کوئی برتر نہیں، کوئی کمتر نہیں، لیکن کوئی برابر بھی نہیں

آپ آپ ہیں اور میں میں ہوں

یہ چند لفظ دراصل پوری انسانیت کا فلسفہ ہیں
 قدرت کا نظام "یکسانیت" پر نہیں، "انفرادیت" پر قائم ہے۔
ہر انسان اپنی ذات میں ایک مکمل کائنات ہے۔

 برتر اور کمتر کا وہم  

سماج نے ہمیں اونچ نیچ کے خانوں میں بانٹ رکھا ہے۔
 کوئی دولت سے بڑا ہے،
کوئی عہدے سے،
 کوئی رنگ سے،
کوئی ذات سے۔
 مگر حقیقت یہ ہے کہ قبر کی مٹی سب کو ایک جیسا کر دیتی ہے۔
سانس کی ڈور ٹوٹے تو بادشاہ اور فقیر کا جنازہ ایک ہی طرح اٹھتا ہے۔ 
اس لیے کوئی پیدائشی برتر نہیں اور کوئی پیدائشی کمتر نہیں ۔
اللہ نے سب کو عزت سے پیدا کیا ہے

 برابر کیوں نہیں 

برابر ہونے کا مطلب "ایک جیسا" ہونا نہیں ہے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں،اگر سب ڈاکٹر بن جائیں تو مریض کا علاج کون کرے گا؟
 اگر سب لیڈر بن جائیں تو پیروی کون کرے گا؟

تمہاری آواز میں جو سوز ہے وہ میرے پاس نہیں۔
میرے لہجے میں جو نرمی ہے وہ تمہارے پاس نہیں۔ 

. آپ آپ ہیں اور میں میں ہوں 

یہی وہ جملہ ہے جو حسد، موازنہ اور احساسِ کمتری کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
جب ہم مان لیں کہ "میں میں ہوں"
تو دوسروں جیسا بننے کی دوڑ ختم ہو جاتی ہے۔ 
تمہارا دکھ تمہارا ہے،
میرا دکھ میرا۔
تمہاری خوشی کا معیار الگ، میری خوشی کی وجہ الگ۔
 اس فرق کو مان لینا ہی اصل سکون ہے۔
رشتے اسی وقت ٹوٹتے ہیں جب ہم دوسرے کو "اپنے جیسا" بنانا چاہتے ہیں۔
 محبت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ
"تم بدل جاؤ"
بلکہ یہ ہے کہ
 "میں تمہیں تم رہتے ہوئے قبول کروں  

یہ دنیا گلدستہ ہے۔

گلدستے میں صرف گلاب نہیں ہوتا،
چمبیلی بھی ہوتی ہے،
گیندا بھی،
اور گھاس کے تنکے بھی۔
 ہر پھول کا رنگ الگ، خوشبو الگ، مگر سب مل کر ہی گلدستہ مکمل کرتے ہیں۔

اس لیے نہ خود کو کسی سے برتر سمجھو، نہ کسی کو خود سے کمتر۔ 
 کیونکہ قدرت نے تمہیں "کاپی" نہیں "اصل" بنایا ہے۔  
آپ آپ ہیں،
 اور
 میں میں ہوں
اور یہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

_نہ میں بہتر، نہ تُو کمتر، نہ برابر کا دعویٰ ہے 
_میں میں ہوں، تُو تُو ہے، یہی بہتر بنایا ہے

عائشہ 🍁