محبت کا سراب یا حیا کا جنازہ؟ "ویلنٹائن ڈے"  

اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی بنیاد ہی محبت، الفت اور حیا پر ہے۔ لیکن اسلام میں محبت کا تصور نفسانی خواہشات کی تکمیل نہیں، بلکہ ایک مقدس اور پاکیزہ جذبہ ہے جو روحوں کو جوڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں میاں بیوی کی محبت کو اپنی "نشانیوں" میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اسلام سکھاتا ہے کہ محبت صرف دعوؤں کا نام نہیں بلکہ یہ ذمہ داری، وفا اور تحفظ کا نام ہے جو صرف نکاح کے خوبصورت بندھن میں پروان چڑھتی ہے۔ حیا اسی محبت کا زیور ہے؛ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "حیا ایمان کا حصہ ہے"۔ جب حیا باقی رہتی ہے تو محبت معتبر رہتی ہے، اور جب حیا اٹھ جائے تو محبت محض ہوس بن کر رہ جاتی ہے۔

"ویلنٹائن ڈے"رومی شرک سے تجارتی فریب تک......

اس پاکیزہ تصورِ محبت کے برعکس، ویلنٹائن ڈے کی حقیقت وہ نہیں جو آج سرخ پھولوں کے پیچھے چھپائی جاتی ہے۔ اس کی جڑیں قدیم روم کے ایک مشرکانہ اور غیر اخلاقی تہوار "لوپرکیلیا" میں ملتی ہیں۔جو 15 فروری کو جانوروں کی قربانی اور زرخیزی کے جشن کے طور پر منایا جاتا تھا۔ اب اسے ایک عیسائی راہب سینٹ ویلنٹائن کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، جسے تیسری صدی عیسوی میں شہنشاہ کلاڈیئس کے حکم کی خلاف ورزی (خفیہ شادیاں کرانے) پر 14 فروری کو قتل کیا گیا تھا۔ بعد میں عیسائی کلیسا نے اس مشرکانہ رسم کو چھپانے کے لیے راہب سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کر دیا، آج یہ دن محض عالمی کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر کمانے کا ایک تجارتی ہتھیار بن چکا ہے، جس کا مقصد سچی محبت نہیں بلکہ بے حیائی کا فروغ ہے۔

اس موقع پر ایک شعر خوب یاد آتا ہے:- 

خرید سکتے ہیں دنیا میں سب کچھ دولت سے

مگر کہاں سے خریدو گے کھو گئی جو حیا

آج مسلمان بھی اس بے حیائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں حالانکہ ہمیں اسلام غیر قوموں کی اندھی تقلید اور بے راہ روی اختیار کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:-

{مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ}

"جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے" (سنن ابو داؤد: 4031)۔

اس حدیث کو اکثریت نے صرف پہننے اوڑھنے کے معاملے تک محدود سمجھ رکھا ہے حالانکہ ہر وہ رسم و رواج یا جشن جو غیروں سے مشابہت رکھے وہ سب اس حدیث کے ضمن شامل ہیں۔ چونکہ

اس دن کی بنیاد مشرکانہ عقائد پر ہے، اس لیے اسے منانا اپنی ایمانی شناخت سے دستبرداری ہے۔ 



علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا تھا:

وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود



ہمارا اسلام ہمیں بے حیائی کے قریب جانے سے منع کرتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَـآ ۖ اِنَّهٝ كَانَ فَاحِشَةً وَّسَآءَ سَبِيْلًا}

"اور تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے" (سورہ الاسراء: 32)۔

ویلنٹائن ڈے کے نام پر نامحرموں کا میل جول اور اظہارِ محبت اسی "قربتِ زنا" کا پہلا زینہ ہے۔

سماجی اثرات اور حاصلِ کلام

یہ دن نکاح کے دائمی رشتے کے بجائے عارضی تعلقات کو گلیمرائز کرتا ہے، جس سے خاندانی نظام کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ حقیقی محبت وہ نہیں جو سال میں ایک بار سرخ گلاب دے کر جتائی جائے، بلکہ حقیقی محبت وہ ہے جو ایک دوسرے کو جہنم کی آگ سے بچائے۔ ہمیں اس مصنوعی تہوار کے بجائے اپنی اسلامی اقدار اور "حیا" کو فروغ دینا چاہیے۔

تہذیب کی کالی آندھی میں ایمان بچانا لازم ہے

غیروں کے اس میلے میں خود کو پہچاننا لازم ہے

از قلم :- مبشرہ فطین الماسی