صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت ہمارے ایمان کی کوئی عام شاخ نہیں، بلکہ وہ جڑ ہے جس پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی صحبت کے لیے کائنات کے بہترین لوگوں کو چنا تھا، اس لیے صحابہ کی عظمت اور ان کا معیارِ حق ہونا دین کا وہ بنیادی ستون ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ حبِ صحابہ کے دفاع کی بات کرتے ہیں تو مسلکی بحث یا سیاسی اختلاف سمجھا جاتا ہے، نہیں نہیں بلکہ یہ اپنے ایمان کی بقا کی جنگ ہوتی ہے۔
یہاں بالکل دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ جس شخص نے اپنی پوری زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے وفادار ساتھیوں کی شان میں زبان درازی کی ہو، ان کے عدل کو نشانہ بنایا ہو اور ان کی مقدس جماعت پر سنگین ملامت کی ہو، اس کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد حق کو حق کہنے اور عقیدۂ صحابہ کی حفاظت کرنے میں کوئی مصلحت نہیں۔
موت اپنی جگہ ایک خاموش عبرت ضرور ہیں، لیکن کسی کی وفات پر جذباتی ہو کر اس کی مدح سرائی کرنا، اس کے پورے نظریات کی تائید و توثیق کی مہر لگانا، جب ہم اپنے ہی حلقوں میں اس کی کی عظمت کے قصیدے پڑھتے ہیں تو ہم دانستہ طور پر اپنی نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ صحابہ کی ناموس پر حملہ کرنا کوئی ایسا بڑا جرم نہیں تھا جسے معاف نہ کیا جا سکے۔ یہ رویہ اس فکر کی تصدیق بن جاتا ہے جس نے منبر و محراب سے صحابہ کے وقار کو مجروح کیا۔
موت کسی باطل افکار والے کو حق کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتی اور نہ ہی مٹی کی چادر کسی کی فکری گستاخیوں کو چھپا سکتی ہے۔ اگر وہ صحابہ کی شان میں ہونے والی بے باکیوں کو سن کر بھی شخصیت کی محبت میں مروّت کا پہلو اختیار کر لیں، وہ اپنے ایمان کی خیر منائیں۔حق کا راستہ مروّت اور مصلحت کا راستہ نہیں ہے؛ ہم اور ہمارا جینا، مرنا صرف اور صرف اہلِ بیت و ناموسِ صحابہ کے تحفظ کے لیے ہے، اور جہاں اہلِ بیت کی آڑ میں صحابہ کا ایمان داؤ پر لگا ہو، وہاں کسی بڑے سے بڑے نام کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