Translation unavailable. Showing original.
بہار پر خزاں لازم ہے
08 جون، 2026
کبھی کبھی انسان کا گھر بھی ایک خوبصورت باغ کی مانند ہوتا ہے جہاں رشتوں کی صورت میں رنگ برنگے پھول کھلا کرتے ہیں، جہاں محبت کی خوشبو فضاؤں میں مہکتی ہے، جہاں خوابوں کے بیج بوئے جاتے ہیں، جہاں ہر پھول کے اندر احساس زندہ رہتے ہیں، جہاں بڑے شجر کی آغوش میں چھوٹے پودوں کی روح مسکرایا کرتی ہے اور جہاں اپنائیت کی ٹھنڈی ہوا انسانی ذہن کو تازہ رکھتی ہے۔
مگر شاید قدرت کا اصول ایک یہ بھی ہے کہ ہر بہار کے بعد خزاں کا امکان باقی رہتا ہے، ہر باغ کو خزاں کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، ہر باغ ہمیشہ آباد نہیں رہتا۔ کچھ باغ وقت کی سخت دھوپ، خشکی کی شدت، اور کبھی کبھی آندھی، طوفان کی نظر ہو کر اپنی ساری رونق کھو دیتے ہیں۔
شاید ایسا ہی کچھ انسانی رشتوں کے باغ میں بھی ہوتا ہے، جہاں ہنستے مسکراتے ہوئے باغ میں کچھ لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، کبھی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں، کبھی خواب وقت کی دھول میں کہیں کھو جاتے ہیں اور کبھی کچھ جانیں ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں اور پھر وہ وقت بھی آتا ہے جب وہی ہنستا بستا باغ رفتہ رفتہ ویران ہوتا چلا جاتا ہے۔
انسانی رشتوں میں اجڑے ہوئے باغ کی سب سے بڑی تکلیف یہ نہیں ہوتی کہ وہاں پھول نہیں رہے، بلکہ اصل تکلیف یہ ہوتی ہے کہ انسان کو آج بھی اس باغ کی پرانی خوشبو یاد رہتی ہے۔ وہ راستے، وہ موسم، وہ احساس، سب ذہن میں زندہ رہتے ہیں مگر لوٹ کر کبھی نہیں آتے۔ انسان لاکھ کوشش کرے، مگر کچھ چیزیں صرف یادوں میں ہی کھو جاتی ہیں۔ اگر کچھ زندہ رہتا ہے تو صرف امیدیں، "امید" کسی کلی کے دوبارہ کھل اٹھنے کی، کسی پھول کی پھر سے مہکنے کی، کسی پودھے کے مسکرانے کی اور کسی سوکھے شجر کے پھر سے سرسبز ہو جانے کی، اور بس یہی امید انسان کو دوبارہ جینے، دوبارہ مسکرانے، اور دوبارہ خواب دیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ پھر دھیرے دھیرے انسان سیکھ لیتا ہے کہ ہر دن خوشی سے بھرا نہیں ہوتا، نہ ہی اس دنیا میں کچھ بھی مکمل حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہر شے میں فراق موجود ہے اور ہر بہار پر خزاں لازم ہے۔
ہاں مگر انسان کی زندگی میں آنے والی ویرانی بغیر کسی مقصد کے نہیں آتی بلکہ یہ انسان کو کسی نئی روشنی، کسی نئے شعور اور کسی نئی صبح کی جانب لے کر چلی جاتی ہے۔۔۔