الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
اما بعد
از عبداللّٰہ ابنِ وسیم سدی باپا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف قرآنِ مجید کی روشنی میں
تمہید
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لیے انبیاءِ کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان مقدس ہستیوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ کو “خلیلُ اللہ” یعنی اللہ کا دوست کہا گیا۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر آپ کا تذکرہ نہایت عظمت اور محبت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آپ کی پوری زندگی ایمان، توحید، صبر، قربانی، اطاعت اور دعوتِ دین کا عملی نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے نمونۂ عمل قرار دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ صرف انبیاءِ بنی اسرائیل کے جدِ امجد ہیں بلکہ نبی کریم ﷺ بھی آپ ہی کی نسلِ مبارک سے ہیں۔ قرآنِ مجید میں آپ کے بے شمار اوصاف بیان کیے گئے ہیں جن سے ہر مسلمان کو اپنی زندگی سنوارنے کی تعلیم ملتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعارف
آپ کا نام ابراہیم بن آزر ہے۔ آپ عراق کے علاقے “بابل” میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں لوگ بت پرستی، ستارہ پرستی اور مختلف قسم کے شرکیہ عقائد میں مبتلا تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ان باطل عقائد کے خلاف آواز بلند کی اور خالص توحید کی دعوت دی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند مقام عطا فرمایا اور آپ کے ذکر کو قیامت تک باقی رکھا۔
قرآنِ مجید کی روشنی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف
1- توحید کے علمبردار
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سب سے نمایاں صفت توحید تھی۔ آپ نے پوری قوت کے ساتھ شرک کی مخالفت کی اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾
“بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھے، اللہ کے فرمانبردار، یکسو، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔”
آپ نے اپنے والد، قوم اور بادشاہ نمرود تک کو توحید کی دعوت دی۔ آپ نے بتوں کو توڑا تاکہ لوگوں کو سمجھ آئے کہ یہ بے جان معبود کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں۔
2- کامل اطاعت و فرمانبرداری
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
“جب ان کے رب نے فرمایا: فرمانبردار ہو جاؤ، تو انہوں نے کہا: میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا۔”
یہ اطاعت اس وقت اپنے عروج پر نظر آتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ آپ نے بلا تردد حکمِ الٰہی کی تعمیل کا ارادہ کر لیا۔
3- عظیم قربانی کا جذبہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔
وطن چھوڑا
خاندان سے جدائی برداشت کی
آگ میں ڈالے گئے
بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوئے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾
“پھر جب دونوں نے حکم مان لیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔”
یہ واقعہ قیامت تک مسلمانوں کے لیے اطاعت اور قربانی کی عظیم مثال بن گیا۔
4- صبر و استقامت
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعوتِ حق کی راہ میں بے شمار مشکلات برداشت کیں مگر کبھی ہمت نہ ہاری۔
جب آپ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا تو انہوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا، مگر آپ حق پر ثابت قدم رہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ﴾
“ہم نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔”
یہ اللہ کی طرف سے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم بشارت ہے۔
5- حلم اور بردباری
حضرت ابراہیم علیہ السلام نہایت نرم دل، بردبار اور رحم دل تھے۔
قرآنِ مجید میں ہے:
﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾
“بے شک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والے، نہایت بردبار تھے۔”
آپ اپنے والد کے سخت رویے کے باوجود ادب سے گفتگو کرتے تھے۔
6- شکر گزاری
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ﴾
“وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔”
شکر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا فرمایا۔
7- مہمان نوازی
حضرت ابراہیم علیہ السلام مہمان نواز بھی تھے۔ جب فرشتے انسانی شکل میں آپ کے پاس آئے تو آپ فوراً ان کے لیے بہترین کھانا لے آئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ﴾
“پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لے آئے۔”
یہ اسلامی اخلاق اور مہمان نوازی کی اعلیٰ مثال ہے۔
8- دعا کرنے والے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کثرت سے دعائیں کرتے تھے۔ قرآنِ مجید میں آپ کی کئی دعائیں مذکور ہیں۔
مثلاً:
﴿رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي﴾
“اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔”
آپ نے اپنی اولاد، مکہ مکرمہ اور پوری امت کے لیے دعائیں کیں۔
9- داعیِ حق
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکمت، نرمی اور دلائل کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔
آپ نے:
والد کو سمجھایا،
قوم سے مناظرہ کیا،
نمرود کو دلیل دی۔
یہ سب دعوت و تبلیغ کا عظیم نمونہ ہے۔
10- اللہ کے دوست (خلیل اللہ)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا دوست قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾
“اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔”
یہ مقام کامل ایمان، اخلاص اور قربانی کی وجہ سے ملا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے حاصل ہونے والے اسباق
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک زندگی ہمیں بہت سے اہم اسباق دیتی ہے:
خالص توحید اختیار کرنا
اللہ کے ہر حکم کے سامنے جھک جانا
حق بات پر ثابت قدم رہنا
قربانی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرنا
والدین سے ادب سے گفتگو کرنا
مہمان نوازی اختیار کرنا
دعا اور عبادت کا اہتمام کرنا
دین کی دعوت دینا
عصرِ حاضر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف کی ضرورت
آج کا انسان مادہ پرستی، بے دینی اور اخلاقی کمزوریوں میں مبتلا ہے۔ ایسے دور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر مسلمان آپ کے اوصاف اپنالیں تو:
عقیدہ درست ہوگا،
معاشرہ پاکیزہ بنے گا،
امت میں اتحاد پیدا ہوگا،
قربانی اور اخلاص کی روح بیدار ہوگی۔
خاتمہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے جلیل القدر نبی اور عظیم انسان تھے۔ قرآنِ مجید نے آپ کو ایمان، توحید، صبر، قربانی، حلم، شکر اور اطاعت کا کامل نمونہ قرار دیا ہے۔ آپ کی پوری زندگی بندگیِ رب اور انسانیت کی رہنمائی سے عبارت ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ان کے نقشِ قدم پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔
“حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت، ایمان و وفا کا روشن مینار ہے جو قیامت تک انسانیت کو ہدایت دیتا رہے گا۔”