طلبِ علم کی اہمیت اور امت کی تعمیر و بقا میں اس کا فیصلہ کن کردار
اسلام کی پوری عمارت جس بنیاد پر قائم ہے وہ علم ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی یا سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک الٰہی فریضہ اور مقصدِ حیات ہے۔ وحیِ الٰہی کا آغاز ہی جس کلمہ سے ہوا وہ تھا: “اِقْرَأْ” (پڑھو) یہ لفظ انسانی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ یہ صرف ایک حکم نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک مکمل نظامِ حیات اور ایک فکری بیداری کا اعلان تھا۔
اقرا باسم ربک الذی خلق ۔ خلق الانسان من خلق ۔ اقرا وربک الاکرم ۔ الذی علم بالقلم ۔ علم الانسان ما لم یعلم(سورہ علق، ۱ تا ۵)
(اے محمد) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا ۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔ خالق کائنات نے اپنی وحی کی اس پہلی قسط اور باران رحمت کے اس پہلے چھینٹے میں بھی اس حقیقت کے اعلان کو موخر وملتوی نہیں فرمایا کہ علم کی قسمت سے وابستہ ہے غار حرا کی اس تنہائی میں جہاں ایک نبی امی اللہ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لیے پیغام لینے گیا تھا اور جس کا یہ حال تھا کہ اس نے قلم کو حرکت دینا خود بھی نہیں سیکھا تھا، جو قلم کے فن سے یکسر واقف نہ تھا۔ کیا دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر کہیں مل سکتی ہے؟ اور اس بلندی کا تصور بھی ہو سکتا ہے کہ اس نبی امی پر ایک امت امی اور ایک ناخواندہ ملک کے درمیان (جہاں جامعات اور دانش گاہیں تو بڑی چیز ہیں، حرف شناسی بھی عام نہیں تھی) پہلی بار وحی نازل ہوتی ہے اور آسمان وزمین کا رابطہ صدیوں بعد قائم ہوتا ہے تو اس کی ابتدا ہوتی ہے اقرا سے۔ جو خود پڑھا ہوا نہیں تھا، اس پر جو وحی نازل ہوتی ہے، اس میں اس کو خطاب کیا جاتا ہے کہ پڑھو۔ یہ اشارہ تھا اس طرف کہ آپ کو جو امت دی جانے والی ہے، وہ امت صرف طالب علم ہی نہ ہوگی بلکہ معلم عالم اور علم آموز ہوگی۔ وہ علم کی اس دنیا میں اشاعت کرنے والی ہوگی۔ جو دور آپ کے حصے میں آیا ہے، وہ دور امیت کا نہیں ہوگا، وہ دور وحشت کا دور نہیں ہوگا، وہ دور جہالت کا دور نہیں ہوگا، وہ دور علم دشمنی کا دور نہیں ہوگا ،وہ دور علم کا دور ہوگا، عقل کا دور ہوگا، حکمت کا دور ہوگا، تعمیر کا دور ہوگا، انسان دوستی کا دور ہوگا، وہ دور ترقی کا دور ہوگا۔
باسم ربک الذی خلق (اس پروردگار کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا) بڑی غلطی یہ تھی کہ علم کا رشتہ رب سے ٹوٹ گیا تھا اس لیے علم سیدھے راستے سے ہٹ گیا تھا۔ اس ٹوٹے ہوئے رشتہ کو یہاں جوڑا گیا۔ جب علم کو یاد کیا گیا، اس کو یہ عزت بخشی گئی تو اس کے ساتھ ساتھ اس کی بھی آگاہی دی گئی کہ اس علم کی ابتدا اسم رب سے ہونی چاہئے اس لیے کہ علم اسی کا دیا ہوا ہے، اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اسکی رہنمائی میں یہ متوازن ترقی کر سکتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی انقلاب آفریں، انقلاب انگیز اور صاعقہ آسا آواز تھی جو ہماری دنیا کے کانوں نے سنی تھی، جس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ اگر دنیا کے ادیبوں اور دانش وروں کو دعوت دی جاتی کہ آپ لوگ قیاس کیجئے کہ جو وحی نازل ہونے والی ہے، اس کی ابتدا کس چیز سے ہوگی؟ اس میں کس چیز کو اولیت دی جائے گی تو میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے ایک آدمی بھی جو اس امی قوم اور اس کے مزاج اور دماغ سے واقف تھا، یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اقرا کے لفظ سے شروع ہوگی۔ یہ ایک انقلاب انگیز دعوت تھی کہ علم کا سفر خدائے حکیم وعلیم کی رہنمائی میں شروع کیا جا نا چاہئے اس لیے کہ یہ سفر بہت طویل، پر پیچ اور بہت پر خطر ہے ۔ یہاں دن دہاڑے قافلے لٹتے ہیں، قدم قدم پر مہیب وعمیق گھاٹیاں ہیں، گہرے دریا ہیں، قدم قدم پر سانپ اور بچھو ہیں، اس لیے اس میں ایک رہبر کامل کی رفاقت ہونی چاہئے اور وہ رہبر کامل حقیقتا خدا کی ذات ہے۔ مجرد علم وادب نہیں، وہ علم مقصود نہیں جو بیل بوٹے بنانے کا نام ہے، جو محض کھلنوں سے کھیلنے کا نام ہے۔وہ علم نہیں جو محض دل بہلانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جو ایک کو دوسرے سے لڑانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جو قوموں کو قوموں سے ٹکرانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جو اپنے معدہ کی خندق کو بھرنے کا ذریعہ سکھانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جوزبان کو صرف استعمال کرنا سکھاتا ہے، بلکہ اقرا باسم ربک الذی خلق ۔ خلق الانسان من علق ۔ اقرا وربک الاکرم ۔ الذی علم بالقلم ۔ علم الانسان ما لم یعلم ’’پڑھو، تمہارا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ وہ تمہاری ضرورتوں سے، تمہاری کمزوریوں ے کیسے ناآشنا ہو سکتا ہے؟ اقرا وربک الاکرم ۔ الذی علم بالقلم آپ خیال کیجئے کہ قلم کا رتبہ اس سے زیادہ کس نے بڑھایا ہوگا کہ اس غار حرا کی پہلی وحی نے بھی قلم کو فراموش نہیں کیا۔ وہ قلم جو شاید ڈھونڈنے سے بھی مکہ کیکسی گھر میں نہ ملتا۔ اگر آپ اسے تلاش کرنے کے لیے نکلتے تو شاید معلوم نہیں کسی ورقہ بن نوفل کے یا کسی کاتب کے جو دیار عجم سے کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ کر آیا ہو، گھر میں ملتا۔ اور پھر ایک بہت بڑی انقلاب انگیز اور لافانی حقیقت بیان کی کہ علم کی کوئی انتہا نہیں۔ علم الانسان ما لم یعلم ۔انسان کو سکھایا جس کا اس کو پہلے سے علم نہ تھا۔ سائنس کیا ہے؟ ٹیکنالوجی کیا ہے؟ انسان چاند پر جا رہا ہے، خلا کو ہم نے طے کر لیا ہے، دنیا کی طنابیں کھینچ لی ہیں، یہ سب علم الانسان ما لم یعلم کا کرشمہ نہیں تو کیا ہے؟
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا۔ اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم وپیچ میں الجھا ایسا۔ آج تک فیصلہ نفع وضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا۔ زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
دینی تعلیم کی اہمیت و فضیلت مسلم ہے. قرآن و حدیث میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے متعلق بہت تاکید آئی ہے اور اس کی اہمیت و فضیلت کو ہمارے نبی پاک ﷺ نے خوب اجاگر کیا ہے ، دینی تعلیم جہاں نعمت خداوندی ہے وہیں رحمت ربانی بھی ہے، جہاں ذریعہ برکت ہے تو وہیں باعث نجات اور وجہِ سربلندی ہے، اصل علم تو دینی تعلیم ہے،یہی علم ِدین انسان کو گمراہی سے ہدایت تک پہنچاتا ہے، تاریکی کے اندھیروں سے نکال کر نور ہدایت سے روشناس کرتا ہے،اسی علم دین سے وابستگی نے قومِ مسلم کو ہرمحاذ پر کامیاب کیا، مگر موجودہ دور میں دینی