"اسلام بدنام نہیں، ہم خود اسلام کو بدنام کر رہے ہیں"
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (109)
محترم مخلص میرے عزیز بھائیوں!. جب کوئی شخص اسلام پر اعتراض کرتا ہے تو ہمیں غصہ آتا ہے، لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا کہ اس اعتراض کی بنیاد کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض مقامات پر ہمارے اپنے اعمال ہی اسلام دشمنوں کے ہاتھ میں اعتراض کا ہتھیار بن گئے ہوں؟آج کے دور میں سوشل میڈیا، ذرائع ابلاغ اور عام گفتگوؤں میں ایک بات بار بار سننے کو ملتی ہے کہ مسلمانوں کے محلے گندے ہوتے ہیں، ان کے گرد و پیش میں صفائی کا فقدان ہوتا ہے، گلیاں تعفن اور بے ترتیبی کا منظر پیش کرتی ہیں، اور ان کے رہن سہن میں سلیقہ کم نظر آتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض جگہوں پر یہ منظر حقیقت کا ایک حصہ بھی ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسلام کی تعلیم ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ یا پھر یہ اسلام سے دوری اور اسلامی تعلیمات سے غفلت کا نتیجہ ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

،، اسلام کا معیار اور ہمارا طرزِ عمل،،
اسلام محض عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام نے انسان کو صرف نماز، روزہ اور حج ہی نہیں سکھایا بلکہ رہنے سہنے، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، لباس پہننے، صفائی اختیار کرنے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے اور معاشرتی زندگی کے ہر گوشے میں بہترین اصول عطا کیے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ"پاکیزگی نصف ایمان ہے۔(صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 534)
اسلام نے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا،
پڑوسیوں کے حقوق کی ایسی تاکید فرمائی کہ صحابۂ کرامؓ کو گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں بھی شریک کر دیا جائے گا۔ برتنوں، کپڑوں، جسم، گھر، مسجد اور ماحول کی صفائی کے تفصیلی احکام دیے گئے۔جو مذہب صفائی کو عبادت کا حصہ قرار دیتا ہو، وہ گندگی، بدبو، بے ترتیبی اور تعفن کو کیسے پسند کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے گھر، گلی یا محلے میں گندگی پائی جاتی ہے تو یہ اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے۔

،، الزام صرف مسلمانوں پر کیوں؟،،
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گندگی، بے ترتیبی اور غیر ذمہ داری صرف مسلمانوں کے معاشروں میں نہیں پائی جاتی۔ دنیا کے ہر مذہب، ہر قوم اور ہر طبقے میں ایسے افراد اور علاقے موجود ہیں جو صفائی اور نظم و ضبط سے دور ہیں، بلکہ بعض غیر مسلم معاشروں اور علاقوں میں یہ خرابیاں کہیں زیادہ شدت کے ساتھ پائی جاتی ہیں، لیکن وہاں انفرادی کوتاہیوں کو پورے مذہب کی تعلیمات قرار نہیں دیا جاتا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ جب یہی خرابی کسی مسلمان میں نظر آتی ہے تو بعض لوگ فوراً اسے اسلام سے جوڑ دیتے ہیں، جبکہ دوسروں کے بارے میں یہی معیار اختیار نہیں کیا جاتا۔

،، یہ دوہرا معیار انصاف کے خلاف ہے۔،،
اگر ایک مسلمان جھوٹ بولے تو اسلام کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، حالانکہ اسلام جھوٹ کو کبیرہ گناہ قرار دیتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان وعدہ خلافی کرے تو اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام تو وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان صفائی کا خیال نہ رکھے تو اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام تو پاکیزگی کا علمبردار ہے۔

