*_گمشدہ الفاظ کی تلاش_*
آج یونہی فرصت کے لمحات میں بیٹھے ہوئے ذہن کے پردوں پر کئی خیالات لہرائے کہ کسی اچھے موضوع پر قلم اٹھاؤں۔ اسی سوچوں کے بھنور میں ایک ایسا خیال گزرا جس نے مجھے چونکا دیا؛ یہ خیال تھا اپنی مادری زبان سے بڑھتی ہوئی ہماری دوری کا۔ابھی کچھ دیر پہلے کی بات ہے، مجھے کسی بات کے جواب میں کہنا تھا "مجھے علم ہے"، لیکن میری زبان سے بے ساختہ نکلا "آئی نو" (I know)۔ میں سچ کہہ رہی ہوں، جہاں جہاں ہم انگریزی الفاظ کا کثرت سے استعمال کر رہے ہیں، وہاں وہاں ان کے متبادل خوبصورت اردو الفاظ ہمارے ذہنوں سے مٹتے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ "پلیز" (Please) کو ہی لے لیجیے۔ کیا ہمیں فوراً یاد آتا ہے کہ اسے اردو میں کیا کہیں گے؟ اور جب کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو ہم فوراً "سوری" (Sorry) کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اردو میں "معذرت" یا "معافی" جیسے الفاظ میں کتنی عاجزی اور گہرائی تھی؟ذرا رک کر اپنے گھر کے ماحول پر ہی غور کیجیے، ہم دن بھر میں کتنی بار ان الفاظ کا سہارا لیتے ہیں جن کا اردو متبادل اب اجنبی لگتا ہے۔
اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ کھانا کہاں بناتے ہیں؟ تو فوراً جواب ملے گا "کچن" (Kitchen)۔ اگر کوئی پوچھے کہ کھانا کھاتے کہاں ہیں؟ تو جواب ہوگا "ڈائننگ ہال" (Dining Hall)۔ ذرا سوچیے، کیا ہمیں ان کے لیے اردو کے پیارے الفاظ "باورچی خانہ" اور "طعام گاہ" یاد بھی ہیں؟ "طعام گاہ" تو شاید اب صرف کتابوں یا پرانی حویلیوں کے باہر لگے بورڈز پر ہی نظر آتا ہے، ہماری گفتگو سے تو یہ جیسے دیس نکالا پا چکا ہے۔ اسی طرح ہم گھر کے "بیڈ روم" (Bedroom) میں آرام کرتے ہیں اور "ٹیبل" (Table) کا استعمال کرتے ہیں، لیکن کیا اب کوئی ان کے لیے "خواب گاہ" اور "میز" کہنا پسند کرتا ہے؟ ہم کہتے ہیں "روڈ کراس کر لو"۔ اب تو "سڑک" کا لفظ بھی کوئی اکا دکا ہی استعمال کرتا ہوگا، ورنہ ہر جگہ "روڈ" ہی سنائی دیتا ہے۔ اور "کراس" کا آسان سا ترجمہ "پار کرنا" ہے، لیکن بولتے وقت یہ لفظ ذہن میں نہیں آتا۔
ہم نے سمجھ لیا ہے کہ اردو شاید صرف "صبح بخیر" اور "شب بخیر" تک محدود رہ گئی ہے۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دو جملوں کے درمیان جو ہماری روزمرہ کی گفتگو ہوتی ہے، وہ اب اردو رہی ہی نہیں بلکہ انگریزی کے بوجھ تلے دب گئی ہے۔ "اوکے، ڈن، ویری گڈ، آل فائن" جیسے چھوٹے چھوٹے الفاظ نے ہماری مادری زبان کی جگہ لے لی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ میں بچپن ہی سے اردو سے بے انتہا محبت کرنے والی رہی ہوں، لیکن آج کے اس معاشرے کا حصہ بن کر میں اردو زبان سے بے حد شرمندہ ہوں کہ آج میں اپنی زبان کی جگہ اپنے ہر جملے میں کوئی نہ کوئی انگریزی لفظ شامل کر لیتی ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ آج ہماری زبان خالص نہیں رہی۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہم کئی اردو الفاظ اپنی یادوں کی لغت (ڈکشنری) سے کھو دیں گے اور انہیں یاد کرنے کے لیے ہمیں انگریزی کے الفاظ کا سہارا لے کر گوگل پر تلاش کرنا پڑے گا۔
مغرب کی اس اندھی تقلید پر مظفر وارثی کا یہ شعر کتنا صادق آتا ہے:
*_نہ جا اے رہروِ راہِ وفا جانبِ مغرب
ادھر سورج بھی جاتا ہے تو جا کر ڈوب جاتا ہے_*
اپنی مادری زبان سے محبت رکھنے والے ہر شخص کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ دوسری زبانیں سیکھنا یا بولنا کوئی عیب نہیں، لیکن اپنی اصل زبان کو بھول جانا سراسر بے وقوفی ہے۔ جب ہم اپنی ہی زبان بولنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں تو دراصل ہم خود اپنی تہذیب کا مذاق بنا رہے ہوتے ہیں۔ اپنی زبان کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہے، ورنہ شاید اگلی نسل صرف کتابوں میں پڑھے گی کہ کبھی ہماری بھی کوئی میٹھی زبان ہوا کرتی تھی۔
تحریر: مبشرہ فطین الماسی صدیقی