شہادت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
17 جون، 2026
`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
تاریخِ اسلام کے بعض صفحات ایسے ہیں جن پر نظر پڑتے ہی دل غم سے بھر جاتا ہے، آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں اور محبتِ صحابہ سے سرشار روح تڑپ اٹھتی ہے۔ انہی دردناک اور عبرت آموز واقعات میں ایک واقعہ امیر المؤمنین، مرادِ رسول، خلیفۂ ثانی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔ وہ عمر رضی اللہ عنہ جن کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو عزت و قوت نصیب ہوئی، وہ عمر رضی اللہ عنہ جن کے عدل نے دنیا کو حیران کردیا، وہ عمر رضی اللہ عنہ جن کی ہیبت سے شیاطین راستہ بدل لیتے تھے، اور وہ عمر رضی اللہ عنہ جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، عدل و انصاف کے قیام اور سنتِ نبوی ﷺ کی حفاظت میں گزری۔ آپ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے، یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری فرماتے، رعایا کے حقوق کی حفاظت کرتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے خوف سے لرزتے رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا دورِ خلافت تاریخِ انسانی میں عدل و انصاف کا روشن ترین باب سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محبوب بندے کے لیے شہادت کا عظیم مقام مقدر فرما رکھا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے:
"اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور میرے لیے اپنے رسول ﷺ کے شہر میں موت مقدر فرما۔"
یہ ایسی دعا تھی جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتی تھی، کیونکہ مدینہ منورہ جہاد کا میدان نہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کی دعاؤں کو عجیب شان کے ساتھ قبول فرماتا ہے۔
چنانچہ 26 ذی الحجہ 23 ہجری، بروز چہارشنبہ، بمطابق 31 اکتوبر 644ء کو فجر کا وقت تھا۔ مسجد نبوی ﷺ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بدبخت مجوسی غلام ابولؤلؤ فیروز نے زہر آلود دو دھاری خنجر سے آپ پر پے در پے حملے کیے۔ کئی وار آپ کے جسمِ مبارک پر لگے اور آپ شدید زخمی ہوکر گر پڑے۔ مسجدِ نبوی کا فرش خون سے رنگین ہوگیا اور امتِ مسلمہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
شدید زخموں کے باوجود آپ کی پہلی فکر نماز تھی۔ جب ہوش آیا تو دریافت فرمایا: ’’لوگوں نے نماز ادا کرلی؟‘‘ عرض کیا گیا: جی ہاں۔ اس پر فرمایا: ’’جس نے نماز چھوڑ دی، اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔‘‘
یہ وہ عظیم ہستی تھی جس کے دل میں آخری سانس تک دینِ اسلام کی فکر موجزن رہی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ تین دن تک زخموں کی شدت برداشت کرتے ہوئے حیات رہے۔ ان ایام میں آپ نے امت کے مستقبل، خلافت کے انتظام اور مسلمانوں کے اتحاد کے متعلق اہم وصیتیں فرمائیں۔ بالآخر 29 ذی الحجہ 23 ہجری، بمطابق 3 نومبر 644ء کو یہ آفتابِ عدل غروب ہوگیا اور فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔
وصال کے وقت بھی آپ کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہوجائے۔ چنانچہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی گئی اور انہوں نے خوش دلی سے اجازت عطا فرمادی۔
اس کے بعد یکم محرم 24 ہجری کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ پھر آپ کو روضۂ اقدس میں سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ یوں وہ دعا بھی پوری ہوگئی جو عمر فاروق رضی اللہ عنہ برسوں سے مانگتے چلے آرہے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت صرف ایک عظیم خلیفہ کی وفات نہیں تھی بلکہ عدل، دیانت، شجاعت اور خوفِ خدا کے ایک روشن باب کا اختتام تھا۔ آج بھی جب تاریخِ اسلام کے افق پر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا نام ابھرتا ہے تو عدل کے چراغ روشن ہوجاتے ہیں، حق و باطل کے درمیان فرق نمایاں ہوجاتا ہے اور دل محبتِ صحابہ سے لبریز ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کے عدل، تقویٰ، اخلاص اور عشقِ رسول ﷺ کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور روزِ قیامت ہمیں ان مقدس ہستیوں کے مبارک قافلے میں جگہ نصیب فرمائے۔
رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ، وجمعنا بہ فی جنات النعیم۔
آمین یا رب العالمین۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H