، ،ایک خاموش سازش اور ہماری غفلت،،
یہ بھی حقیقت ہے کہ آج ایک مخصوص ذہنیت دانستہ یا نادانستہ مسلمانوں کی انفرادی غلطیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
آج صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض حلقوں میں یہ جملے عام سنائی دینے لگے ہیں کہ "مسلمانوں کے گھر کا پانی بھی نہ پیو"، "ان کے گھروں میں صفائی نہیں ہوتی"، "برتن کئی کئی دن تک جوں کے توں پڑے رہتے ہیں"، اور "ان کا رہن سہن ہی گندگی پر مبنی ہے"۔ پھر ان انفرادی یا مقامی خرابیوں کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا اسلام ہی صفائی، تہذیب اور نظم و ضبط کے خلاف تعلیم دیتا ہے۔حالانکہ یہ دعویٰ سراسر ناانصافی ہے۔ اسلام تو وہ دین ہے جو جسم، لباس، گھر، مسجد، راستے اور پورے ماحول کی پاکیزگی کا حکم دیتا ہے۔ حقیقت میں اگر کوئی مسلمان صفائی کے احکام پر عمل نہیں کرتا تو قصور اسلام کا نہیں بلکہ اس شخص کا ہے جو اپنے دین کی تعلیمات سے دور ہو چکا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ مسلمانوں کی عملی کمزوریوں کو اسلام کی تعلیمات بنا کر پیش کرتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک منظم فکری مغالطہ اور اسلام دشمن پروپیگنڈا جنم لیتا ہے۔ مسلمان کی غلطی کو اسلام کی غلطی بنا کر پیش کرنا، اسلام کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرنا ایک ایسا حربہ ہے جو مختلف شکلوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
کسی مسلمان کی گندگی اسلام کی تعلیم نہیں، جس طرح کسی ڈاکٹر کی بیماری علمِ طب کی ناکامی نہیں ہوتی۔ لیکن اس سازش کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب خود ہماری کوتاہیاں ہیں۔
دشمن اگر انگلی اٹھاتا ہے تو اس کے ہاتھ میں دلیل اکثر ہم خود تھما دیتے ہیں۔
اگر ہمارے گھر گندے ہوں، ہمارے بازار بے ترتیب ہوں، ہماری زبان جھوٹ سے آلودہ ہو، ہمارے معاملات بددیانتی سے بھرے ہوں اور ہماری زندگی اسلامی تعلیمات سے خالی ہو تو پھر اسلام دشمن عناصر کو پروپیگنڈے کا موقع مل جاتا ہے۔

،، اصل دشمن کون؟،،
یہاں ہر مسلمان کو خود سے ایک سوال کرنا چاہیے: اگر کوئی شخص آئینہ دکھائے اور ہمارے چہرے پر واقعی داغ موجود ہوں تو قصور آئینے کا ہے یا چہرے کا؟
یقیناً اسلام کو بدنام کرنے والا ہر شخص درست نیت نہیں رکھتا، لیکن اگر ہماری عملی زندگی بھی اسلام کے خلاف گواہی دے رہی ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہوگا۔
ہم نے چالاکی کو عقل مندی سمجھ لیا، جھوٹ کو مصلحت کا نام دے دیا، وعدہ خلافی کو معمول بنا لیا، امانت میں خیانت کو فائدہ مندی سمجھ لیا، اور صفائی و نظم و ضبط کو غیرضروری خیال کرنے لگے۔یہ رویے اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ اسلام کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔

،، ہماری ذمہ داری،،
وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان صرف اسلام کے دفاع کے نعرے نہ لگائیں بلکہ اپنی زندگیوں کو اسلام کا عملی نمونہ بنائیں۔
ہمارے گھر صفائی کا نمونہ ہوں، ہماری گلیاں ستھری ہوں، ہمارے بازار دیانت داری کی مثال ہوں، ہماری زبان سچائی سے مزین ہو اور ہمارے اخلاق اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں۔ جب ہمارا کردار قرآن و سنت کا آئینہ بن جائے گا تو دنیا کے تمام پروپیگنڈے خود بخود بے اثر ہو جائیں گے۔ آج اسلام کو ہمارے نعروں سے زیادہ ہمارے کردار کی ضرورت ہے۔ دشمن کی سازشوں سے باخبر رہنا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنی کمزوریوں کو دور کریں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں، گلیوں، محلوں اور معاشرے کو اسلامی تعلیمات کے مطابق پاکیزہ بنائیں گے، اپنی زندگیوں کو سچائی، امانت، حسنِ اخلاق اور صفائی سے مزین کریں گے، نہ خود اسلام کی بدنامی کا سبب بنیں گے اور نہ کسی کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع دیں گے۔
یاد رکھئے! اسلام آج بھی پاکیزگی، تہذیب، حسنِ معاشرت اور اعلیٰ اخلاق کا سب سے روشن اور چمکدار مینار ہے۔ اگر کہیں اندھیرا نظر آتا ہے تو قصور چراغ کا نہیں، بلکہ ان چہروں کا ہے جنہوں نے چراغ سے منہ موڑ لیا ہے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللّٰهِ
بقلم. محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com