ایمان کی شمع بجھائی نہیں جا سکتی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (108)
معزز قارئین! تاریخِ انسانیت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق اور باطل کی کشمکش ہمیشہ سے جاری رہی ہے۔ جب بھی حق نے سر اٹھایا، باطل نے اسے دبانے کی کوشش کی۔ جب بھی توحید کی صدا بلند ہوئی، ظلم و جبر کے ایوان لرز اٹھے۔ مگر ایک حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہوئی کہ ظلم وقتی طور پر غالب دکھائی دے سکتا ہے، لیکن ایمان کے چراغ کو بجھا نہیں سکتا۔
آج دنیا کے مختلف خطوں میں، خصوصاً ہمارے ملک عزیز بھارت میں، فرقہ واریت، مذہبی تعصب اور نفرت کی سیاست نے ایک تشویشناک فضا پیدا کر دی ہے۔ مختلف طبقات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے۔ مذہب کو سیاست کا ہتھیار بنایا جا رہا ہے مسلمانوں کے تشخص، ان کے دینی شعائر اور ان کی مذہبی شناخت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے مساجد، مدارس اور اسلامی علامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور نفرت کے ماحول کو فروغ دیا جاتا ہے۔ لیکن ایسے حالات مسلمانوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ یہ تاریخ کا پہلا باب نہیں بلکہ ایک پرانی داستان کا نیا عنوان ہے۔
،، ظلم کی تاریخ اور ایمان کی استقامت،،
یاد رکھو! نمرود آیا تھا۔ اس کے پاس طاقت تھی، حکومت تھی، اقتدار تھا، مگر وہ حضرت ابراہیمؑ کے دل سے ایمان نہ نکال سکا۔ آگ بھڑکائی گئی، مگر ایمان کی ٹھنڈک نے اسے گلزار بنا دیا۔
فرعون آیا تھا۔ اس کے پاس لشکر تھے، خزانے تھے، غرور تھا، لیکن وہ حضرت موسیٰؑ کے پیغام کو مٹا نہ سکا۔ خود سمندر میں غرق ہو گیا مگر حق کی آواز زندہ رہی۔
ابو جہل اور ابو لہب بھی آئے تھے۔ انہوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے اپنی تمام قوت صرف کر دی۔ ظلم کیا، بائیکاٹ کیا، اذیتیں دیں، مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کے دلوں سے ایمان نہ چھین سکے۔ یہی تاریخ ہمیں حضرت بلال حبشیؓ کی صورت میں بھی نظر آتی ہے۔ وہ ایک غلام تھے، بے سہارا تھے، کمزور تھے، مگر ایمان میں پہاڑ سے زیادہ مضبوط تھے۔ گرم ریت پر لٹایا گیا، سینے پر بھاری پتھر رکھے گئے، جسم کو زخمی کیا گیا، لیکن ان کی زبان سے "احد، احد" کے سوا کچھ نہ نکلا۔
ظالموں نے جسم کو زخمی کیا، مگر ایمان کو نہ جھکا سکے۔
ایمان فروخت ہونے والی چیز نہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں، نفرتوں، پروپیگنڈوں یا دباؤ کے ذریعے کسی کے دل سے ایمان نکال لیا جائے گا، وہ تاریخ سے ناواقف ہیں۔ ایمان کوئی بازار کا سامان نہیں کہ قیمت لگا کر خرید لیا جائے۔ ایمان کوئی سیاسی نعرہ نہیں کہ حالات کے بدلنے سے بدل جائے۔ ایمان کوئی فلمی کردار نہیں کہ منظر ختم ہوتے ہی ختم ہو جائے۔ ایمان وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ دلوں میں عطا فرماتا ہے۔ جب یہ نور دل میں اتر جاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے بجھا نہیں سکتی۔
ہوسکتا ہے کسی سے اس کا مال چھین لیا جائے، اس کی ملازمت چھین لی جائے، اس کا گھر چھین لیا جائے، اس کی عزت پر حملہ کیا جائے، مگر ایک سچے مؤمن کے دل سے ایمان نہیں چھینا جا سکتا۔
،، اسلام قبول کرنا قربانی کا نام ہے،،
