ہجری سال کا آغاز واقعۂ ہجرت سے کیوں ؟؟
پچھلا ہجری سال ختم ہوکر،  نیا سال شروع ہو چکا؛ لیکن شاید کسی نے بھی یہ غورنہیں  کیا ہوگا کہ اس سالانہ اختتام و آغاز میں تاریخ اسلام کے کیسے عظیم واقعہ اور انقلاب کی یاد پوشیدہ ہے؟
تاریخ عالم کاوہ عظیم الشان واقعہ جس کی یاد سال کے اس اختتام و آغاز میں پوشیدہ ہے، ہجرت نبوی ؐ  کا واقعہ ہے؛ چناں چہ ہر سال جب ذی الحجہ کا مہینہ ختم ہوتا ہے اور محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتا ہے، تو اس عظیم الشان واقعے کی یاد ہمارے دل و دماغ کے اندر تازہ ہو جاتی ہے۔
اور  اسی ماہ کی دسویں تاریخ میں کربلا کا مشہور حادثہ (سیدنا حضرت حسین ؓ  کی شہادت کا دردناک واقعہ ) وجود میں آیا، یہ حادثہ اتنا دردناک تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا گیا، اس کی یادگار ایک ماتمی حیثیت اختیار کرتی گئی، یہاں تک ماہ محرم کی آمد سے متعلق تمام یا دیں صرف اسی حادثہ کے تذکرے میں محدود ہو کر رہ گئیں اور دوسرے تمام پہلو فراموش کر دیے گئے۔
اس میں شک نہیں کہ حادثۂ کربلا کی المناکیاں نا قابل فراموش ہیں، لیکن ہمارے ذہن و فکر کی بہت بڑی غفلت ہوگی اگر ہم اس حادثے میں غرق ہو کر اس مہینے سے متعلق عبرت و نصیحت کے دوسرے تمام پہلوؤں کو بالکل فراموش کر جائیں۔

سنہ ہجری کی ابتدا ( آغاز )
اسلام کے ظہور سے پہلے دنیا کی مہذب قوموں میں متعدد تاریخیں اور حسابات رائج تھے، زیادہ مشہور یہودی ، رومی اور ایرانی تاریخیں تھیں ۔ عرب کے لوگ دور جاہلیت میں اس قدر مہذب نہ تھے کہ ان کو حساب و کتاب کی کسی وسیع پیمانے پر ضرورت ہوتی۔ ضرورت پڑنے پر وہ ملک کا کوئی مشہور واقعہ لے لیتے اور اسی سے وقت کا حساب لگاتے تھے، جیسے عام الفیل ، یعنی ابر ہہ(حاکم یمن) کے ہاتھیوں کے لشکر کے ذریعہ مکہ مکرمہ پرحملہ کرنے کا سال وغیرہ ۔
یہی حالت رسول اللہ ؐ کی وفات کے بعد تک رہی ، لیکن جب حضرت عمر فاروق ؓکا عہد خلافت شروع ہوا تو ممالک مفتوحہ کی وسعت اور مختلف دفاتر کا قیام عمل میں آجانے کی وجہ سے حساب و کتاب کا دائرہ زیادہ وسیع ہو گیا اور سرکاری طور پر تاریخ کے تعین کی ضرورت محسوس ہوئی، چناں چہ ایک دفعہ حضرت ابو موسی اشعری ؓ نے -جو یمن کے حاکم تھے- حضرت عمر ؓکو خط لکھا کہ آپ کی جانب سے جو خطوط ہمارے پاس آتے ہیں ان میں کوئی تاریخ نہیں ہوتی ، آئندہ تاریخ بھی لکھیں۔
حضرت عمر ؓ کو خود بھی پہلے سے تاریخ کے تعین و تقرر کا احساس تھا، جب حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے لکھا تو اور بھی زیادہ توجہ ہوگئی، چناں چہ حضرت عمر ؓنے صحابہ کرام کو جمع کر کے ان سے مشورہ طلب کیا کہ اسلامی تاریخ کی ابتدا کس واقعہ سے کی جائے؟

واقعہ ہجرت کا انتخاب اور اُس کی وجہ :

جب یہ سوال سامنے آیا کہ اسلامی سن کی ابتدا کس واقعہ سے کی جائے؟ تو صحابہ کرام کے سامنے درج ذیل واقعات تھے:
(۱) رسول الله ؐ کی ولادت با سعادت ۔ (۲) بعثت اور نزول وحی کی ابتدا ۔ (۳) بدر کی شاندار فتح ۔ (۴) مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہونے کا واقعہ۔ (۵) حجۃ الوداع کا عظیم اجتماع جو اسلام کی ظاہری اور معنوی تکمیل وفتح کا آخری اعلان تھا۔ (۶) پیغمبر اسلام ؐکی وفات کا عظیم سانحہ۔

لیکن ان سب واقعات میں سے کوئی بھی واقعہ اختیارنہیں کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا واقعہ یقینا سب سے بڑا واقعہ تھا، لیکن اس کے تذکرے میں شخصیت سامنے آتی تھی شخصیت کا عمل سامنے نہیں آتا تھا، نیز اس میں نصاری (ریسائیوں) کے ساتھ فی الجملہ مشابہت بھی تھی۔ بعثت کا واقعہ بھی بہت عظیم واقعہ تھا، لیکن وہ معاملے کی ابتدا تھی، تکمیل اور انتہا نہ تھی اور اس وقت اکثر لوگ کفر و شرک کی گمراہی میں تھے۔
بدر کی جنگ اور فتح مکہ اگر چہ عظیم واقعات تھے ؛لیکن وہ اسلام کی فتح اور عروج واقبال کی بنیادنہ تھے؛ بلکہ کسی دوسری بنیاد کے نتائج و ثمرات تھے۔ اور رسول اللہ ان کی وفات حادثہ کبری اور مصیبت عظمی تھی ، اس سے اگر اسلامی تاریخ کی ابتدا ہوتی تو وہ دن اس صدمے کی یادگار بن جاتا اور ہر سال اس کی یاد تازہ ہوتی رہتی ؛ اس لیے ان میں سے کسی واقعے پر صحابہ کرام ؓکی طبیعت مطمئن نہ ہو سکی۔ بالآخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مشورہ دیا کہ واقعہ ہجرت سے ابتدا کی جائے، یہ رائے اتنی چی تلی اور بہتر تھی کہ فوراً حضرت عمر ؓ کے دل میں اتر گئی اور سبھوں نے قبول کر لیا، گویا ایک بھولی ہوئی بات تھی جو دفعتا سب کے حافظے میں تازہ ہوگئی۔ اس طرح ہجرت کے سترہ سال بعد ۲۰ جمادی الاخری سنہ ۱۷ھ کو اسلامی تاریخ کی بنیاد ڈالی گئی اور واقعہ ہجرت کو اس کا مبدا ( آغاز ) قرار دیا گیا۔

خامہ بکف: محمد احمد اسلمی مدھوبنی
شریک دورۂ حدیث شریف
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند