*ماہِ محرم ہمیں کیا سبق دیتا ہے* ؟

---

✍🏻 گل رضاراہی ارریاوی
متعلم: دارالعلوم دیوبند
٢٨ ذی الحجہ ١٤٤٧ھ، بروز پیر 

---

اللہ ربّ العزت نے اسلامی تعلیمات میں بے شمار حکمتیں اور خصوصیات رکھی ہیں۔ جس طرح دینِ اسلام کے احکام میں گہرائی اور معنویت پائی جاتی ہے، اسی طرح اسلامی مہینوں میں بھی بے پناہ برکتیں اور اسباق پوشیدہ ہیں۔ انہی مہینوں میں ایک عظمت والا مہینہ ماہِ محرم ہے، جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ بھی ہے۔

قرآنِ کریم کی رو سے یہ مہینہ ان حرمت والے مہینوں میں شامل ہے جن میں قتل و قتال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ مہینہ امن، سکون اور احترامِ انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں بھی اس مہینے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں، اور خصوصاً یومِ عاشورہ کا روزہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

تاریخی اعتبار سے بھی ماہِ محرم کو ایک خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ اسی مہینے میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میدانِ کربلا میں عظیم قربانی پیش کی۔ یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا نہایت دردناک مگر سبق آموز باب ہے، جو ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔

حضرت امام حسینؓ کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کو ہر حال میں صبر و استقامت اختیار کرنی چاہیے، اور دینِ حق کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ واقعۂ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے حق پر ڈٹے رہنا ہی کامیابی ہے۔

مزید برآں، ماہِ محرم ہمیں امن و آشتی قائم کرنے، باہمی اختلافات ختم کرنے، اور حقوقِ انسانیت کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں اپنے ماضی کا جائزہ لینے، اپنی کوتاہیوں پر ندامت ظاہر کرنے اور اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کر کے نئی، پاکیزہ زندگی شروع کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اگر ہم اس مہینے کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو ہماری زندگی سنتِ نبوی کے مطابق ڈھل سکتی ہے، جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔

الغرض، ماہِ محرم صرف ایک اسلامی مہینہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے صبر، قربانی، حق پسندی، امن، محبت اور اصولوں پر قائم رہنے کا عظیم پیغام ہے۔