یادوں کے جھروکے: طالب علمی سے
منصبِ
تدریس تک

کبھی کبھی ماضی کی یادیں جب دل کی دستک بنتی ہیں، تو بیٹھے بٹھائے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور فضا میں ایک عجیب سی بوجھل خاموشی چھا جاتی ہے۔ شعور یادوں کے ان راستوں پر نکل پڑتا ہے جہاں طالب علمی کا وہ سنہرا دور بسا ہے وہ دور، جس کے بارے میں دل جانتا ہے کہ وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا، مگر اس کی کسک ہمیشہ باقی رہے گی۔
انہی یادوں کے جھروکوں میں میرے وہ ہم سفر ساتھی بھی مسکراتے نظر آتے ہیں جن کے ساتھ یہ سفر سہانا ہوا۔ وہ ہمارا ساتھ پڑھنا، مل کر کھیلنا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑنا اور پھر پل بھر میں سب بھول کر ایک دوسرے کا سہارا بن جانا؛ وہی تو میری اصل متاع ہے۔ ہم نے مل کر جو قہقہے لگائے اور مشکل وقت میں جس طرح ایک دوسرے کی ڈھال بنے، وہ رفاقتیں لفظوں کی محتاج نہیں۔

وہ درسگاہوں کی پُروقار علمی بحثیں اور ہماری معلمات کا وہ دلنشین اندازِ تدریس جو صرف سبق نہیں پڑھاتی تھیں بلکہ ہمیں زندگی کا شعور بخشتی تھیں۔ ان کا ہماری الجھنوں کو کمالِ شفقت سے سمجھنا، ہماری علمی و اخلاقی تربیت کی فکر کرنا اور ہمیں بہترین انسان بنانے کی تڑپ رکھنا، ان کے وہ تمام احسانات میرے دل پر نقش ہیں۔ وہ کانفرنس ہالز میں علماءِ کرام کی بصیرت انگیز گفتگو اور اس علمی فضا سے فیض یاب ہونے کی تڑپ آج بھی ویسی ہی تازہ ہے۔

آج جب میں خود منصبِ تدریس پر فائز ہوئی ہوں، تو مجھے اس حقیقت کا گہرا ادراک ہوا کہ ایک معلمہ کا کردار کتنا عظیم ہے۔ وہ محض کتاب نہیں پڑھاتی، بلکہ اپنی طالبات کی ہر مشکل کو محسوس کرنے اور ان کی دستگیری کرنے کی تڑپ رکھتی ہے۔ وہ ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہونے کے باوجود خود کو ایک ایسے مخصوص سانچے میں ڈھال کر رکھتی ہے کہ معلمہ اور طالبہ کا وقار قائم رہے۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر یہ فرق مٹ گیا تو سب کچھ بدل جائے گا؛ پھر نہ وہ علمی جلال رہے گا اور نہ ہی تربیت کا وہ معیار جو نسلوں کو سنوارتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ میرے الفاظ ان قیمتی یادوں اور اس عظیم مرتبے کی عکاسی کرنے سے قاصر ہیں۔ میں اپنی معلمات کی تہہِ دل سے شکر گزار ہوں، جن کی بدولت آج میں اس مقام پر پہنچ کر ان جذبوں کو سمجھنے اور قلمبند کرنے کے قابل ہوئی ہوں۔

تحریر: مبشرہ فطین الماسی صدیقی