🍁*بول کہ لب ازاد ہیں تیرے*🎤
_______________________________
✍🏻 *گل رضاراہی ارریاوی*
*متعلم: دارالعلوم دیوبند*
٦محرم الحرام ١٤٤٨ھ
_______________________________
انسان اور دیگر جانوروں میں فرق یہ ہے کہ انسان میں نطق کا مادہ ہے،منطق کی زبان میں حیوانات میں تمام جانور شامل ہیں؛ مگر انسان قوت نطق کی وجہ سے دیگر حیوانات سے ممتاز ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے اس کو حیوان ناطق کہتے ہیں-
نطق کہتے ہیں عقل و شعور، فکر و تدبر کی روشنی میں مافی الضمیر کو ادا کرنا اور دلیل کی روشنی میں با مقصد گفتگو کرنا -
نطق کے استعمال کے لیے اللہ رب العزت نے زبان عطا فرمائی ،زبان دیگر جانوروں میں بھی ہے مگر وہ اس سے صرف کھانے، پینے اور اس طرح کی دیگر چیزوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر انسان اس زبان سے بہت سی چیزوں کا اظہار کرتا ہے ،وہ بامقصد گفتگو کرتا ہے، اس لحاظ سے انسان کی زبان بڑی اہمیت رکھتی ہے اور یہ اللہ تعالی کی عظیم نعمت سمجھی جاتی ہے-
زبان کے ذریعے انسان فنون لطیفہ ،فکرو تدبر اور ندرت اسلوب کے ساتھ حسین پیرائے میں اپنے مافی الضمیر کو ادا کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان شرف و فضیلت حاصل کرتاہے -
یہ بڑی نعمت ہے،اس سے افہام وتفہیم میں بہت مدد ملتی ہے،لہذااس کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں اس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنا چاہیے؛ لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، ہم اس نعمت کو ضائع کرتے ہیں-
ضائع کرنا دو طرح کا ہو سکتا ہے، ایک ضائع کرنا تو یہ ہے کہ ہم فضول اس کا استعمال کریں، جہاں استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہو، وہاں استعمال کریں، مثلا فحش گوئی، دروغ گوئی ،جھوٹ، بہتان، الزام تراشی، لا یعنی گفتگو اور کثرت کلام میں،یہ سب نعمت کو ضائع کرنا ہے -
دوسرا ضائع کرنا اس طرح ہے کہ جہاں کلام کی ضرورت ہو، جہاں اظہار مافی الضمیر کی حاجت ہو، جہاں محسوس ہو کہ ہم بولیں ؛مگر ہم خاموش رہیں ، یہ بھی نعمت الہی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے -
نعمت الہی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اس کا صحیح جگہ استعمال کریں ،ضرورت پر استعمال کریں اور عدم ضرورت پر اس کے استعمال سے گریز کریں ؛لیکن ہم ایسا نہیں کر رہے ہیں، اس کا الٹا کر رہے ہیں کہ جہاں گفتگو کی ضرورت نہیں ہے ،وہاں گفتگو کرتے ہیں ،غیبت، جھوٹ بہتان ،الزام تراشی اور لایعنی کلام میں اپنی زبان کو استعمال کر رہے ہیں، جو کہ صحیح نہیں ہے اور جہاں ضرورت ہے مثلا دینی حمیت ، نعمت الہی کے شکر ، حق و صداقت کی بلندی ، اعلان توحید ،عدل و انصاف ،ظلم وستم کو بیان کرنےکے لیے ،مظلوم کےلیے ،
یہ سب محل ہیں جہاں ہم اپنی زبان کو استعمال کریں،اس کی قوت کا اظہار کریں ؛ مگر ہم ان سب چیزوں کے لیے زبان استعمال نہیں کر رہے ہیں ؛ گویا ہم نہ تو حیوان ناطق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور نہ ہم نعمت الہی کی قدر کر رہے ہیں ،جب کہ ہماری زبان آزاد ہے، ہمارے لب آزاد ہیں کہ ہم اس کو صحیح جگہ استعمال کرسکتے ہیں، ہم صرف اس لیے زبان کو بند نہیں کر سکتے، تاکہ ہم ظلم سے محفوظ رہیں اور ظالم کی نظر سے بچ سکیں؛ لیکن ہم بچیں گے نہیں کیونکہ ہماری خاموشی اور ہمارا سکوت دونوں ظلم کو بڑھاوا دیتا ہے ،اس سے مزید ظالم کو قوت ملتی ہے اس کی جرأت میں اضافہ ہوتا ہے، یہ جرأت ایک دن ہمارے گھر کو تباہ کردے گی -
تاریخ شاہد جب ظلم پر خاموشی برتی گئی ،اس پر سکوت اختیار کیا گیا تو ظلم کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور ظلم بڑھنے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ شروع میں اس کا قلع قمع نہیں ہوتا تو پھر نسلیں تباہ ہوجاتی ہے ،اس ظلم کو مٹانے میں گویا ایک نسل کی خاموشی کئی نسلوں کے نقصان کا باعث بنتی ہے -
اس لیے ہم زبان کا صحیح استعمال کریں ، حق و صداقت کے لیے لب کشا ہوں، یہ زبان ابھی تمہاری ہے ،اس پر کوئی قفل نہیں لگی ہے،تمہارے ہونٹ ،تمہاری زبان بولنے کی آزادی رکھتی ہے، یہ آزادی اللہ نے دی ہے ؛ اس لیے بولو !
اپنا حق مانگو ،اپنے حق کی صدا بلند کرو ،اسی لیے شاعر نے کہا:
*بول کہ لب آزاد ہیں تیرے*
بول زباں اب تک تیری ہے