زندگی میں کچھ زخم جو جسم پر نہیں، بلکہ روح پر لگتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، موسم بدل جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، مگر وہ زخم جو روح کی گہرائیوں میں ہے وہ نہیں بھرتا، بس خاموشی سے دل میں زندہ رہتا ہے۔ بظاہر انسان مسکراتا ہے، لوگوں میں بیٹھتا ہے، معمول کے مطابق زندگی گزارتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک ایسی خاموش تکلیف بسی ہوتی ہے جسے کوئی دوسرا کبھی نہیں دیکھ پاتا۔
وہ زخم شاید کسی اپنے کے بدل جانے کا ہوتا ہے، کسی ادھورے خواب کا جو تعبیر سے محروم ہوتے ہیں، یا پھر کسی ایسی خواہش کا جو کبھی مکمل نہ ہو سکی۔ 
ان زخموں کی ابتدا میں انسان بہت کوشش کرتا ہے کہ وہ ہر تکلیف کو بھلا دے، خود کو مصروف رکھے، اپنے دل کو سمجھائے، مگر ایسا ہو یہ ضروری نہیں، کچھ احساس ایسے ہوتے ہیں جس سے انسان کبھی باہر نہیں آپاتا، وہ احساس ایک درد بن کر روح میں بس جاتا ہے وقت اگرچہ انسان کو جینا سکھا دیتا ہے، مگر بعض زخم مکمل طور پر نہیں بھرتے اور یہ انسان کو پہلے سے زیادہ خاموش، زیادہ گہرا، اور زیادہ حساس بنا دیتے ہیں۔ اگر انسان مظبوط ہو تو یہ درد انسان کو توڑتا نہیں، بلکہ کبھی کبھی یہی درد اس کی شخصیت میں ایک عجیب سی پختگی پیدا کر دیتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان اس زخم کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے، اور خاموشی کے ساتھ اسے دل کہ کسی کونے میں چھپا لیتا ہے، جیسے کسی کتاب میں رکھا ہوا کوئی سوکھا پھول جو اپنی خوشبو تو کھو چکا ہو، مگر اپنی یاد ہمیشہ باقی رکھتا ہے۔