حضرت عتبہ بن غزوانؓ کی بصیرت، شجاعت اور فتحِ اُبلّہ کی ایمان افروز داستان

محمد صادق اصلاحی ندوی 

تاریخِ اسلام میں بعض نام ایسے ہیں جو تعداد کی کثرت سے نہیں، بلکہ ایمان کی قوت، قیادت کی بصیرت اور عزمِ صادق کی بدولت امر ہو گئے۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نام رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا بھی ہے، جنہوں نے محض چھ سو مجاہدین کے ساتھ سلطنتِ فارس کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کر کے اسلامی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب رقم کیا۔

جب عراق کے محاذ پر پیش قدمی کے لیے ایک ایسے قائد کی ضرورت محسوس ہوئی جو قلتِ وسائل کے باوجود غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکے، تو امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے گہری سوچ کے بعد فرمایا:

«"میں نے اسے پا لیا۔ وہ ایسا مجاہد ہے جسے میں بدر، اُحد اور خندق میں جانتا ہوں۔ یمامہ کے معرکوں میں اس کی آزمائش ہو چکی ہے اور میں نے کبھی اس کا تیر خطا ہوتے نہیں دیکھا۔ اس نے دونوں ہجرتوں کا شرف حاصل کیا، اور وہ ان سات خوش نصیبوں میں سے ہے جنہوں نے روئے زمین پر سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔"»

پھر صبح ہوتے ہی آپؓ نے فرمایا:

«"عتبہ بن غزوان کو میرے پاس حاضر کرو۔"»

ابتداً تین سو مجاہدین کا دستہ ان کے سپرد کیا گیا اور وعدہ فرمایا کہ بعد میں مزید افراد بھی فراہم کیے جائیں گے۔

روانگی کے وقت حضرت عمرؓ نے اپنے سپہ سالار کو رخصت کرتے ہوئے نہایت مؤثر نصیحت فرمائی:

«"اے عتبہ! میں نے تمہیں اُبلّہ کی سرزمین کی طرف روانہ کیا ہے، جو دشمن کے مضبوط قلعوں میں سے ایک ہے۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر فتح عطا فرمائے گا۔ جب وہاں پہنچو تو لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا۔ جو قبول کر لے، اس سے درگزر کرنا؛ جو انکار کرے، اس سے جزیہ لینا، اور اگر وہ بھی قبول نہ کرے تو پھر تلوار سے فیصلہ کرنا۔»

«اور اے عتبہ! جس ذمہ داری کا بار تمہیں سونپا گیا ہے، اس میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اقتدار تمہارے دل میں تکبر پیدا کر دے اور تمہاری آخرت برباد ہو جائے۔»

«یاد رکھو! تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھی رہے ہو۔ اللہ نے آپ ﷺ کے ذریعے تمہیں ذلت سے عزت، کمزوری سے قوت عطا کی، یہاں تک کہ آج تم ایک ایسے امیر اور قائد ہو کہ تمہاری بات سنی جاتی ہے اور تمہارے حکم کی تعمیل کی جاتی ہے۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے، بشرطیکہ وہ تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے اور جہنم کی طرف نہ لے جائے۔ اللہ تمہیں اور مجھے اس سے محفوظ رکھے۔"»

حضرت عتبہؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور چند دیگر خواتین بھی تھیں، جو مجاہدین کی خدمت و معاونت کے لیے ساتھ تھیں۔ وہ اُبلّہ کے قریب ایک مقام پر قیام پذیر ہوئے، مگر ان کے پاس کھانے پینے کا خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔ جب بھوک نے شدت اختیار کی تو حضرت عتبہؓ نے فرمایا:

«"اس علاقے میں تلاش کرو، شاید کچھ کھانے کو مل جائے۔"»

چند افراد خوراک کی تلاش میں نکلے۔ ان میں سے ایک راوی بیان کرتا ہے:

«"ہم ایک جھاڑی میں داخل ہوئے تو وہاں دو ٹوکریاں پڑی ملیں۔ ایک میں کھجوریں تھیں اور دوسری میں چھوٹے چھوٹے سفید دانے تھے، جن پر زرد رنگ کا چھلکا چڑھا ہوا تھا۔ ہم انہیں اٹھا کر لشکر میں لے آئے۔»

«ایک شخص نے ان دانوں کو دیکھ کر کہا: 'یہ دشمن کا تیار کردہ زہر ہے، اس کے قریب نہ جانا۔'»

«چنانچہ ہم کھجوریں کھانے لگے۔ اتنے میں ایک گھوڑا اپنی رسی تڑا کر آیا اور انہی دانوں کو کھانے لگا۔ ہم نے سوچا کہ مرنے سے پہلے اسے ذبح کر لیا جائے تاکہ اس کا گوشت ضائع نہ ہو، لیکن اس کے مالک نے کہا: 'رہنے دو، میں رات بھر اس کی نگرانی کروں گا، اگر مرنے لگا تو ذبح کر دوں گا۔'»

«صبح ہوئی تو گھوڑا بالکل تندرست تھا۔»

«پھر اس شخص کی بہن نے کہا: 'میں نے اپنے والد کو کہتے سنا تھا کہ زہر کو آگ پر پکایا جائے تو اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔'»

«اس نے ان دانوں کو ہانڈی میں ڈال کر پکایا۔ جب وہ سرخ ہونے لگے، ان کے چھلکے پھٹ گئے اور سفید دانے نمودار ہوئے تو ہم نے انہیں ایک بڑے برتن میں نکالا۔»

«حضرت عتبہؓ نے فرمایا: 'اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔'»

«جب ہم نے انہیں کھایا تو وہ نہایت لذیذ ثابت ہوئے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ چاول تھے!"»

فتحِ اُبلّہ: حکمت کی وہ جنگ جس میں خون نہ بہا

اُبلّہ دریائے دجلہ کے کنارے واقع فارس کا ایک نہایت مضبوط شہر تھا۔ فارس نے اسے اپنے اسلحہ خانوں کا مرکز بنا رکھا تھا اور اس کے بلند برج دشمنوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

حضرت عتبہؓ کے پاس نہ بڑی فوج تھی، نہ جنگی ساز و سامان۔ کل ملا کر صرف چھ سو مجاہدین تھے، جن کے ساتھ چند خواتین بھی تھیں، جبکہ اسلحے میں صرف تلواریں اور نیزے تھے۔

مگر جہاں وسائل کم ہوں، وہاں غیر معمولی قیادت اپنی ذہانت سے راستہ بناتی ہے۔

حضرت عتبہؓ نے خواتین کو حکم دیا کہ وہ نیزوں پر جھنڈے باندھ کر لشکر کے پیچھے چلیں، اور جب شہر کے قریب پہنچیں تو گرد و غبار اس طرح اڑائیں کہ فضا بھر جائے۔

جب مسلمان اُبلّہ کے قریب پہنچے تو فارسی لشکر مقابلے کے لیے نکلا۔ انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے پیچھے بے شمار جھنڈے لہرا رہے ہیں اور افق پر گرد و غبار کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے ایک دوسرے سے کہا:

«"یہ تو صرف لشکر کا ابتدائی دستہ معلوم ہوتا ہے، اصل فوج تو اس کے پیچھے آ رہی ہے!"»

یہ خیال ان کے دلوں میں ایسا خوف بن کر اترا کہ ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ وہ اپنی قیمتی اشیاء سمیٹنے لگے، دجلہ میں کھڑی کشتیوں کی طرف بھاگے اور میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

یوں حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بغیر ایک بھی سپاہی کھوئے اُبلّہ میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد اردگرد کے شہروں اور بستیوں پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا اور اتنی کثرت سے مالِ غنیمت حاصل ہوا کہ اس کا شمار مشکل ہو گیا۔

ایک مجاہد واپس مدینہ پہنچا تو لوگوں نے پوچھا:

«"اُبلّہ کے لوگوں کا کیا حال ہے؟"»
اس نے جواب دیا:
«"تم کیا پوچھتے ہو! خدا کی قسم، میں انہیں اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ سونے اور چاندی کو پیمانوں سے ناپ رہے تھے۔"»

حضرت عتبہؓ نے محسوس کیا کہ اگر مجاہدین مفتوحہ شہروں کی آسائشوں میں مستقل قیام پذیر ہو گئے تو ان میں راحت طلبی پیدا ہو جائے گی اور جہاد کا جذبہ کمزور پڑ جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کو خط لکھ کر ایک نئے فوجی شہر کے قیام کی اجازت طلب کی اور منتخب مقام کی تفصیلات ارسال کیں۔

حضرت عمرؓ نے اجازت عطا فرمائی، اور یوں بصرہ کے عظیم اسلامی شہر کی بنیاد رکھی گئی، جو بعد میں علم، تہذیب، فقہ، ادب اور تمدن کا ایک تابناک مرکز بن گیا۔

حضرت عتبہ بن غزوانؓ کی یہ داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ فتوحات صرف تعداد، اسلحے اور وسائل کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں؛ بلکہ اخلاص، تدبر، قائدانہ بصیرت، اللہ پر کامل اعتماد اور بلند حوصلے ایسی قوتیں ہیں جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں۔ یہی وہ ایمان افروز اوصاف تھے جنہوں نے مٹھی بھر اہلِ ایمان کو دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں پر غالب کر دیا۔

مآخذ:
الطبقات الکبریٰ، ابن سعد
تاریخ الطبری، امام طبری
تاریخ الإسلام، امام ذہبی
أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ابن الأثیر
صور من حیاۃ الصحابۃ، عبدالرحمن رأفت الباشا
البدایۃ والنہایۃ، ابن کثیر