آج اچانک آئینۂ دل میں اپنی ہی پرانی تصویر اُبھر آئی۔

وہی بے فکر سا انسان، جو ہنستا تھا تو محفل مہک اٹھتی تھی، بولتا تھا تو باتوں کا سلسلہ تھمتا ہی نہ تھا۔ زندگی جیسے اُس کے لہجے میں رواں رہتی تھی۔ ہر لمحہ ایک تازگی، ہر بات میں ایک اپنائیت ہوا کرتی تھی۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں، کیا واقعی وہی انسان ہوں جو کبھی قہقہوں میں جیا کرتا تھا؟

مگر نہ جانے وقت نے کون سا موڑ لیا کہ اب خاموشی نے وجود کو اپنی چادر میں اس طرح لپیٹ لیا ہے کہ بولنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ ہنسی کہیں دور جا بیٹھی ہے اور آنکھوں میں اُداسی نے مستقل بسیرا کر لیا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے درد اور تکلیف سے ایک عجیب سا رشتہ قائم ہوگیا ہو۔ اب دل خوشیوں سے زیادہ تنہائی کو سمجھنے لگا ہے، اور خاموش رہ کر خود سے باتیں کرنا اچھا لگنے لگا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج جب آئینۂ دل میں اپنی بدلی ہوئی تصویر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ انسان وقت کے ہاتھوں بدلتا ہے یا اُن کتابوں کا بھی نتیجہ ہوتا ہے جو وہ پڑھتا ہے، اُن صحبتوں کا اثر ہوتا ہے جنہیں وہ اختیار کرتا ہے، اُن آوازوں کا عکس ہوتا ہے جو اُس کے کانوں میں اترتی ہیں، اور اُن قدموں کا انجام ہوتا ہے جن راستوں پر وہ چلتا ہے۔

زندگی کے سفر میں ہم انجانے ہی میں اپنے اندر ایک دنیا آباد کرتے رہتے ہیں؛ پھر ایک دن وہی دنیا ہمارے لہجے، ہماری خاموشیوں اور ہماری مسکراہٹوں کا پتہ دیتی ہے۔ شاید میں بھی اُسی ماحول، اُسی سوچ اور اُسی سفر کا مسافر ہوں جس نے آہستہ آہستہ میرے اندر کے اُس انسان کو بدل دیا۔

آخرکار انسان اپنا ٹھکانہ خود منتخب کرتا ہے؛ کبھی اُن بلندیوں کی طرف جہاں روشنی مقدر بنتی ہے، اور کبھی اُن پستیوں کی طرف جہاں گمراہی اپنا گھر بنا لیتی ہے۔

"وقت نے صرف چہرہ نہیں بدلا، اندر کی دنیا بھی بدل دی؛ اب وہی آنکھیں ہیں، مگر دیکھنے کا انداز بدل گیا ہے۔
شاید یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا لیتا ہے۔"