Translation unavailable. Showing original.
قابلِ اصلاح بات پر مصلح کی خاموشی خیانت ہے
12 جون، 2026
`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
معاشروں کی تعمیر و تخریب میں صرف وہ لوگ ہی مؤثر کردار ادا نہیں کرتے جو برائی کو فروغ دیتے ہیں، بلکہ بعض اوقات وہ لوگ بھی اس زوال کے ذمہ دار بن جاتے ہیں جو حق جانتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ تاریخِ انسانیت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب بھی باطل نے قوت پکڑی اور گمراہی نے اپنے پنجے گاڑے، تو اس کے پیچھے صرف اہلِ باطل کی سرگرمیاں نہیں تھیں، بلکہ اہلِ حق کی خاموشی بھی ایک بڑا سبب تھی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی اصلاح کے لیے نہیں، بلکہ اصلاحِ معاشرہ کی ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ وہ انسانوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لے آئیں۔ اگر وہ حالات کی سنگینی دیکھ کر خاموش رہتے تو نہ حق واضح ہوتا اور نہ باطل بے نقاب ہوتا۔
مصلح کا منصب صرف وعظ کرنا نہیں بلکہ حق کی گواہی دینا ہے۔ جب کسی معاشرے میں گناہ کو فیشن، بے حیائی کو آزادی، ظلم کو طاقت اور دین سے بے رغبتی کو ترقی کا نام دیا جانے لگے تو ایسے وقت میں خاموش رہنا گویا آنے والی نسلوں کے ایمان کے ساتھ بے وفائی کرنا ہے۔ ایک طبیب اگر مریض کی جان لیوا بیماری دیکھ کر علاج سے گریز کرے تو اسے مجرم سمجھا جائے گا، پھر وہ عالم، داعی اور مصلح کس طرح بری الذمہ ہو سکتا ہے جو روحوں کی بیماریوں کو دیکھ کر خاموشی اختیار کر لے؟
بلاشبہ اصلاح کا طریقہ حکمت، نرمی اور خیرخواہی پر مبنی ہونا چاہیے، مگر حکمت کا مطلب خاموشی نہیں اور نرمی کا مطلب حق کو چھپا دینا نہیں۔ بعض لوگ مصلحت کے نام پر ایسی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں جو رفتہ رفتہ خیانت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ حق کو جانتے ہوئے بیان نہ کرنا دراصل باطل کو قوت فراہم کرنا ہے۔
آج امت جن فتنوں، اخلاقی بحرانوں اور فکری انتشار کا شکار ہے، اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بہت سے اہلِ علم اور اہلِ اثر نے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ پوری طرح محسوس نہیں کیا۔ جب منبر خاموش ہو جائیں، قلم رک جائیں اور اہلِ حق مصلحتوں کے حصار میں قید ہو جائیں تو گمراہی کے سوداگر میدان سنبھال لیتے ہیں۔ پھر جھوٹ سچ بن جاتا ہے اور باطل حق کے لباس میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔
ایک سچا مصلح لوگوں کی ناراضگی سے نہیں ڈرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دہی کا احساس اسے بے چین رکھتا ہے۔ اس کی راتیں امت کے غم میں جاگتی ہیں اور اس کا قلم معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے حرکت کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر آج حق نہ بولا گیا تو کل نسلیں گمراہی کی قیمت ادا کریں گی۔
لہٰذا یاد رکھنا چاہیے کہ خاموشی ہر جگہ حکمت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی ایک سنگین جرم بن جاتی ہے۔ جب دین کی اقدار پامال ہو رہی ہوں، اخلاقی بنیادیں لرز رہی ہوں اور ایمان پر حملے ہو رہے ہوں، تو ایسے وقت میں مصلح کی خاموشی صرف کمزوری نہیں بلکہ امانتِ حق میں خیانت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور حکمت و بصیرت کے ساتھ اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H