام ہمیں دلیل کے ساتھ اختلاف کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن نفرت، تذلیل اور انتشار کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر یہ شعور عام ہو جائے تو امت کے اندر اعتماد بھی بڑھے گا اور باہمی تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر مسلمان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس پلیٹ فارم کو اشتعال انگیزی، الزام تراشی اور مسلکی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ، اتحادِ امت اور اسلامی مقدسات کے احترام کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ ایک ذمہ دار مسلمان کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر حال میں سچائی، عدل، حکمت اور حسنِ اخلاق کو اختیار کرے۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ صرف جذبات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ ایمان، حکمت، صبر، اخلاق اور ذمہ داری کا تقاضا بھی ہے۔ جب بھی ایسا کوئی حساس معاملہ پیش آئے تو مسلمانوں کو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، پُرامن اور منظم انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ یہی طریقہ اسلامی تعلیمات کے زیادہ قریب ہے اور یہی امت کے وقار اور عزت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
آج ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ اپنے اپنے فقہی اور مسلکی موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی امت کے مشترکہ مفادات کو مقدم رکھیں گے، علمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے، ایک دوسرے کے احترام کو برقرار رکھیں گے اور جب بھی دینِ اسلام، قرآنِ کریم، اسلامی مقدسات یا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا معاملہ سامنے آئے گا تو ہم ایک امت، ایک صف اور ایک ذمہ دار قوم کی حیثیت سے حکمت، صبر اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اگر ہم اس شعور کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان شاء اللہ امتِ مسلمہ کا باہمی اعتماد مضبوط ہوگا، اس کی اجتماعی قوت میں اضافہ ہوگا اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اتحاد، اخوت، دینی غیرت اور ذمہ دار اسلامی کردار کی ایک روشن مثال قائم کر سکیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات پر استقامت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت، باہمی اخوت، اتحادِ امت، حسنِ اخلاق، حکمت و بصیرت اور حق پر ثابت قدمی عطا فرمائے، اور ہمیں ہر حال میں اپنی دینی ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
---------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com