قارئین کرام ! انقلابِ نبویؐ کا بنیادی مقصد اقامتِ دین ہے۔ کیونکہ دین اپنی حقیقت میں صرف چند رسومات یا انفرادی عبادات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ ایک جامع ضابطۂ حیات ہے۔ یہ انسان کی فکری تربیت کے ساتھ۔ ساتھ اس کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی معاملات کو بھی منظم کرتا ہے۔ لہٰذا جب ہم اقامتِ دین کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ایک ایسے اجتماعی نظام کا قیام ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو الٰہی اصولوں کے مطابق ڈھال دے۔

حالانکہ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین کے قیام کا معاشرتی یا سیاسی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ تو اس کا جواب میں اس طرح دوں گا کہ اگر دین صرف ذاتی عبادت تک محدود ہوتا تو اجتماعی سطح پر کسی انقلاب کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن جب ہم دین کی تعلیمات پر نظر دوڑاتے ہیں تو دین کی تعلیمات یہ واضح کرتی ہیں کہ عدل، مساوات اور اجتماعی بھلائی کے بغیر فرد کی اصلاح بھی نامکمل رہتی ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا نظام قائم کیا جس میں ہر فرد نہ صرف اپنی انفرادی نجات کا ضامن تھا بلکہ وہ معاشرے کے اجتماعی بھلائی کا بھی ذمہ دار ٹھہرتا تھا۔

ساتھ ہی ساتھ یہاں پر میں یہ بات بھی کہنا چاہوں گا کہ انقلابِ نبویؐ کا سب سے نمایاں پہلو باطل نظاموں کی تنسیخ ہے۔ لیکن اس سے مراد محض بت پرستی یا قدیم مذاہب کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ ہر وہ نظام ہے جو عدل و انصاف کے خلاف کھڑا ہو۔ پھر چاہے وہ معاشی استحصال پر مبنی ہو، یا سماجی تفریق پیدا کرنے والا ہو۔

قرآن اسی مقصد کو یوں بیان کرتا ہے: "لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ" یعنی دینِ حق کا غلبہ تمام باطل نظاموں پر ہے۔

حالانکہ اس غلبے کا مفہوم یہ نہیں کہ تلوار سے سب کو مغلوب کیا جائے بلکہ یہ ھیکہ فکر، اخلاق اور انصاف کی بنیاد پر ایک ایسا عملی نظام قائم ہو جو خود بخود دوسروں پر برتری ثابت کرے۔

ہمارا ماضی اس بات کا گواہ بھی ہے کہ جب ۔جب دین کے اصولوں پر مبنی سیاسی اقتدار قائم ہوا تو اس کے اثرات معاشی اور معاشرتی میدانوں میں فوری طور پر نمایاں ہوئے۔ معاشی نظام کو سود اور استحصال سے پاک کر کے زکوٰۃ، صدقات اور وقف جیسے ادارے قائم کیے گئے۔ اوران اداروں نے دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو روکا اور کمزور طبقات کو سہارا دیا۔ اور یہی وجہ تھی کہ معاشرہ دولت مند اور غریب کے درمیان فرق کے باوجود حسد و بغض سے محفوظ رہا۔

اس کے علاوہ معاشرتی ڈھانچے میں ایک ایسی ہم آہنگی پیدا ہوئی جو تاریخ میں مثال رکھتی ہے۔ رنگ، نسل اور نسب پر مبنی تفریق ختم ہوئی۔ غلام اور آقا ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے، عورت کو وراثت اور عزت ملی، یتیم اور مسکین کے حقوق کو ریاست نے اپنی ذمہ داری بنایا۔ اس طرح معاشرہ محض چند طاقتور طبقات کا مرکز نہیں رہا بلکہ ہر فرد کو اپنی حیثیت کے مطابق عزت اور تحفظ ملا۔

لہذا مختصر یہ کہ انقلابِ نبویؐ کا یہ ماڈل اس بات کی عقلی دلیل فراہم کرتا ہے کہ دین اگر محض انفرادی عبادت تک محدود رکھا جائے تو وہ معاشرتی مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے برعکس جب دین کو اجتماعی زندگی پر نافذ کیا جاتا ہے تو ایک ایسا نظام وجود میں آتا ہے جو انسان کو فکری آزادی، معاشی انصاف اور سماجی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اور یہی وہ پہلو ہے جو آج بھی دنیا کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