Translation unavailable. Showing original.
محبت تلخی برداشت کرے، ضروری نہیں
10 جون، 2026
ہر انسان اپنی ذات میں کسی نہ کسی معاملے کو لیکر بے لاگ ضرور ہوتا ہے، خاص طور پر ان رشتوں میں جہاں ہم کسی کو اپنا سمجھ کر اس پر حق جتانے لگتے ہیں۔ جب کسی سے قربت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو دل میں جو کچھ بھی ہوتا ہے چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ ہم بلا جھجھک اسی ایک انسان پر اپنا ہر رویہ ظاہر کر دیتے ہیں۔
شاید ہم یہ سوچ کر ایسا کرتے ہیں کہ جسے ہم نے اپنا مان لیا ہے، وہ ہماری باتوں پر برا نہیں مانے گا۔ ہمارے لہجوں کی سختی سے زخمی نہیں ہوگا۔اور کوئی ردِعمل نہیں دے گا۔ حالانکہ جب ہم کسی کے ساتھ تلخ رویہ اختیار کرتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ اس تلخی کے پیچھے اس شخص کا بھی کوئی نہ کوئی عمل ضرور شامل ہو کوئی ایسا عمل جس نے ہمیں بے لاگ ہونے پر مجبور کیا۔ اور یقیناً ایسے معاملات میں غلطی صرف اسی انسان کی مانی جاتی ہے جس نے تلخ رویہ اختیار کیا ہو مگر دوسرا انسان اس کو شاید اپنی لاپرواہی نظر نہیں آتی۔
مجھے لگتا ہے اس دنیا میں سب سے آسان کام ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانا ہے، اور سب سے کٹھن مرحلہ کسی کی ناراضگی کا بوجھ اٹھانا۔
اگر ہم کسی کو اپنا سمجھ کر اس سے ناراض ہو جائیں روٹھ جائیں، تو یہ ضروری نہیں کہ وہ ہماری ناراضگی کی وجہ کو سمجھ لے یا اسے برداشت کر سکے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ شخص، جس سے ہم ناراض ہوتے ہیں، ہماری باتوں اور رویے کی وجہ سے خود بھی ناراض ہو جاتا ہے۔ پھر رشتہ بچانے کے لیے جھکنا اسی کو پڑتا ہے جو واقعی دل کی گہرائی سے تکلیف محسوس کر رہا ہو۔
اگر ہمیں یہ گمان ہے کہ ہم جس سے محبت کرتے ہیں، ہمیں اس سے ناراض ہونے کا حق حاصل ہے، تو شاید یہ ہماری بیوقوفی ہوگی۔۔۔
اس دنیا میں کوئی کتنا ہی محبت کا اظہار کیوں نہ کر دے، لیکن وہ کبھی آپ کی محبت میں خود کو نہیں بھول سکتا، حقیقت یہی ہے کہ کوئی بھی ہماری ناراضگی کا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتا۔ ہماری طرح ہر انسان اپنی زندگی میں آسانی چاہتا ہے۔ اور چاہے بھی کیوں نہ آخر کو یہ اس کا حق ہے۔
شاید بہت کم لوگ ایسے خوش نصیب ہوں گے جن کی ناراضگی کا واقعی کوئی دل سے بوجھ اٹھا لے، جس کی غلطیوں کو وہ نادانی سمجھ کر برداشت کر لے… مگر جہاں تک میرا خیال ہے، آج کے دور میں ایسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں۔ آج ہر کوئی اپنے لیے جیتا ہے، اپنی
آسانی چاہتا ہے۔۔۔۔
ثناء کوثر