ویوز کا المیہ اور مظلوم لکھاری" 😂

جب ہماری تحریر صدائے قلم پر شائع ہوتی ہے اور ویوز و تبصرے بڑھنے لگتے ہیں
 تو کچھ لوگوں کے چہرے ایسے لٹک جاتے ہیں جیسے ان کا موبائل 1٪ بیٹری پر آ گیا ہو
وہ ہر پانچ منٹ بعد پوسٹ کھول کر ویوز گنتے ہیں،
پھر اپنی پوسٹ دیکھتے ہیں، پھر ہماری پوسٹ، پھر اپنی... اور یوں پورا دن حساب کتاب میں گزر جاتا ہے۔ 😄
کچھ بھائیوں کے دل میں فوراً انصاف کا ترازو جاگ اٹھتا ہے۔
فرماتے ہیں:
 "یہ تو ناانصافی ہے!
لڑکیوں کے مضامین پر ویوز ہی ویوز،
اور ہمارے مضامین تو جیسے کسی کو نظر ہی نہیں آتے 😄
ایک بھائی تو بڑے افسردہ لہجے میں کہتے ہیں "ہم بھی محنت سے لکھتے ہیں یار
پر ہمارے مضمون کو تو نظر انداز کیا جاتا ہے ہم حوالہ بھی دیتے ہیں املا بھی درست رکھتے ہیں پھر بھی ویوز کم
میرا کہنا ہے "بھائی! مضمون لکھتے ہو یا عدالت میں درخواست جمع کراتے ہو 😂
مجھے تو اس بات کا بھی ڈر ہے
 اب کہیں یہ لڑکیوں کے نام سے ہی آئ ڈی نہ بنا لے۔🤪
ایک تحریر شائع ہوئی جس میں ویوز کی کمی کے اسباب پر غور ہوا۔
طویل بحث کے بعد نتیجہ یہ نکلا
کہ
قصور نہ مضمون کا ہے،
نہ لکھاری کا،
 قصور ہے پڑھنے والوں کا جو صرف لڑکی کی تحریر پڑھتے ہیں 😂
"ویوز گننے سے بہتر ہے مضمون کی اس خوبی کو تلاش کیا جائے جس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں 
کیونکہ 
اچھی تحریر دیر سے سہی مگر اپنا مقام بنا ہی لیتی ہے۔" 😄
کوئی دل پر نہ لے تفریح کے لیے لکھا ہے 😂😂😂😂😂😂
عائشہ 🍁