کائنات کا نظام عدل، انصاف اور توازن پر قائم ہے۔ اس نظام میں ظلم ایک ایسی بے اعتدالی ہے جو وقتی طور پر تو سر اٹھا سکتی ہے، لیکن مستقل جگہ نہیں بنا سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی زمین پر کسی جابر نے سر اٹھایا اور معصوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، تو اس کا انجام عبرت ناک ہوا۔ ظلم کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ایک خاص حد تک بڑھنے کے بعد خود اپنے ہی بوجھ سے تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔ بقول شاعر:
کٹ ہی گئی زبان تو کھلیں گے سخن کےباب
مٹتے کہاں ہیں نقشِ قدم کارواں کےبعد
اوراقِ زیست پر یہی لکھا ہے آج تک
ظلم و ستم مٹے ہیں ہمیشہ عروج کے بعد
ظلم کی فطرت اور اس کا عروج
جب کسی معاشرے یا دور میں ظالم کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے، تو وہ خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگتا ہے۔ وہ طاقت کے نشے میں چور ہو کر انسانی حقوق کو پامال کرتا ہے اور سچ کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ ساحر لدھیانوی نے اسی کیفیت کو اپنے لافانی کلام میں یوں بیان کیا ہے:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گاتوجم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
ظالم کا عروج دراصل اس کے زوال کی شروعات ہوتا ہے۔ جب مظلوموں کی آہ و پکار زمین سے اٹھ کر عرشِ الٰہی تک پہنچتی ہے، تو قدرت کا مکافاتِ عمل حرکت میں آ جاتا ہے۔
تاریخی شواہد اور عبرت کے نشانات
دنیا کی تاریخ ایسے فرعونوں، نمرودوں اور جابروں سے بھری پڑی ہے جن کی طاقت کے سامنے لوگ کانپتے تھے، لیکن آج ان کا نام صرف عبرت کے لیے لیا جاتا ہے۔ وقت نے بڑے بڑے جابروں کے تخت و تاج کو مٹی میں ملا دیا۔ اس حقیقت کو فیض احمد فیض نے اپنے اچھوتے انداز میں یوں پیش کیا ہے:
جب تاج اچھالے جائیں گے
جب تخت گرائے جائیں گے
ہم دیکھیں گے۔۔۔
بس نام رہے گا اللہ کا، جو غائب بھی ہے حاضر بھی
فرعون اور نمرود: قدیم دور کے یہ جابر حکمران خود کو خدا کہلواتے تھے، لیکن قدرت نے انہیں ایسے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا کہ وہ قیامت تک کے لیے نشانِ عبرت بن گئے۔
ہٹلر اور فاشزم: بیسویں صدی میں ہٹلر نے ظلم و بربریت کا جو بازار گرم کیا، اس کا خاتمہ خود اس کی اپنی تباہی اور رسوائی پر ہوا۔
نوآبادیاتی نظام (Colonialism): دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے کمزور قوموں کو غلام بنایا، لیکن جب عوام بیدار ہوئے تو ان بڑی سلطنتوں کے سورج ہمیشہ کے لئےغروب ہو گئے۔
ظلم کے مٹنے کی وجوہات اور عوامی بیداری
ظلم کے مٹ جانے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ مظلوموں کا اتحاد اور خوف کا خاتمہ ہے۔ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو انسان کے اندر کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اس فلسفے کو یوں بیان کیا ہے:
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
لیکن جب یہی کمزور قومیں ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، تو ظالم کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ حبیب جالب نے ظالم حکمرانوں کو للکارتے ہوئے کیا خوب کہا تھا:
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
خلاصہ کلام یہ ہیکہ یہ جملہ ہمیں مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن دکھاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چاہے ظلم کی رات جتنی بھی طویل اور کالی کیوں نہ ہو، صبح کا آنا طے ہے۔ ظالم کی ہر ضرب دراصل اس کے اپنے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتی ہے۔
اس لیے، تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ فتح ہمیشہ سچ، انصاف اور انسانیت کی ہوتی ہے، اور ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، اس کا مقدر صرف اور صرف مٹ جانا ہے۔ آخر میں ظفر علی خان کے اس خوبصورت شعر پر بات ختم ہوتی ہے:
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا