حضرت مصعب بن عمیرؓ آج بھی زندہ ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (107)
محترم قارئین! تاریخِ اسلام کے اوراق میں کچھ نام ایسے ہیں جو صرف شخصیات نہیں بلکہ ایک فکر، ایک جذبہ، ایک قربانی اور ایک پیغام بن کر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان ہی درخشاں ناموں میں ایک نام حضرت مصعب بن عمیرؓ کا بھی ہے۔ بظاہر تو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصعب بن عمیرؓ آج بھی زندہ ہیں۔ وہ ہر اس نوجوان میں زندہ ہیں جو دنیا کی چمک دمک کو ٹھکرا کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو اختیار کرتا ہے، وہ ہر اس شخص میں زندہ ہیں جو آزمائشوں کے طوفان میں بھی اسلام کا دامن نہیں چھوڑتا، اور وہ ہر اس دل میں زندہ ہیں جو ایمان کی خاطر قربانی دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

،،اسلام کے ابتدائی دور کا سخت ماحول،،
حضرت مصعب بن عمیرؓ نے جس وقت اسلام قبول کیا، وہ اسلام کا ابتدائی دور تھا۔ مکہ کی گلیوں میں توحید کا نام لینا جرم سمجھا جاتا تھا۔ قریش کے سردار اسلام کو مٹانے کے لیے متحد تھے۔ مسلمان کمزور، بے سروسامان اور مظلوم تھے۔ ہر طرف ظلم، تشدد، بائیکاٹ اور اذیتوں کا بازار گرم تھا۔اسلام قبول کرنا صرف ایک مذہب اختیار کرنا نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو مصیبتوں، تکلیفوں اور آزمائشوں کے
حوالے کر دینا تھا۔ کوئی شخص اسلام قبول کرتا تو اسے خاندان، مال، عزت اور معاشرے کی دشمنی مول لینا پڑتی تھی۔

،، مصعب بن عمیرؓ کی شان و شوکت،،
حضرت مصعب بن عمیرؓ مکہ کے سب سے خوشحال اور معزز گھرانوں میں سے ایک گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ آپؓ کی والدہ بے حد مالدار تھیں۔ مکہ کے نوجوانوں میں آپؓ کی خوبصورتی، نفاست، خوشبو، لباس اور شان و شوکت کی مثال دی جاتی تھی۔کہا جاتا ہے کہ مکہ میں اگر کسی نوجوان کی زندگی سب سے زیادہ پرتعیش تھی تو وہ مصعب بن عمیرؓ تھے۔ بہترین لباس، اعلیٰ خوشبوئیں، نرم بستر، عمدہ کھانے اور ہر طرح کی آسائش آپؓ کو حاصل تھی۔ لوگ آپؓ کو دیکھتے تو رشک کرتے تھے۔
لیکن جب دل میں ایمان کی روشنی داخل ہوئی تو دنیا کی یہ ساری چمک پھیکی پڑ گئی۔ مصعب بن عمیرؓ نے جان لیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے مقابلے میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔

،، آج کا دور اور ابتدائی اسلام کا ماحول،، 
اگر ہم اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آج کا دور بہت سی جہات سے ابتدائی اسلام کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اسلام کو بدنام کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسلامی تعلیمات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میڈیا، سیاست، معیشت اور سماجی میدانوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ کبھی مسلمانوں کے عقائد پر حملے ہوتے ہیں، کبھی ان کی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی ان کے دینی شعائر کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور کبھی انہیں اپنے ہی دین سے شرمندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایسے حالات میں حق پر ثابت قدم رہنا آسان نہیں، لیکن یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر صحابۂ کرامؓ نے تاریخ رقم کی تھی۔

،، آج اسلام پر قائم رہنا کیوں مشکل ہوتا جا رہا ہے؟،، 
آج فتنوں کی یلغار ہر طرف سے ہو رہی ہے۔ گناہوں کو ترقی کا نام دیا جا رہا ہے۔ دین داری کو پسماندگی سمجھا جا رہا ہے۔ حلال و حرام کے فرق کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے نوجوانوں کو دین سے دور کرنے کے لیے جدید ذرائع استعمال ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی شخص اگر اسلام کو مضبوطی سے تھام لے، سنت پر چلنے کا عزم کرے، اللہ کے احکام پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے تو گویا وہ آگ کے انگارے کو ہاتھ میں تھام رہا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر بلا یہ کہ اگر کوئی شخص ایسے پر فتن حالات میں اسلام قبول کر لے تو یہ واقعی آگ میں کود جانے کے مترادف ہے، کیونکہ اسے اپنے خاندان، معاشرے اور ماحول کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

،، مصعب بن عمیرؓ کی آزمائشیں،،
جب حضرت مصعب بن عمیرؓ نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا تو ان کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ ان کی والدہ اور خاندان کو جب اسلام قبول کرنے کی خبر ملی تو انہوں نے سخت مخالفت کی۔ انہیں قید کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور اسلام چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، لیکن مصعب بن عمیرؓ کے قدم نہ ڈگمگائے۔ وہ نوجوان جو کبھی بہترین لباس پہنتا تھا، ایسا وقت بھی آیا کہ اس کے جسم پر پورا کپڑا تک نہ رہا۔ جسے کبھی آسائشوں کی زندگی میسر تھی، وہ فقر و تنگ دستی کا نمونہ بن گیا۔ اسے گھر سے نکال دیا گیا، مال و دولت سے محروم کر دیا گیا، مگر اس نے ایمان کا سودا نہیں کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ یہی مصعب ہیں جو کبھی مکہ کے سب سے ناز و نعمت والے نوجوان تھے اور آج اللہ کے راستے میں سب کچھ قربان کر چکے ہیں۔

،، اسلام کوئی کھیل نہیں،، 
یاد رکھو! اسلام اپنانا کوئی کھیل نہیں ہے۔
کلمہ پڑھ لینا آسان ہے،مگر اس پر ثابت قدمی بہت مشکل کیونکہ اس کے لیے اسلام قبول کرنا محض مذہب بدلنے کا نام نہیں بلکہ آزمائشوں، قربانیوں اور مخالفتوں کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ کلمے کے تقاضوں پر زندگی گزارنا قربانی مانگتا ہے۔ اسلام ہر دور میں آزمائش کا نام رہا ہے۔ جو شخص اللہ کے راستے کو اختیار کرتا ہے، اسے کبھی خواہشات سے، کبھی حالات سے، کبھی لوگوں سے اور کبھی اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے۔اس لیے جب آزمائشیں آئیں تو گھبراؤ نہیں۔ صحابۂ کرامؓ کو یاد کرو۔ بلالؓ کو یاد کرو۔ خبابؓ کو یاد کرو۔ سمیہؓ کو یاد کرو۔ اور مصعب بن عمیرؓ کو یاد کرو۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، لیکن اپنے رب کو ناراض نہیں کیا۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ آج بھی زندہ ہیں
جب کوئی نوجوان دنیا کی رنگینیوں پر دین کو ترجیح دیتا ہے تو سمجھ لو مصعب بن عمیرؓ زندہ ہیں۔
جب کوئی مسلمان طعنوں، مخالفتوں اور مشکلات کے باوجود اسلام پر ثابت قدم رہتا ہے تو سمجھ لو مصعب بن عمیرؓ زندہ ہیں۔جب کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں اپنی خواہشات کو قربان کرتا ہے تو سمجھ لو مصعب بن عمیرؓ زندہ ہیں۔جب ایمان کی خاطر قربانی دی جاتی ہے، جب آزمائشوں میں صبر کیا جاتا ہے، جب حق کے راستے کو دنیا کے فائدوں پر ترجیح دی جاتی ہے، تب مصعب بن عمیرؓ کی روحانی وراثت زندہ ہو جاتی ہے۔
الغرض! آج امتِ مسلمہ کو مال و دولت کے نہیں بلکہ مصعب بن عمیرؓ جیسے کرداروں کی ضرورت ہے۔ ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو ایمان کو دنیا پر ترجیح دیں، جو حق کے لیے کھڑے ہوں، جو آزمائشوں میں ثابت قدم رہیں اور جو اللہ و رسول ﷺ کی محبت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں۔
یاد رکھو! ایمان کی مٹھاس، قربانی کے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حقیقی محبت کا مزہ وہی چکھتا ہے جو دین کی خاطر مشکلات برداشت کرتا ہے۔ اور جب یہ جذبہ پیدا ہو جائے، جب ایمان دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہو جائے، جب قربانی زندگی کا شعار بن جائے، تب یقین کر لو کہ مصعب بن عمیرؓ صرف تاریخ کے اوراق میں نہیں بلکہ آج بھی زندہ ہیں۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ
.................... 
وما توفيقي إلا بالله. بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com