*نازیہ الٰہی کے مبینہ توہین آمیز بیانات پر سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ*
ناموسِ رسالت ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد، اس کے عقیدے کی روح اور اس کے دل کی سب سے قیمتی متاع ہے، رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت صرف ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے، اسی لیے آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں کسی بھی قسم کی توہین آمیز گفتگو، تمسخر، طعن و تشنیع یا ایسا طرزِ بیان جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرے، پوری امتِ مسلمہ کے لیے شدید اذیت اور ناقابلِ برداشت امر ہے،ہندوستان ایک جمہوری اور آئینی ریاست ہے جہاں ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے، لیکن اسی کے ساتھ ہر شہری پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ دوسرے مذاہب، ان کی مقدس شخصیات اور مذہبی جذبات کا احترام کرے، آزادیٔ اظہار کا حق مطلق نہیں ہے بلکہ آئینِ ہند کے *آرٹیکل 19(2) کے تحت اس پر معقول قانونی پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں، خصوصاً جب کسی اظہار سے عوامی امن، مذہبی ہم آہنگی یا دوسرے شہریوں کے حقوق متاثر ہوں۔*
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض بیانات اور ویڈیوز کے حوالے سے ملک بھر کے مسلمانوں میں شدید بے چینی، اضطراب اور غم و غصہ پایا جا رہا ہےاگر متعلقہ اداروں کے نزدیک یہ مواد مذہبی جذبات مجروح کرنے، فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے یا دیگر قابلِ اطلاق قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے تو اس معاملے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
*ہم حکومتِ ہند، متعلقہ پولیس حکام، تحقیقاتی اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے میں قانون کی مکمل بالادستی قائم رکھتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے،* جہاں قابلِ اطلاق ہو، بھارتیہ نیایا سنہتا (Bharatiya Nyaya Sanhita, 2023) کی ان دفعات کے تحت کارروائی کی جائے جو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، مذہبی منافرت کو فروغ دینے، عوامی امن و امان کو متاثر کرنے یا مختلف طبقات کے درمیان دشمنی و اشتعال پیدا کرنے سے متعلق ہیں، اگر دیگر متعلقہ قوانین بھی لاگو ہوتے ہوں تو ان کے مطابق بھی بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ہمارا مطالبہ کسی فرد یا گروہ کے خلاف غیر قانونی اقدام، تشدد یا انتقام کا نہیں بلکہ قانون کے یکساں اور غیر جانبدارانہ نفاذ کا ہے، قانون کی حقیقی بالادستی اسی وقت قائم ہوتی ہے جب ہر شخص، خواہ اس کا سماجی یا سیاسی مقام کچھ بھی ہو، قانون کے سامنے برابر ہو اور اگر اس کے خلاف قابلِ عمل قانونی بنیاد موجود ہو تو اس کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کی جائے،
ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مذہبی مقدسات کے احترام کا تحفظ صرف مسلمانوں ہی کا نہیں بلکہ ایک مہذب اور کثیر مذہبی معاشرے کے استحکام کا بھی تقاضا ہے، جب کسی بھی مذہب کی مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے تو اس سے آئینی اقدار، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو تقویت ملتی ہے،ہم اپنے تمام اہلِ وطن سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور مقدسات کا احترام کریں، کیونکہ باہمی احترام ہی امن، انصاف اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت، کامل ادب اور آپ ﷺ کی سنت پر ثابت قدمی عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ آپ ﷺ کی عظمت و حرمت کو زندہ رکھے،جان، مال، عزت، اولاد اور ہمارا سب کچھ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر قربان، *لبیک لبیک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم*

               *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*