جب امتِ مسلمہ میں دانا مفقود ہوگئے،
زعمائے امت نے خاموشی اختیار کرلی،
دردِ امت سے نا آشنا شخصیات کی بہتات ہوگئی،
یہاں تک کہ غزہ میں مسلمان بھوک و پیاس سے بلک بلک کر جانِ آفریں کے سپرد کرنے لگے۔
ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود،
معیشت مضبوط ہونے کے باوجود،
جب احساسِ انسانیت ختم ہوگئی،
مظلوم مسلمان قیامت کی راہ تکنے لگے،
علماء و صلحاء زمین کے لپیٹے جانے کا انتظار کرنے لگے،
جب اتحادِ امت کی دعوت دینے والے لوگ مفقود ہوگئے،
ایسے میں ایک شخص اٹھا،
سادات کا چشم و چراغ،
جو کبھی افغانستان کی چوٹیوں پر لڑا،
اور کبھی کشمیر کے برف پوش پہاڑوں کو اپنے قدموں سے روندا،
امت کی حالتِ زار دیکھی نہ گئی،
بوسنیا کے لیے تڑپا،
تو کبھی غزہ کے لیے نکلا،
کبھی صمود فلوٹیلا کا رکن بنا،
تو کبھی اسمبلی میں مظلوموں کے لیے گرجا،
کبھی اتحادِ امت کے لیے ترکی گیا،
تو کبھی سرزمینِ پاک پر علماء کو متحد کرنے نکلا،
اس نے نوجوانوں کو ان کی زمہ داری یاد دلائ۔
آباؤ اجداد کی تاریخ بتائ،
جی ہاں،
پیر مظہر سعید شاہ،
کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔
آج بھی اس نے دردِ دل رکھنے والے نوجوانوں کو پکارا ہے۔
کیا ہے کوئی جوان،
جو اس کی پکار پر لبیک کہے؟
طوفان احمری