*اسلامی سال و مہینہ کوعام کیجیۓ*
انگریزی نیۓسال کی شروعات کےموقع پراکثرلوگوں کی طرف سے،چاہے عوام ہویاخواص،ایسی باتیں سنےکوضرورملتی ہیں،جس سےسال نوکی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے،جگہ جگہ پوسٹراوربینروغیرہ بھی ضروردکھائی پڑتے ہیں،لیکن افسوس اس وقت ہوتاہے،جب یہ دلچسپی اسلامی سال کی شروعات پرنظر نہیں آتی ہے،شایدوبایدکہیں پوسٹروغیرہ پرنظرپڑجائے،اللہ کاارشادہے،اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ،کہ یقیناشمارمہینوں کا کتاب الھی میں اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں،جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے تھے،ان میں چارخاص مہینے ادب کےہیں،یہی دیں مستقیم ہے(بیان القرآن)،یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ احکام شرعیہ کامدار حساب قمری( اسلامی مہینے) پرہے،اس اعتبارسے اسلامی سال و مہینہ کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے،لہذااس کی تشہیر کرنامستحسن اور عمل ثواب ہے،اس لئےآج اسلامی نیۓسال ۱۴۴۸ھ کی پہلی تاریخ ہے،جہاں تک ہوسکےاس بات کوعام کیاجاۓ،تاکہ اسلامی سال اور مہینوں سےبھی لوگوں کوزیادہ سےزیادہ واقفیت ہوسکے،فقط۔شہبازشرفی قاسمی
خادم التدریس جامعہ عربیہ اشاعت العلوم قلی بازارکانپور
یکم محرم الحرام ۱۴۴۸ھ