Translation unavailable. Showing original.
ہم اپنی نگاہ میں عالم ہیں۔ مگر کیا کیا اللہ کے نزدیک بھی عالم ہیں
28 جون، 2026
`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مہتمم، مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
"میرے بھائی! ذرا ٹھہرو...!
ایک لمحے کے لیے دنیا کی تمام مصروفیات، تمام اعزازات، تمام القابات اور تمام تعریفوں کو ایک طرف رکھ دو، پھر اپنے دل سے ایک سوال کرو:
اگر آج اللہ تعالیٰ مجھے اپنے حضور کھڑا کر دے، تو کیا میں واقعی اس کے مقرب بندوں میں شمار ہوں گا؟
یہ سوال جتنا مختصر ہے، اتنا ہی ہولناک ہے۔ اس کا جواب انسان کی زبان نہیں، اس کا ضمیر دیتا ہے۔
ہمیں اپنے علم پر اعتماد ہے، اپنی عبادت پر اطمینان ہے، اپنی تقریروں، تحریروں، فتاویٰ، دینی خدمات، ہزاروں سامعین، لاکھوں ناظرین اور لوگوں کی دعاؤں پر فخر ہے۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اللہ بھی ہمیں اسی نظر سے دیکھتا ہوگا جس نظر سے مخلوق دیکھتی ہے۔
مگر کیا واقعی ایسا ہے؟
یاد رکھیے! قیامت کے دن نہ آپ کے نام کے ساتھ لکھا ہوا "مولانا"، "مفتی"، "شیخ"، "حافظ" یا "علامہ" آپ کو نجات دے گا، نہ آپ کے خطابات، نہ آپ کی کتابیں، نہ آپ کی شہرت، نہ آپ کے شاگرد، نہ آپ کے مرید، اور نہ ہی سوشل میڈیا پر لاکھوں مداح۔
وہاں صرف ایک چیز دیکھی جائے گی: اخلاص۔
وہ دن ایسا ہوگا جب اللہ تعالیٰ دلوں کے پوشیدہ راز کھول دے گا۔ وہ نیتیں جنہیں دنیا نہیں جانتی تھی، وہ خواہشیں جنہیں انسان نے عبادت کے لباس میں چھپا رکھا تھا، وہ ریا جو اخلاص کے پردے میں چھپی ہوئی تھی، وہ تکبر جو عاجزی کے الفاظ میں پوشیدہ تھا، سب کچھ ظاہر ہو جائے گا۔
قرآن مجید اعلان کرتا ہے:
﴿فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ﴾
"اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ، حقیقی متقی کون ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔"
کتنے ہی ایسے لوگ تھے جنہیں دنیا ولی سمجھتی رہی، لیکن اللہ کے ہاں ان کی کوئی قدر نہ تھی۔ اور کتنے ہی ایسے گمنام بندے تھے جو زمین پر بے نام تھے، مگر آسمانوں میں ان کا ذکر عزت سے ہوتا تھا۔
اہلِ علم کا اصل زیور معلومات کی کثرت نہیں، بلکہ خوفِ خدا ہے۔ مفتی کی اصل دولت فتاویٰ کی تعداد نہیں، بلکہ اخلاص ہے۔ داعی کی اصل کامیابی مجمع نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
"مجھے اپنے علم سے زیادہ اپنی نیت کی فکر رہتی ہے، کیونکہ نیت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے۔"
اس لیے آج اپنے نفس کا محاسبہ کیجیے۔
کیا میری عبادت صرف اللہ کے لیے ہے؟
کیا میری دعوت میں اخلاص ہے یا شہرت کی خواہش؟
کیا میرا علم مجھے اللہ کے قریب کر رہا ہے یا لوگوں کی نگاہوں میں بڑا بنا رہا ہے؟
کیا میری تنہائی، میری جلوت کی گواہی دیتی ہے؟
اور اگر آج موت کا فرشتہ میرے دروازے پر آ جائے، تو کیا میں اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار ہوں؟
اگر ان سوالات نے آپ کے دل میں بے چینی پیدا کر دی ہے، تو یہی ایمان کی زندگی کی علامت ہے۔
آئیے! آج ہی اللہ کے سامنے سرِ نیاز جھکا دیں، اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، اپنی نیتوں کی اصلاح کریں، اور اس سے یہ دعا کریں:
اے اللہ! ہمیں ہمارے نفس کے دھوکے سے بچا لے۔ اگر دنیا ہمیں نیک سمجھتی ہے مگر ہم تیرے نزدیک گناہگار ہیں تو ہمیں معاف فرما۔ ہمارے علم میں اخلاص، ہماری عبادت میں قبولیت، ہمارے دل میں تقویٰ اور ہماری زندگی میں عاجزی پیدا فرما۔ ہمیں دنیا کی عزت سے پہلے اپنی رضا عطا فرما، اور قیامت کے دن ہمیں اپنے مقرب بندوں میں شامل فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu