له دعوۃ الحق 
____________________________
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 
متعلم دارالعلوم دیوبند 
٤محرم الحرام ١٤٤٨ھ
____________________________

       انسان کی زندگی میں کبھی ایسا موڑ آتاہے جس میں اسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا،حیران پریشان ہوتاہے ،راہیں مسدود نظر آتی ہے،آس پاس کی سبھی روشنیاں ، چمک دمک ،چہل پہل ،ہجوم و نجوم ،آفتاب و ماہتاب سب مدھم پڑ جاتے ہیں،ایسے وقت میں انسان کی نگاہ صرف ایک ذات واحد کی طرف اٹھتی ہے جس نے انسان کے اندر اس فطرت کی تخلیق کی ہے- چونکہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ ایسی ذات کا اقرار کرے جس کے پاس کائنات کے تمام مسائل کا مکمل حل ہے ،کائنات کا خالق ہے ،فکر وفن کا شاہکار خالق ہے،انسانی حیات کا تن تنہا مالک ہے-

     آپ اس کو تاریخی رو سے بھی دیکھ سکتے ہیں، اول البشر حضرت آدم علیہ السلام سے جنت میں ایک چونک ہوئی، نتائج ظاہر ہونے لگے ،آدم علیہ السلام کو اپنی چونک کا ادراک ہوا،انجانے میں خالق کی نافرمانی کا احساس ہوا، پیشماں ہوۓ ایسے پریشانی کےعالم میں انہوں نے جس کو پکارا ،جس کی طرف صداۓ حق بلند کی ،جس کے سامنے سر بہ سجود ہوۓ وہ وہی ذات ہے جسے فطرت نے پکارا یعنی جو ابتدا تا انتہا کا خالق ،فنا و بقا کا مالک ہے،جس کےلیے" له دعوۃ الحق"ہے یعنی سچی پکار اسی کےلیے ہے
 آدم علیہ السلام نے پکارا "ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا لنکونن من الخاسرین "

   آدم ثانی حضرت نوح علیہ السلام کو ساڑھے نوسال کی زندگی ملی، انہوں نے اپنی زندگی کو دعوت وارشاد میں صرف کیا ،قوم نے پریشان کیا بیٹے" کنعان" نے بھی اپنے باپ کی ایک نہ سنی ، ،قوم نے نوح علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا، قوم نوح اپنے پیغمبر کو پریشان کرنے کےلیے جو کرسکتی تھی سب کیا بڑی بڑی سازشیں کی ایسی صورت میں نوح علیہ السلام نے جس کی طرف نظر اٹھائی اور جس کو پکارا وہ وہی ذات ہے جس کےلیے سچی پکار ہے،
پھر نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی تمام شکایتیں رب کے حضور پیش کیا اور پکارا :"قال نوح رب کا تذر علی الارض من الکافرین دیارا" الخ

      حضرت یونس علیہ السلام جب تین طرح کی تاریکیوں میں تھے رات کی تاریکی ،سمندر تہہ کی تاریکی اور مجھے کے شکم کی تاریکی ایسی جگہ جہاں مدد کرنے والا نہیں انہوں نے سچی پکار لگائی :فنادی فی الظلمات ان الا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین -

     حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کس قدر پر خطر تھی، بچپن میں بھائیوں کا پریشان کرکے کنویں ڈالنا ،پھر اس کو چند کوری میں بیچ دینا ،پھر عنفوان شباب میں زلیخہ کا اپنی طرف مائل کرکے ہتک عزت کا الزام عائد کرنا، بچے کی گواہی کے بعد بھی جیل میں ڈالا جانا ،یہ سب سخت حالات ہیں ایسے وقت یوسف علیہ السلام نے جس ذات کو یاد کیا وہ وہی ذات ہے جس کے لیے سچی پکار ہے -

   حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے جب بدتمیزی کی اور یہ حد سے بڑھی تو انہوں نے جس کو پکارا وہ وہی ذات ہے -

حضرت کی ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو جس کو پکارا وہ وہی ذات ہے-

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون مارنے کا منصوبہ بنایا تو ایسے جس کو پکارا وہ وہی ذات ہے ـ

    حضرت عیسی علیہ السلام کو جب اس کی قوم نے سولی دینا چاہا تو اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس ذات کو پکارا وہ ہی ذات ہے-

     حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دیکھیے، یتیم پیدا ہوۓ ،کچھ بڑے ہوۓ تو ماں گزر گئی ،دو سال بعد دادا بھی چلے گیے ،پھر چچا نے پرورش کی ،جب عمر کےایک کے خاص حصہ پر پہونچے تو خواب کا سلسلہ شروع ہوا ،وحی کا نزول ہونے لگا،نبوت کے اعلان کا حکم ہوا تو سب آپ کے دشمن بن گیے حتی کہ قریبی رشتہ دار بھی ،کس طرح سے قریش اور دیگر لوگوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ ظلم کو روا رکھا حتی آپ کو مکہ چھوڑنا پڑا ،مدینہ گیے وہاں انہوں نے پریشان کرنا نہیں چھوڑا، غزوۂ بدر میں تین سو تیرہ سامنے ایک ہزار کا لاؤ لشکر یہ دیکھ حضور نے کیا فرمایا ان تمام حالات میں حضور نے جس ذات کو پکارا جس سے ان حالات سے نکلنے کی صدا لگائی وہ وہی ذات ہے جو قادر مطلق ہے اور اللہ تعالیٰ نے سب کو مشکل حالات سے نکالا اور ان کی پریشانی کو دور کیا-۔
آپ سوچیے!
کہ انسان ( قطع نظر اس کے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے) جب پریشان ہوتاہے ،اس کی مدد کےلیے کوئی تیار نہ ہو اور وہ دنیا کی چیزوں سے مایوس ہوجاۓ ،زندگی سے اس کوگھٹن محسوس ہو تو ایسے پریشانی کےوقت میں اس کی فطری آواز جو اس کے قلب سے نکلتی ہے ، وہ جس کو یاد کرتاہے وہ وہی ذات ہےجس کےلیے سچی پکار ہے -

    جو لوگ خدا کے وجود قائل نہیں ہیں ، وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی خدا نہیں ، اپنے محدود عقل لا محدود ذات کی ضد و عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے ہیں، جب ان کی جان پر بن آتی ہے، تو اسے بھی وہی ذات نظر آتی ہے بعد میں جاکر اس کا انکار کردے وہ الگ بات ہے -

     قرآن نے بھی اس کو سورہ یونس آیت ؀٢٢/؀٢٣ میں بیان کیا : کہ یہ وہی ذات ہے جو تمہیں پھراتاہے خشکی اور تری میں حتی کہ جب تم کشتی پر ہوتے ہو اور کشتیاں موافق ہواکے ساتھ چلتی ہے لوگوں اس کشتی سے لوگ خوش ہوتے ہیں پھر اچانک تیز و تند ناموافق ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی ہے وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم پھنس گئے تو انہوں نے اللہ کو خالص کرکے پکارا یہ اللہ کا پکارنا ہی فطری آواز ہے
اب آگے انسان کی فطرت کو بیان کررہے ہیں کہ اگر ہم ان کو اس سے نجات دیں تاکہ یہ شکر گزار بندہ بن جاۓ ،چنانچہ جب ہم نے ان کو نجات دی تو اچانک وہ زمین میں سرکشی کرنے لگے ،یعنی انسانی فطرت یہ ہے کہ جب ان پریشانی آتی ہے تو بھیگی بلی کی طرح خدا کو پکارتاہے اور جب پریشانی نجات مل جاتی ہے تو اس کو اپنی طاقت و قوت سمجھتا ہے اور خود طرم خان گمان کرتاہے تو یہ ناشکرا پن انسان کے مزاج میں ہے ،اس لیے آج کل کچھ لوگ حقیقی خدا کا انکار کردے یا پھر اس منھ موڑ لے تو چنداں تعجب کی بات نہیں-

    اس وقت لوگ جو طاقت وقوت کے نشہ میں آکر خود کو خدا سمجھتے ہیں یا پھر ہر چیز سے خود بالاتر سمجھتے ہیں یہ تاریخ سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہے جب جان پر بن آۓ گی تو سچی پکار اسی اللہ کے لیے گا قرآن جسے بیان کیا:لہ دعوۃ الحق حق کی پکار اسی اللہ کےلیے خاص ہے-

   آج ہم پریشان ہیں ،ظلم وستم کی چکی میں پسے جارہے ہیں،پوری دنیا میں علی الاعلان لہ دعوۃ الحق سے بغاوت ہے ،جن لوگوں کا اس پر یقین ہے وہ خود اس پریشانی کے عالم میں اپنے رب کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو بھلا ہمیں نجات کیسے ملے گی ،جب اللہ تعالیٰ غیروں کی پکار پر اس کی پریشانی کو دور کردیتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ ہماری پریشانی کو دور نہیں کرے گا ،بس شرط ہے کہ ہم پکاریں تو سہی ،ان کے در کے غلام بنیں تو سہی، کل شیئ یعود الی اصله کا مصداق بنیں تو سہی،اگر ہم اپنی پریشانی اپنے رب سے بیان کریں تو ہمیں ضرور نجات ملے گی کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایاہے "أدعونی استجب لکم "اور له دعوۃ الحق"

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بارگاہ کا اسیر بناۓ آمین ثم آمین