*گھر واپسی محبتوں میں لپٹا ایک ناقابلِ فراموش دن*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_________________________________
صبح کی ٹھنڈی ہوا سفر کی تھکن اور اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو آج کا دن میری زندگی کے اُن خوبصورت دنوں میں سے ایک تھا جسے شاید میں کبھی فراموش نہ کرسکوں۔ آج صبح تقریباً 6 بجے میں اپنے وطن کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ رات بھر کے سفر کے بعد جب ٹرین رکی اور میں پلیٹ فارم پر اترا تو دل میں ایک عجیب سی راحت اور خوشی محسوس ہورہی تھی کہ آخرکار میں اپنے وطن اپنے لوگوں اور اپنے گھر والوں کے قریب پہنچ چکا ہوں۔
اگرچہ گھر پہنچنے کی بےتابی اپنے عروج پر تھی لیکن ایک ضروری کام کی وجہ سے مجھے ریلوے اسٹیشن پر تقریباً دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ انتظار کے وہ لمحات بظاہر تو عام تھے لیکن دل مسلسل گھر والدین اور اپنوں سے ملاقات کے تصور میں گم تھا۔ کبھی گھڑی پر نظر جاتی کبھی دل میں خیال آتا کہ معلوم نہیں سب لوگ کس بےچینی سے میرا انتظار کررہے ہوں گے۔
بالآخر جب میرا کام مکمل ہوگیا تو میرے برادرِ کبیر صاحب مجھے لینے کیلئے اپنی بائک سے تشریف لائے۔ ان کو دیکھ کر بھی دل کو ایک سکون ملا کہ اب گھر کی مسافت چند لمحوں کی مہمان ہے۔ ہم دونوں بائک پر سوار ہوئے اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے بھر بچپن کی یادیں پرانے راستے بازار کی رونقیں اور وطن کی فضا دل کو ایک خاص قسم کی خوشی دے رہی تھی۔
جیسے ہی ہم اپنے گھر کے قریب واقع بازار میں پہنچے اچانک والد صاحب کی نظر مجھ پر پڑی۔ وہ لمحہ میرے لئے ناقابلِ بیان تھا۔ والد صاحب نے مجھے دیکھا ان کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی وہ فوراً میری طرف بڑھے اور محبت بھرے انداز میں مجھے گلے سے لگا لیا۔ اُس لمحے دل کی کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا شاید ممکن نہیں بےساختہ دل سے نکلا فبأي آلاء ربكما تكذبان
واقعی اُس لمحے مجھے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اپنی آنکھوں کے سامنے محسوس ہورہی تھیں۔ والد کی محبت اُن کا شفقت بھرا انداز اُن کی مسکراہٹ دل میں عجیب کیفیت پیدا کررہی تھی دل کہہ رہا تھا کاش یہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو وقت یہیں رک جائے اور یہ خوشی ہمیشہ کیلئے باقی رہے۔
پھر بھائی کے ساتھ جب ہم گھر کے دروازے کے قریب پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر دل مزید خوشی سے بھر گیا والدہ محترمہ بہنیں اور گھر کے دیگر افراد گویا میرے استقبال کیلئے منتظر کھڑے تھے۔ جیسے ہی امی کی نظر مجھ پر پڑی اُن کے چہرے پر خوشی کی ایک الگ ہی چمک نمودار ہوگئی۔ وہ جلدی سے میری طرف آئیں محبت سے مجھے چومنے لگیں ہاتھوں کو تھاما مسکرائیں دعائیں دیں اور اُن کی آنکھوں میں ممتا شفقت اور بےپناہ محبت صاف جھلک رہی تھی۔
سچ کہوں تو اُس وقت میں بھی دل کی گہرائیوں سے بےحد خوشی محسوس کررہا تھا۔ گھر ماں باپ بہن بھائی اور اپنوں کے درمیان ہونے کا احساس ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
اسی دوران میری چھوٹی بہن محبت بھرے انداز میں پانی لے کر آئی اور ادب و خوشی کے ساتھ پیش کیا۔ یہ چھوٹے چھوٹے لمحات انسان کی زندگی کے بڑے خزانے ہوتے ہیں۔ پھر میں نہا دھوکر فریش ہوگیا۔ سفر کی تھکن بھی اب خوشیوں کے سامنے ماند پڑچکی تھی۔
تھوڑی دیر بعد امی نے میرے لئے میرا سب سے پسندیدہ کھانا تیار کرکے رکھا تھا۔ جب میں کھانے کیلئے بیٹھا تو صرف کھانا ہی مزیدار نہیں تھا بلکہ اُس میں ماں کی محبت انتظار کی مٹھاس اور اپنائیت کی خوشبو شامل تھی۔ میں کھانا کھا رہا تھا اور اِدھر گھر والوں کے چہروں پر خوشی کی ایک الگ ہی کیفیت تھی۔ ہر چہرہ مسکرا رہا تھا ہر آنکھ میں خوشی تھی اور ہر دل گویا شکر کے جذبات سے لبریز تھا۔
واقعی جب گھر کے تمام افراد ایک ساتھ جمع ہوں ہنستے مسکراتے ہوں محبتیں بانٹ رہے ہوں تو اُس خوشی کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ایک خوبصورت مجلس جمی ہر طرح کی باتیں ہوئیں سفر کے احوال پوچھے گئے پرانی یادیں تازہ ہوئیں ہنسی مذاق ہوا خوب دل لگی ہوئی ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے گھر کی دیواریں بھی ہماری خوشیوں میں شریک ہوں۔
اسی دوران میری نانی جان بھی تشریف لائیں۔ مجھے دیکھ کر وہ بھی بےحد خوش ہوئیں دعائیں دیں محبت کا اظہار کیا۔ اُن کی خوشی دیکھ کر میری خوشی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
آج کے یہ تمام لمحات میرے لئے بےحد قیمتی یادگار اور انمول رہے۔ یہ صرف ملاقات نہیں تھی بلکہ محبتوں دعاؤں اپنائیت اور خاندانی خوشیوں کا ایک حسین منظر تھا جسے میں شاید کبھی بھلا نہ سکوں۔
میں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ ہمارے والدین بہن بھائی نانی اور تمام اہلِ خانہ کو ہمیشہ سلامت خوش شاد و آباد رکھے ہماری محبتوں کو قائم رکھے ہمارے گھروں میں ہمیشہ خوشیوں کی بہار باقی رکھے اور ہمیں ایک دوسرے کیلئے رحمت سکون اور خوشی کا ذریعہ بنائے آمین یارب العالمین۔