تعلیم سے نا آشنائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ بہت سارے لوگ وضو اور غسل کے فرائض سے بھی ناواقف ہیں جو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے کافی شرمناک ہے اس محرومی کی سب سے بڑی اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین کی تربیت کا ڈھنگ بدل چکا ہے اب وہ اپنے بچوں کو پہلے انگریزی زبان اور مغربی تہذیب و تمدن سے آشنا کروانا پسند کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بچپن ہی سے دینی تعلیم سے محروم ہونے کے سبب اسلام اور اس کی تعلیمات سے بہت دور ہو چکے ہوتے ہیں حتیٰ کہ حرام و حلال کی تمیز بھی نہیں کر پاتے۔درج ذیل سطور میں دینی تعلیم کی فضیلت ، اہمیت اور ضرورت کے تحت چند سطور قارئین کی خدمت میں پیش كرنا مقصودہے ۔ ہمیں دینی تعلیم کے حصول کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے،قرآن کریم کے تقریباً 78 ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو اللہ عزوجل نے رسول کریم ﷺ کے قلب اطہر پہ نازل فرمایا وہ ’’ إقرأ ‘‘ہے یعنی پڑھیئے اور قرآن پاک کی 6ہزارسے زائد آیتوں میں سب سے پہلے جو 5 آیتیں نازل فرمائی گئیں، ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم ِدین کی عظمت وفضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی امت کے نام اپنے پہلے ہی پیغام میں علم ِدین کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
اے پیغمبر ! آپ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا ہے، (اور) انسان کو خون کےلوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا، انسان کو وہ کچھ سکھادیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ سورہ علق کی ان پانچ آیات کے ساتھ نزولِ قرآن پاک کا آغاز ہوا ، یہ وحی الہی کی پہلی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے دینی علم کی اہمیت کے پیش نظر لفظ ’’ إقرأ ‘‘ کو تکرار کے ساتھ لاکر دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ۔پہلی دفعہ حصول علم کے حکم کے ساتھ اپنی خالقیت کا تذکرہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان کے وجود کا مقصد ہی دینی علم سے واقفیت ہے ۔دوسری دفعہ حکم کے ساتھ اپنی شان کریمی کا تذکرہ اس بات کی طرف اشارہ ہے اگر مسلمان دنیا وآخرت میں قابل تکریم رہنا چاہتے ہوں تو سب سے پہلے اسلامی تعلیم حاصل کریں ۔ امیر امؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا. ثم قَالَ الإمامُ البخاري رحمه الله: وَبَعْدَ أَنْ تُسَوَّدُوا، وَقَدْ تَعَلَّمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِبَرِ سِنِّهِمْ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ سرداری دی جانے سے پہلےدین کی سمجھ حاصل کرو ،اور امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سردار بنائے جانے کے بعد بھی علم حاصل کرو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے بڑھاپے میں بھی دین سیکھا۔ لہذا معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم حاصل کرنا مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ کا اولین حکم ہے ، یہ حقیقت میں مقصد حیات کے ساتھ عزت وشرافت کی ایک مضبوط بنیاد بھی ہے ، جس سے صحیح معنوں میں وابستگی دنیا کی قیادت وسیادت کا اہل بنادیتی ہے ، اسی لیے اسلام نے دینی تعلیم کو مسلمانوں کے لیے اختیاری نہیں رکھا بلکہ لازمی قرار دیا ہے چنانچہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: طلبُ العلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلمٍ۔ شرعی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
