*😂صاحبہ تھیوری اور ویوز کا سائنسی راز😂*
برسوں کی تحقیق، ہزاروں پوسٹوں کے مشاہدے، سینکڑوں اداس لکھاریوں کے انٹرویوز اور بے شمار ناکام مضامین کے بعد آخرکار سائنس دان اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ویوز اور لائکس کا تعلق ہمیشہ مضمون کے معیار سے نہیں ہوتا، بلکہ لکھاری سے ہوتا ہے، اس تاریخی تحقیق کو جدید سائنس میں *صاحبہ تھیوری* کا نام دیا گیا ہے۔🤣🤣
سائنسدان نے ثابت کیا کہ ایک ہی مضمون دو افراد پوسٹ کریں، ایک *صاحب* اور دوسری *صاحبہ* تو ویوز، لائکس اور کمنٹس کشش ثقل کے تمام قوانین توڑتے ہوئے صاحبہ کی پوسٹ کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں۔😂
سائنس ابھی تک یہ معلوم نہیں کر سکی کہ یہ کشش قلم کی ہوتی ہے، پروفائل کی ہوتی ہے یا صرف نام کے آخر میں لگے ہوئے *ہ* کی ہوتی ہے، لیکن نتائج روزانہ سامنے آ رہے ہیں۔🤭
تحقیق کے دوران ایک عجیب تجربہ بھی کیا گیا:ایک صاحب نے دس صفحات پر مشتمل علمی مضمون لکھا، اس میں قرآن و حدیث کے حوالے تھے، ادب کے موتی تھے، زبان کی شیرینی تھی، اور محنت کا پسینہ بھی شامل تھا😌😌
پوسٹ کرنے کے بعد ہر پانچ منٹ بعد ویوز چیک کیے گئے، *پہلے گھنٹے میں 7 ویوز آئے* جن میں سے 4 خود مصنف کے تھے، 2 اس کے دوست کے، اور ایک غالباً غلطی سے کسی کی انگلی لگ گئی تھی۔ 🤣🤣🤣
دوسری طرف ایک صاحبہ نے صرف اتنا لکھا: *زندگی بہت خوبصورت ہے* بس پھر کیا تھا؟ ویوز کا سیلاب، لائکس کی بارش اور کمنٹس کا طوفان😂😂😂. *ایک صاحب نے تو جوش میں آکر لکھ دیا، واللہ آج تک زندگی کو اس زاویے سے نہیں دیکھا تھا*
حالانکہ بھائی جان گزشتہ پینتیس سال سے زندگی ہی دیکھ رہے تھے۔ 🤣
سائنس دانوں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ بعض قارئین مضمون کھولنے سے پہلے ہی *ماشاء اللہ* لکھ دیتے ہیں،یعنی تعریف کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ تحریر پڑھنے کا مرحلہ درمیان سے ہی غائب ہو گیا ہے۔😂
بعض لوگ تو صرف نام دیکھ کر کمنٹ کر دیتے ہیں:اگر صاحبہ لکھی ہیں تو:
❤️ماشاء اللہ
❤️ لاجواب
❤️ کیا قلم پایا ہے
❤️ آپ کا ہر لفظ دل میں اتر جاتا ہے۔
اور اگر صاحب لکھا ہو تو🥲
بعد میں پڑھتے ہیں،یہ (بعد میں) وہ پراسرار وقت ہے جو کبھی آتا ہی نہیں۔🤣
سائنسدان نے مزید تحقیق کی اور تحقیق کے آخری مرحلے میں ایک اور تجربہ پیش فرمایا لکھاری نے اپنا مضمون ایک فرضی صاحبہ کے نام سے پوسٹ کر دیا،صرف تین گھنٹوں میں اتنے ویوز آئے جتنے اس کی اصل آئی ڈی پر تین سال میں نہیں آئے تھے۔😂
اس وقت سائنس دانوں نے اعلان کیا:مسئلہ مضمون میں نہیں تھا، مسئلہ مصنف میں تھا🤣🤣
لہٰذا اے اہلِ قلم،اگر آپ کی پوسٹ پر کم ویوز آئیں تو فوراً دل چھوٹا نہ کریں،ممکن ہے آپ کی تحریر اچھی ہو، صرف آپ کا نام غلط کیٹیگری میں چلا گیا ہو😜اور ہمارے بھی کم ہی آتے ہیں😌
اور قارئین کرام سے بھی ایک عاجزانہ گزارش ہے:
خدارا کبھی کبھی ہمارا مضمون بھی پڑھ لیا کریں،ہو سکتا ہے کسی خاموش پوسٹ میں واقعی علم ہو، اور کسی مشہور پوسٹ میں صرف کمنٹس ہی علم سے زیادہ ہوں۔🤭😂😌
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*