تعلیمی اداروں کی منتظمہ کا احتساب: ایک قانونی، اخلاقی اور ادارہ جاتی ضرورت
محمد صادق اصلاحی ندوی
کسی بھی تعلیمی ادارے کی عظمت اس کی عمارتوں، روایات یا ماضی کے کارناموں سے نہیں، بلکہ اس کی مسلسل علمی نمو، فکری تازگی، تعلیمی ارتقا اور تربیتی اثر آفرینی سے قائم رہتی ہے۔ ماضی کی درخشاں تاریخ یقیناً قابلِ فخر سرمایہ ہوتی ہے، مگر صرف ماضی کے سہارے حال کی کمزوریوں کو چھپایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی مستقبل کی ضمانت حاصل کی جا سکتی ہے۔
اگر کسی ادارے کی منتظمہ کئی دہائیوں سے منصب پر فائز ہو، لیکن اس طویل مدت میں ادارے کے علمی معیار، تعلیمی نظام، تربیتی ماحول، فکری رہنمائی، تحقیقی سرگرمیوں، نصابی ارتقا، اساتذہ کی استعداد سازی، جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور انتظامی منصوبہ بندی کے میدان میں کوئی نمایاں اور قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہوئی ہو، تو یہ سوال اٹھانا نہ صرف جائز ہے بلکہ ادارے، قوم اور آنے والی نسلوں کے حق میں ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
احتساب کا مطلب ہرگز الزام تراشی، کردار کشی یا شخصی انتقام نہیں ہوتا۔ ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے میں احتساب کے واضح اصول ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے، منتظمہ کی کارکردگی جانچنے کے لیے معروضی اور قابلِ پیمائش معیارات متعین کیے جائیں۔ یہ دیکھا جائے کہ گزشتہ برسوں میں ادارے نے علمی، تعلیمی اور تربیتی میدان میں کیا پیش رفت کی؟ کتنے نئے منصوبے بنائے گئے؟ ان میں سے کتنے عملی شکل اختیار کر سکے؟ طلبہ کے معیار میں کیا اضافہ ہوا؟ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کیا اقدامات ہوئے؟ معاشرے میں ادارے کی اثر آفرینی میں اضافہ ہوا یا کمی آئی؟ فارغین کی علمی و عملی خدمات کا معیار کیا رہا؟ اور ادارہ اپنے عہد کے تعلیمی چیلنجوں کا کس حد تک جواب دے سکا؟
دوسرے، ایک آزاد، غیر جانب دار اور باصلاحیت جائزہ کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں ادارے کے اندر اور باہر کے معتبر ماہرینِ تعلیم، سابق طلبہ، مخلص اربابِ حل و عقد اور انتظامی امور سے واقف افراد شامل ہوں۔ یہ کمیٹی جذبات یا تعلقات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ شواہد، اعداد و شمار اور حقائق کی روشنی میں اپنی رپورٹ مرتب کرے۔
تیسرے، اگر کمزوریاں سامنے آئیں تو سب سے پہلے اصلاح اور بہتری کا موقع دیا جائے۔ واضح اہداف، متعین مدت اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کے ساتھ ادارے کی بحالی کا پروگرام مرتب کیا جائے۔ احتساب کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ ادارے کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
تاہم اگر مسلسل ناکامی، جمود، غیر مؤثر قیادت اور تبدیلی سے انکار کی کیفیت برقرار رہے، اور یہ ثابت ہو جائے کہ موجودہ انتظامیہ ادارے کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تو پھر ادارے کے مفاد کو شخصیات پر ترجیح دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں قیادت کی تبدیلی نہ بغاوت سمجھی جانی چاہیے، نہ بے وفائی اور نہ ہی گستاخی؛ بلکہ اسے ادارے کے ساتھ حقیقی خیر خواہی اور امانت کے تقاضے کی تکمیل سمجھا جانا چاہیے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے ادارے اپنی تاریخ کی عظمت کے باعث کچھ عرصہ عوامی اعتماد اور سابقہ روایات کے سہارے چلتے رہتے ہیں۔ لوگ چندہ دیتے رہتے ہیں، طلبہ آتے رہتے ہیں اور ظاہری نظام قائم رہتا ہے، لیکن اندر سے تخلیقی قوت، فکری حرارت اور تعلیمی روح ماند پڑ جاتی ہے۔ منصوبہ بندی ناپید ہو جاتی ہے، نئے امکانات کی تلاش ختم ہو جاتی ہے، اور ادارہ صرف "حسبِ سابق" چلنے کو ہی کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔
یہ کیفیت سب سے خطرناک جمود ہے؛ کیونکہ ادارے اچانک نہیں مرتے، بلکہ تدریجاً اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ ان کی عمارتیں باقی رہتی ہیں مگر اثر آفرینی ختم ہو جاتی ہے؛ نام باقی رہتا ہے مگر کردار مٹ جاتا ہے؛ تاریخ زندہ رہتی ہے مگر مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔
خاص طور پر وہ ادارے جنہوں نے ماضی میں بڑے بڑے رجالِ علم، اصحابِ فکر اور قائدانہ شخصیات پیدا کی ہوں، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر دور میں اپنی تجدید کرتے رہیں گے، نئے حالات کا ادراک کریں گے، جدید وسائل سے فائدہ اٹھائیں گے، اپنے مقاصد کو برقرار رکھتے ہوئے طریقۂ کار میں ارتقا پیدا کریں گے اور اپنے آپ کو محاسبے کے لیے پیش کریں گے۔
اسلامی تعلیمات بھی اسی اصول کی تائید کرتی ہیں کہ منصب امانت ہے، ملکیت نہیں؛ ذمہ داری ہے، استحقاقِ دائمی نہیں۔ حضرت عمر بن خطابؓ کا یہ قول تاریخ کے سنہری اصولوں میں سے ہے کہ: "جو شخص اپنے عمال کا محاسبہ نہیں کرتا، وہ ان کی خیانت میں شریک ہوتا ہے۔"
لہٰذا کسی تعلیمی ادارے کی منتظمہ کی اہلیت اور کارکردگی پر سوال اٹھانا، اس کے فیصلوں کا جائزہ لینا، اس سے منصوبہ بندی اور نتائج کا مطالبہ کرنا، اور ضرورت پڑنے پر قیادت کی تبدیلی کی بات کرنا نہ غیر اخلاقی ہے، نہ غیر قانونی اور نہ ہی ادارہ دشمنی؛ بشرطیکہ اس کا محرک ذاتی عناد نہیں بلکہ ادارے کی خیر خواہی، قوم کے مستقبل کا احساس اور امانت کے تقاضوں کی ادائیگی ہو۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم افراد کی تقدیس کے بجائے اداروں کی بقا کو ترجیح دیں، خاموش وفاداری کے بجائے ذمہ دارانہ خیر خواہی کو اختیار کریں، اور یہ سوال پوچھنے کا حوصلہ پیدا کریں کہ: کیا ہم اپنے اسلاف کی امانت کو آنے والی نسلوں تک پہلے سے بہتر صورت میں منتقل کر رہے ہیں، یا محض ماضی کے سہارے اس کے تدریجی زوال کے خاموش تماشائی بن چکے ہیں؟
اگر جواب دوسرا ہے، تو پھر احتساب محض ایک حق نہیں، بلکہ ایک ناگزیر فریضہ ہے۔