Translation unavailable. Showing original.
لڑکی کی شادی میں تاخیر
08 جون، 2026
آج کل ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی کی شادی میں تاخیر ہونا ایک عام مگر افسوس ناک حقیقت بن چکی ہے، اور معاشرے میں اکثر اس حقیقت کو محض لڑکی کا نصیب سمجھ کر اگنور کر دیا جاتا ہے حالانکہ اس لاپرواہی کو نصیب کے کھاتے میں ڈال دینا انصاف نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ لڑکی کی شادی میں تاخیر کہیں نہ کہیں ایک لاپرواہی ہے جس میں کسی نہ کسی درجے میں سماج والدین اور خود لڑکیوں کا بھی قصور شامل ہے۔۔۔
جب ایک لڑکی شادی کی عمر میں پہنچتی ہے تو ماں باپ رشتہ دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ اگر تو لڑکی کا بیک گراؤنڈ مضبوط ہے تو وہاں والدین اپنا غیر ضروری معیار، ذات پات، مالی حیثیت، حسن و جمال اور لوگوں کی باتوں کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ کئی مناسب اور دیندار رشتہ بھی صرف اس بنیاد پر چھوڑ دیتے ہیں کہ لڑکے کی مالی حیثیت ٹھیک نہیں ہے، یا لڑکے کی ذات الگ ہے وغیرہ۔
دوسری طرف اگر لڑکی کے والدین مضبوط نہیں ہیں، ان کے پاس اپنی بیٹیوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو وہ اپنا رویہ کچھ اس طرح رکھتے ہیں کہ: "ہم کیسے بیٹی کی شادی کریں گے، ہمارے پاس تو بیٹی اور اس کے سسرال والوں کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔"
ان والدین کے اندر اس قدر مایوسی ہوتی ہے کہ پھر وہ اپنی اس مایوسی میں اپنی بیٹیوں کو کئی سالوں تک گھر میں بیٹھا کر رکھتے ہیں اور ان کے لیے ذرا بھی کوشش نہیں کرتے۔ جبکہ دوسرے اور معاملات میں وہ اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں، پیٹ پھرنے کے لیے محنت کرتے ہیں، لیکن جب بیٹی کی شادی کرنی ہو تو اللہ پر ان کا توکل ہی کمزور ہو جاتا ہے۔ کاش وہ یہ بات سمجھتے کہ "وہ اپنے رب سے جیسا گمان رکھیں گے، اللہ انہیں ویسا ہی عطا کرے گا۔"
لیکن اگر یہاں کچھ کمزور والدین ہمت کرکے بیٹی کا رشتہ دیکھنے کے لیے نکل بھی جائیں تو پھر سچ یہ بھی ہے کہ سماج انہیں مایوس کرتا ہے۔ کہیں لڑکے کے ماں باپ کی توقعات ان کے سامنے رکھ دی جاتی ہیں، کہیں خود لڑکے اپنی خواہشات ظاہر کرتے ہیں، کہیں لڑکا کسی لڑکی کو پسند کر بھی لے تو وہاں والدین کے نخرے بڑھ جاتے ہیں، تو کہیں ماں باپ کے لیے ان کا جوان بیٹا بچہ ہی رہتا ہے، اور بھی نا جانے کیا کیا۔۔۔۔
اور آخری قصور میں لڑکیوں کا بھی سمجھتی ہوں...
یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم لڑکیوں کو بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ لڑکیاں اپنے رشتے کی بات خود کرتی ہوئی اچھی نہیں لگتیں کیونکہ یہ ان کی حیا کے خلاف ہے۔
مگر اس گھر کا کیا جہاں مضبوط والدین اپنے معیار کے چکر میں بیٹیوں کو بیٹھا کر رکھتے ہیں، جہاں کمزور والدین اللہ کی ذات سے مایوس ہوتے ہیں، اور جو کچھ نہ ہونے کے سبب اپنی کوششوں سے جی چراتے ہیں...
میرا ماننا ہے کہ ایسے گھروں میں لڑکیاں اگر پڑھی لکھی اور اسلام کو سمجھنے والی ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ ان کو اپنے لیے خود بھی کوشش کرنی چاہیے، وہ اپنے گھر والوں کو سمجھا سکتی ہیں، اپنے والدین کے لیے حوصلہ بن سکتی ہیں، ہو سکتا ہے ان کا اپنے ماں باپ کو اس طرح حوصلہ دینا ان کے اندر چھپی ہمت اور عزم کو بیدار کر دے، ہو سکتا ہے ان کی یہ ہمت ناممکن کو بھی ممکن بنا دے۔۔۔
اسلام نے کہیں بھی لڑکیوں کو ان کی پسند سے نہیں روکا، نہ ان کو اس حق سے محروم رکھا کہ وہ اپنے رشتے کی بات خود نہیں کر سکتیں۔ اگر ہم تاریخ اسلام کو پڑھیں تو ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہے کہ لڑکیاں اپنے رشتے کی بات خود بھی کر سکتی ہیں اور اس سے ان کی حیا میں کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہوگا۔
اور میں مانتی ہوں کہ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ زندگی میں کچھ فیصلے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تقدیر سے بھی وابستہ ہوتے ہیں، لیکن بات اصل کوشش کی ہے، جب تک انسان کوشش نہیں کرتا تب تک اس کو حاصل بھی لاحاصل ہی نظر آتا ہے اور پھر انسان اپنی اس ناکامی کو نصیب کے پلڑے میں ڈالا دیتا ہے حالانکہ بغیر کوشش کسی چیز کو نصیب کا نام دے دینا، یہ بات مجھے مناسب نہیں لگتی، بلکہ یہ انسان کی کمزوری ہے جسے وہ اکثر نصیب کا کہہ کر ہی ٹال دیتا ہے۔