1997 کے بعد کی نسل میں ایک ایسی بات پائی جاتی ہے کہ اس سے پہلے پیدا ہونے والی نسلوں میں یہ کیفیت نہیں تھی۔ آئیے جانتے ہیں وہ کون سی باتیں ہیں۔

یہ بات ڈاکٹر جیرڈ (Dr. Jared) نے اپنی ایک تحقیق میں کہی ہے۔ نفسیات (Psychology) میں ایک تصور ہے جسے “فلن ایفیکٹ” (Flynn Effect) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر نئی نسل یادداشت اور ذہانت کے لحاظ سے پچھلی نسل سے بہتر ہوتی ہے۔

لیکن ڈاکٹر جیرڈ، جو بچوں کی تعلیم اور نفسیات کے حوالے سے خاص طور پر جانے جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ اب نہ صرف یہ سلسلہ رک گیا ہے بلکہ الٹی سمت میں چلنا شروع ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق 1970 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی اکثر نوجوان نسل اپنی پچھلی نسل کے مقابلے میں کم ذہنی صلاحیت رکھتی ہے۔ یعنی یہ پہلی نسل ہے جو اپنے والدین سے آگے جانے کے بجائے پیچھے جا رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ نسل پیدائشی طور پر ایسی نہیں ہے، بلکہ اس کی بڑی وجہ تعلیمی نظام، ماحول اور طرزِ زندگی (Lifestyle) ہے۔

آج کے بچے گھنٹوں اسکرین (Screen) کے سامنے وقت گزارتے ہیں۔ مختصر ویڈیوز (Short Videos) کے عادی ہو چکے ہیں۔ مطالعہ کم کرتے ہیں اور توجہ (Focus) برقرار رکھنا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔

دماغ کو مسلسل شارٹ ویڈیوز کا عادی بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے توجہ اور سوچنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

دنیا بھر کے مختلف تحقیقی اداروں کے مطابق اس نسل میں ذہنی دباؤ (Depression) اور جذباتی مسائل پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

کچھ رپورٹس کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک بچہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے، جبکہ بعض مطالعات کے مطابق “جنریشن زی” (Generation Z) کے تقریباً 42 فیصد نوجوان کسی نہ کسی ذہنی صحت (Mental Health) کے مسئلے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

یعنی وہ نسل جو سب سے زیادہ جڑی ہوئی (Connected) ہے، وہی سب سے زیادہ تنہائی (Loneliness) کا شکار بھی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھ میں اسکرین تھما دی ہے اور ان کا سکون چھین لیا ہے۔ ہم نے ضرورت کو عادت اور عادت کو مجبوری بنا دیا ہے۔

لیکن یہ نسل اپنی کھوئی ہوئی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کر سکتی ہے، اگر وہ اسکرین سے تعلق کم اور اپنے آپ سے تعلق مضبوط کر لے۔

طوفان احمری