محمد صادق اصلاحی ندوی 

الحمد للہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ، أما بعد:

ملتِ اسلامیہ ہندیہ اس وقت جن فکری، تہذیبی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں سب سے زیادہ خطرناک بحران غلامانہ ذہنیت کا فروغ ہے۔ غلامانہ ذہنیت سے مراد یہ ہے کہ کوئی قوم اپنے دین، تہذیب، فکر اور اجتماعی قوت پر اعتماد کھو بیٹھے، اپنے بارے میں احساسِ کمتری کا شکار ہو جائے، اپنے مخالفین کی فکری برتری کو بلا تنقید قبول کرلے اور اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے۔

یہ صورت حال صرف سیاسی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی بحران ہے، جس کے اثرات دین، تعلیم، معیشت، سیاست اور اجتماعی وجود سب پر مرتب ہوتے ہیں۔

غلامانہ ذہنیت کے بنیادی اسباب و عوامل

1۔ ایمانی و فکری کمزوری
قرآن نے واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کی قوت کا اصل سرچشمہ ایمان، یقین اور اللہ پر اعتماد ہے۔ جب ایمان کی حرارت کمزور ہوتی ہے تو افراد اور قومیں ظاہری طاقتوں سے مرعوب ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾
"کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔" (آل عمران: 139)»

2۔ تاریخ سے ناواقفیت
مسلمانوں کی نئی نسل اپنی علمی، تہذیبی اور تمدنی تاریخ سے ناواقف ہوتی جارہی ہے۔ جس قوم کو اپنی عظمتِ رفتہ کا شعور نہ ہو، وہ دوسروں کی تاریخ میں اپنی شناخت تلاش کرنے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ ذہنی غلامی کا شکار ہوجاتی ہے۔

3۔ تعلیمی نظام کی ناکامی
ایسا نظامِ تعلیم جو کردار، خود اعتمادی، تنقیدی فکر اور قیادت پیدا کرنے کے بجائے صرف ملازمت کے امیدوار تیار کرے، وہ غلامانہ ذہنیت کو فروغ دیتا ہے۔ افسوس کہ دینی اور عصری دونوں تعلیمی حلقوں میں اس پہلو پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔

4۔ سیاسی بے بصیرتی اور قیادت کا بحران
اجتماعی قیادت کا ایک حصہ وقتی مصلحتوں، خوف یا ذاتی مفادات کے تحت قوم میں جرأت، عزتِ نفس اور خود اعتمادی پیدا کرنے کے بجائے محض ردِّ عمل کی سیاست کو فروغ دیتا رہا، جس سے قوم دفاعی نفسیات میں مبتلا ہوگئی۔

5۔ معاشی پسماندگی
معاشی انحصار انسان کو نفسیاتی طور پر بھی کمزور بناتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری کے نتیجے میں قوم اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔

6۔ فرقہ وارانہ انتشار
باہمی اختلافات نے ملت کی اجتماعی قوت کو منتشر کردیا۔ جب قوم چھوٹے چھوٹے دائروں میں بٹ جائے تو بڑے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔

7۔ خوف کی نفسیات
مسلسل تشدد، امتیازی سلوک، میڈیا ٹرائل اور سماجی دباؤ بعض طبقات میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ اگر اس خوف کا علاج حکمت، علم اور اجتماعی تنظیم کے ذریعے نہ کیا جائے تو یہ مستقل غلامانہ ذہنیت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

اس غلامانہ ذہنیت کے خطرناک نتائج
دینی اعتبار سے
- پسماندہ اور کمزور علاقوں میں دینی تعلیم کی کمی کے باعث ارتداد اور مذہبی بے راہ روی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
- اسلامی تشخص سے شرمندگی پیدا ہونے لگتی ہے۔
- دین کو محض نجی عبادات تک محدود سمجھا جانے لگتا ہے۔
- نئی نسل کے ذہنوں میں دین کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔

دنیاوی اور اجتماعی اعتبار سے
- قوم اپنے آئینی و قانونی حقوق کے دفاع سے دست بردار ہونے لگتی ہے۔
- تعلیمی، معاشی اور سیاسی میدانوں میں مزید پسماندگی پیدا ہوتی ہے۔
- اجتماعی ادارے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔
- عبادت گاہوں، مذہبی شناخت اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیے مؤثر اور منظم جدوجہد کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
- دوسروں کی خوشنودی کو بقا کا واحد راستہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کا حل

1۔ ایمان اور یقین کی تجدید
مساجد، مدارس اور گھروں میں ایمان افروز تعلیم، قرآن فہمی اور سیرتِ نبوی کی روشنی عام کی جائے تاکہ اللہ پر اعتماد بحال ہو۔

2۔ معیاری تعلیم کا فروغ
ایسی نسل تیار کی جائے جو دین اور دنیا دونوں علوم سے بہرہ مند ہو، تنقیدی شعور رکھتی ہو اور قیادت کی صلاحیت رکھتی ہو۔

3۔ تاریخ اور تہذیبی شعور کی بازیافت
مسلمانوں کی علمی و تمدنی خدمات کو نئی نسل کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ احساسِ کمتری ختم ہو اور مثبت خود اعتمادی پیدا ہو۔

4۔ معاشی خود کفالت
تعلیم، ہنر، تجارت اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کیا جائے، کیونکہ معاشی آزادی ذہنی آزادی کی بنیاد ہے۔

5۔ اتحاد اور اجتماعی تنظیم
فقہی، جماعتی اور مسلکی اختلافات سے بلند ہوکر مشترکہ مسائل پر متحدہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔

6۔ قانونی اور آئینی بیداری
ملک کے دستور اور قانونی حقوق سے واقفیت پیدا کی جائے اور تمام جمہوری و قانونی ذرائع کے ذریعے اپنے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کی جائے۔
7۔ جرأت مند اور باصلاحیت قیادت کی تیاری

ایسی قیادت سامنے آئے جو قوم میں خوف نہیں بلکہ امید، عزتِ نفس، حکمت اور مثبت جدوجہد کا جذبہ پیدا کرے۔

غلامانہ ذہنیت کسی بھی قوم کے لیے موت کی دستک ہوتی ہے، کیونکہ قومیں پہلے میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ذہنوں میں شکست کھاتی ہیں۔ ملتِ اسلامیہ ہندیہ کو بھی سب سے پہلے اپنی فکری شکست، احساسِ کمتری اور خوف کی نفسیات سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ البتہ اس جدوجہد کی بنیاد جذباتی ردِّ عمل نہیں بلکہ ایمان، علم، حکمت، اتحاد، آئینی شعور اور مثبت تعمیر ہونی چاہیے۔

قرآن کا پیغام آج بھی یہی ہے:

«﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔" (الرعد: 11)»

اگر ملت اپنے اندر علم، ایمان، خود اعتمادی اور اجتماعی نظم پیدا کرلے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ دوبارہ عزت و وقار کے ساتھ اپنے دینی تشخص، آئینی حقوق اور تہذیبی وجود کا تحفظ نہ کرسکے۔