حضرت مولانا سلمان ندوی کا انتقال
انا للہ و انا الیہ راجعون 😢
حضرت کے انتقال کی خبر پر سوشل میڈیا پر بحث
جنازے اٹھ گئے، زبان کیوں نہیں رُک رہی
اختلاف اپنی جگہ، لیکن موت کے بعد بھی مسلسل بحث، طعن و تشنیع اور ایک دوسرے پر حملے آخر کیوں
بس کر دیجیے… خدارا بس کر دیجیے!
کیا موت بھی اب ٹرینڈ بنے گی؟
کیا کفن بھی ہیش ٹیگ کا محتاج ہوگا؟
ایک انسان چلا گیا
آنکھیں بند ہو گئیں، ہاتھ دعا کے لیے اٹھنا بند ہو گئے مگر ہم نے کیا کیا؟
ہم نے ان کی قبر پر بھی تنز کا جھنڈا گاڑ دیا۔
کوئی کہہ رہا ہے "میرا فرقہ سچا"،
کوئی چیخ رہا ہے "تمہاری دعا قبول نہیں"۔
وہ شخص تو جا چکا۔ اسے اب تمہارے فتووں کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اب صرف ایک چیز چاہیے تھی اور وہ ہے دعا۔
ہم کیسے لوگ ہیں؟
میت سامنے پڑی ہو اور ہم موبائل نکال کر بحث کر رہے ہیں… کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں؟
جس گھر میں ماتم ہو، وہاں ہم دلیل کے پتھر برسا رہے ہوں… کیا یہی انسانیت ہے؟
اگر تمہارا دل مانتا ہے تو سر جھکا کر کہہ دو:
"یا اللہ، معاف فرما دے"۔ بس۔
نہیں مانتا تو چپ رہ جاؤ۔
تمہاری چپ کسی کا دل نہیں دکھائے گی۔
مگر خدارا، اس کے جانے کے بعد بھی اس کی روح کو اپنے لفظوں کے کوڑے مت مارو۔
آج تم تبصرہ کر رہے ہو، کل تم پر تبصرے ہوں گے۔
آج تم کسی کی بخشش کا فیصلہ سنا رہے ہو، کل کوئی تمہاری قبر پر کھڑا ہو کر کہے گا
"یہ جنتی ہے یا جہنمی؟"
دین گالیوں کا نام نہیں، دعاؤں کا نام ہے
اللہ جانے بندہ جانے
چھوڑو
میت کا احترام کرو… اگر کچھ نہیں دے سکتے، تو کم از کم اپنی زبان کا زہر تو نہ دو۔ 🤍
لہٰذا غیر مصدقہ باتیں آگے پھیلانے سے بھی اجتناب کیجیے۔
عائشہ 🍁