حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت و مقام احادیث مبارکہ اور اکابرِ دیوبند کے عقائد کی روشنی میں 🪶
احادیث مبارکہ کی روشنی میں
دلیل نمبر-1
"عن يعلى بن مرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حسين مني وأنا من حسين، أحب الله من أحب حسينا»."
ترجمہ:
"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے۔"
(جامع الترمذی: 3775)
=========================================
دلیل نمبر-2
عن عبد الله رضي الله عنه رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد الحسن والحسين ويقول: هذان ابناي فمن أحبهما فقد أحبني ومن أبغضهما فقد أبغضني.
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے کہ یہ میرے بیٹے ہیں، جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے نفرت کرتا ہے تو وہ مجھ سے بھی نفرت کرتا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء للذھبی: ج 3 ص 145 ترجمۃ الحسین الشھید رضی اللہ عنہ)
=========================================
دلیل نمبر-3
"عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»."
ترجمہ:
"حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔"
(جامع الترمذی: 3768)
=========================================
اکابرِ دیوبند کے عقائد کی روشنی میں
عبارت نمبر-1
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، امام حسینؓ کے لیے لقب ”سید الشہداء“ سے متعلق تحقیق میں فرماتے ہیں:
"نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے الحسن والحسین سیدا شباب اھل الجنۃ (یعنی حسینؓ و حسنؓ اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں) اور ظاہر ہے کہ شباب (نوجوانوں) میں شہداء بھی ہیں تو ان کے بھی سردار ہوئے تو سید الشہداء ہونا بے تکلف نص سے ثابت ہو گیا "
(امداد الفتاویٰ جلد چہارم ص ۵۹۸)
=========================================
عبارت نمبر-2
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نہ صرف صحابی ہیں بلکہ قرابتِ نبوی کی خصوصیت سے بھی مالا مال ہیں جو اہل بیت کا مخصوص حصہ تھا اور اس کی بنا پر ان کی قلبی تطہیر اور رجس و نجسِ باطن سے پاکی اور بھی زیادہ مؤکد ہو جاتی ہے، کیوں کہ خدائے برتر نے اہل بیت کی تطہیر کا خصوصی ارادہ و ظاہر فرمایا:
اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو! تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو پاک و صاف رکھے۔"
(تلخیص کتاب: شہیدِ کربلا اور یزید)
=========================================
عبارت نمبر-3
متکلم اسلام مولانا الیاس گھمن حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
"مقدس ہستیوں میں سے کسی ایک سے بغض رکھنا یا دونوں کے درمیان تفریق کرتے ہوئے ایک سے محبت اور دوسرے سے بغض رکھنا گمراہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی علامت ہے۔"
(کتاب العقائد: ص 40)
=========================================
عبارت نمبر-4
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
"صحابه کرام رضی اللہ عنہم کو نامناسب الفاظ سے یاد کرنا، برا بھلا کہنا، سب و شتم کرنا، گالم گلوچ کرنا اور لعن طعن کرنا حرام ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے۔"
(کتاب العقائد: ص 40)
=========================================
عبارت نمبر-5
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
"امام حسین رضی اللہ عنہ اہل بیت میں شامل ہیں۔ اہل بیت کو دوہری عظمت حاصل ہے، ایک ایمان اور دوسرا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری۔ اہل بیت سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کی وجہ سے اہل بیت کا احترام امت پر فرض ہے۔"
(اسلامی عقائد: 21)
=========================================
خلاصہ
اکابرینِ دیوبند کا عقیدہ:
محبتِ اہل بیت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا۔ ہمارے علماء نے سکھایا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت دراصل حضور ﷺ سے محبت ہے۔
مگر یہ محبت، شریعت اور سنت کے دائرے کے اندر ہے۔
Follow for more 👇🏻
https://www.instagram.com/muhibb_e_ahnaf?igsh=c2JpYWdxcTljOXEw