حصول ِعلم کی فرضیت کی نوعیت ۔ ۔۔۔۔۔ علم دو طرح پر فرض ہے ، فرض کفایہ اور فرض عین فرض کفایہ : یہ ہے کہ جمیع عقائد و احکام کا تفصیلی علم(دلیل و استدلال کے ساتھ ) اس کا سیکھنا اور سکھلانا مت پر فرض ہے ،دوسرے لفظوں میں ایسے علماء تیار کرناجو اسلام کےعقائد و احکام کوامت کے عام افراد تک کماحقہا پہنچائیں ، اور علمی دفاع کرسکیں ، (یہ علم اگر کچھ افراد بھی سیکھ لیں تو دوسروں کو کفایت کرتا ہے ) فرض عین : فرض عین وہ علم جو ہر فرد امت پر کسی نہ کسی صورت میں سیکھنا فرض ہے ،یہ ان عقائد و احکام کا اس قدرعلم ہے جس کے نہ ہونے سے بنیادی ایمان میں خلل و نقص آتا ہےاور اسی طرح عملی فرائض کا سیکھنا بھی فرض ہے ، جن کے بغیر اطاعت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ، اور نجات اخروی سے محرومی ہوتی ہے ۔ کونسا علم فرض ہے؟ اسلام جس علم کو واجب اور ضروری قرار دیتا ہے اور جس علم کی بنیادی اور اولین اہمیت ہے وہ علم دین اور علم آخرت ہے ۔ علم دین سے محروم انسان چاہے دنیا کے کیسے ہی اہم اور عظیم الشان علوم و فنون کا فاضل اور ماہر ہو ، دین و شریعت کی نظر میں وہ جاہل ہی ماناجائے گا۔ کیونکہ علم دین ہی وہ علم ہے جو انسان کو اس کے خالق اور رب کا عرفان عطا کرتا ہے ۔ ذہن و فکر کو صحیح عقائد اور اعلیٰ خیالات کی جلا بخشتاہے ۔ اعمال و افعال کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا صحیح رخ دے کر اس صراط مستقیم پر گامزن کرتا ہے ۔ جو دائمی نجات اورابدی عزت و افتخار کا باعث ہے ۔ اس لئے قرآن و حدیث میں جہاں کہیں بھی ’’ علم ‘‘ کا لفظ آیا ہے ، مفسرین کی وضاحت کے مطابق تمام جگہوں پر علم دین مراد ہے ، جس کا تعلق قرآن و حدیث اور فقہ کے جاننے اور سیکھنے سے ہے ۔حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ: أَنْ يَعْرِفَ الصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ ، وَالْحَرَامَ وَالْحُدُودَ وَالْأَحْكَامَ۔ جس علم کو سیکھنا فرض ہے، اس سے مراد وہ علم ہے، جس کے ذریعے روزہ، نماز، حلال و حرام اور حدود و احکام شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہو۔ اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہرشخص پر اس قدر علم سیکھنا واجب ہے جس قدر سیکھے بغیر اس پر عائد فرائض کی ادائیگی ممکن نہیں ، جیسے ، وضو ء اور نماز کے مسائل ، اسی طرح اس شخص کے لیے زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے مسائل جس کے پاس مال ہو ، فرماتے ہیں ـ ”جس قدر علم سیکھنا اس پر فرض ہو چکا ہے اس قدر علم سیکھنے کے لیے اگرگھر سے والدین کی اجازت کے بغیر نکلنے کی ضرورت پڑے تو نکل کر سیکھ لینا چاہیے ـ البتہ علم کے باقی مسائل جن کا تعلق فرض کفایہ سے ہے ان کے سیکھنے کے لیے والدین کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے. امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے ایک بار پوچھا گیا : کس قدر علم سیکھنا ہرشخص پر ضروری ہے اور اس سے ناواقف رہنے کی گنجائش نہیں ؟ فرمایا : ”کسی بھی چیز کی طرف پیش قدمی علم کے بغیر نہ کرے ، بلکہ سوال کے ذریعہ علم حاصل کرے ، مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر کسی شخص کے پاس مال و دولت نہیں تو زکوٰۃ کے مسائل سیکھنا واجب نہیں ، البتہ اگر اس کے پاس دو سو درہم چاندی ہو ، تو اس پر زکاتہ کے مسائل کا اس قدر سیکھنا واجب ہے کہ جس سے وہ اس فریضہ کو ٹھیک طریقے سے ادا کر سکے، یعنی مذکورہ مال سے کس قدر زکاتہ نکالنی ہوگی ـ کب اور کہاں اسے ادا کرنا ہوگا ، یہی معاملہ باقی فرائض کے ساتھ بھی ہے ـ عبداللہ بن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والدمحترم (یعنی امام احمد بن حنبل متوفی 241ھ) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس پر طلب علم واجب ہے؟ آپ نے فرمایا ”اس قدر علم کہ جس سے نماز ، روزہ ، نیز دیگر شرائع اسلام کو صحیح طریق سے قائم کر سکے” ہر شخص پر حاصل کرنا ضروری ہے ـ آج ملت کے نونہالوں کی بڑی تعداد جہالت میں گھری ہوئی ہے، جن کے مستقبل کی فکر ان کے والدین کو ہونی چاہئے اور اس کے لئے جنگی خطوط پر کام کرنے اور دینی مدارس کو دور حاضر سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ دینی تعلیم کی اہمیت وفضیلت ،قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلمان کے لیے اسلامی تعلیم حاصل کرنا نہ صرف ایک واجب الادا فریضہ ہے بلکہ اس فریضے کی بڑی اہمیت وفضیلت بھی ہے ، اللہ تعالی ٰکا ارشاد ہے : يَرْفَعِ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ۔ اللہ تم میں سے ایمان والوں اور اہل علم کے درجات بلند کرے گا ۔ قرآن کا علم ترقی کا ذریعہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إنَّ اللهَ يرفعُ بهذا الكتابِ أقوامًا ويضعُ به آخرِينَ بے شک اللہ تعالی اس کتاب کے ذریعہ قوموں کو اٹھاتا ہے اور اسی کتاب کے بدلے قوموں کو نیچے بھی گراتا ہے ۔ یعنی جوقوم قرآن کو پڑھتی ہے اور اس پر عمل کرتی ہے اللہ اسے بلند کرتا ہے اور جو قوم قرآن سے اعراض کرتی ہے اور اس کے مقتضیات پر عمل کرنے سے گریز کرتی ہیں اللہ اسے ذلیل ورسواکرتا ہے اور نیچے گرادیتا ہے ۔ ان دونوں قرآنی آیت وحدیث سے معلوم یہ ہوا کہ قرآن ہی انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر ترقی کا زینہ ہے اسی لئے قرآن کوسیکھنےاورسکھانےوالے کو سب سے بہتر کہا گیا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : خيرُكم مَن تعلَّم القرآنَ وعلَّمَهُ ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ‘‘۔ علم کا راستہ ، جنت کا راستہ۔ من سلكَ طريقًا يلتمسُ فيه علمًا ، سهَّل اللهُ له به طريقًا إلى الجنةِ دوسری جگہ ارشاد فرمایا وإنَّ الملائكةَ لتضعُ أجنحتَها رضًا لطالبِ العِلمِ ، وإنَّ العالِمَ ليستغفرُ له من في السماواتِ ومن في الأرضِ۔ علم انبیاء کی میراث وإنَّ العلماءَ ورثةُ الأنبياءِ علمائے حق کی عظمت، اللہ کی معرفت، امت کی اصلاح، اور معاشرے کی تعمیر سب علم دین سے وابستہ ہیں۔ یہ تمام دلائل اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ: علم دین انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ یہی امت کی بقا اور سربلندی کی ضمانت ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے، اس پر عمل کی توفیق دے، اور امتِ مسلمہ کو دوبارہ علم و حکمت کا علمبردار بنائے۔ آمین یا رب العالمین