جو شخص سچے دل سے اسلام کو قبول کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ راستہ آزمائشوں کا راستہ ہے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے دولت چھوڑی مگر ایمان نہیں چھوڑا۔
حضرت بلالؓ نے جسم پر ظلم برداشت کیا مگر ایمان نہیں چھوڑا۔ حضرت خبابؓ نے آگ کے انگاروں پر جسم جلوا لیا مگر ایمان نہیں چھوڑا۔
حضرت سمیہؓ نے جان دے دی مگر ایمان نہیں چھوڑا۔ یہی اسلام کی اصل تاریخ ہے۔ اس لیے اگر آج کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دباؤ، نفرت، تمسخر، یا مختلف نعروں کے ذریعے مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کیا جا سکتا ہے تو وہ تاریخ کے سبق کو بھول رہا ہے۔
،، اسلام مٹایا نہیں جا سکتا،،
اسلام کسی قوم، نسل یا علاقے کا نام نہیں ہے کہ کسی سرحد میں قید ہو جائے۔
اسلام ایک عقیدہ ہے، ایک پیغام ہے، ایک نور ہے۔ دنیا میں کتنی ہی طاقتیں آئیں اور گزر گئیں۔ کتنے ہی بادشاہ، کتنی ہی سلطنتیں اور کتنے ہی ظالم اپنے وقت میں ناقابلِ شکست سمجھے جاتے تھے، مگر آج ان کا نام صرف تاریخ کے صفحات میں رہ گیا ہے۔ جبکہ "لا إله إلا الله" کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ مساجد پر حملے ہو سکتے ہیں، لیکن سجدے ختم نہیں کیے جا سکتے۔
اذان کو دبانے کی کوشش ہو سکتی ہے، لیکن توحید کی صدا خاموش نہیں کی جا سکتی۔ مسلمانوں کو کمزور سمجھا جا سکتا ہے، لیکن ایمان کی طاقت کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
وقت گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ وقتی ہوتا ہے اور حق ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ جو لوگ نفرت کے سہارے تاریخ لکھنا چاہتے ہیں__..وہ یہ جان لیں کہ نفرت کی عمارت کبھی مستقل بنیادوں پر قائم نہیں رہتی۔ ایک سچا مسلمان اپنی جان دے سکتا ہے، اپنا مال قربان کر سکتا ہے، اپنی آسائشیں چھوڑ سکتا ہے، مگر اپنے ایمان کا سودا نہیں کر سکتا۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ مایوسی کے بجائے صبر، حکمت، اتحاد، علم، اخلاق اور استقامت کا راستہ اختیار کریں۔ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے کردار کو بلند کریں اور یقین رکھیں کہ جس دین کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔"يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ"
"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا اگرچہ کسی کو ناگوار گزرے۔"
کوئی چاہے کتنی ہی طاقت آزما لے، کتنی ہی سازشیں کر لے، کتنی ہی نفرتوں کی آگ بھڑکا لے، اسے ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ وہ حسد و نفرت کی آگ میں جل جل کر راکھ ہو جائے گا، مگر اسلام کا چراغ نہ بجھے گا۔یہ وہ شمع ہے جو بدر کے میدان سے روشن ہوئی، احد کے زخموں میں روشن رہی، بلالؓ کی آہوں میں روشن رہی، مصعبؓ کی قربانیوں میں روشن رہی، اور آج بھی اہلِ ایمان کے سینوں میں روشن ہے۔
اسلام کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے، اور ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہے گا۔اور یاد رکھو! دنیا کا قائم رہنا محلات اور سلطنتوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کا نام لینے والوں کی وجہ سے ہے۔ جس دن زمین پر ایک بھی "اللہ، اللہ" کہنے والا باقی نہ رہے گا، اس دن اس دنیا کے خاتمے کا بھی اعلان ہو جائے گا۔
وما توفيقي إلا بالله. بقلم محمودالباری. mahmoodulbari342@gmail.com