ہماری نسل ہماری تعلیم اور دورِ حاضر کی حقیقت

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
________________________________
آج ایک بات بہت سنجیدگی غور و فکر اور فکرِ امت کے ساتھ سوچنے کی ہے کہ ہمارے جو بچے اور بچیاں تعلیم کے نام پر مختلف اسکولوں کالجوں اور اداروں میں جارہے ہیں آخر ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہاں انہیں صرف سائنس ریاضی انگریزی اور کمپیوٹر ہی پڑھایا جارہا ہے یا ان کی سوچ فکر تہذیب شناخت اور ذہن سازی بھی کی جارہی ہے؟ ہم اکثر یہ سمجھ کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہمارے بچے پڑھ رہے ہیں آگے بڑھ رہے ہیں ڈگریاں حاصل کررہے ہیں مگر کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کے دل و دماغ میں کیا ڈالا جارہا ہے؟ ان کے خیالات کس طرف موڑے جارہے ہیں؟ ان کی ترجیحات کس انداز میں بدل رہی ہیں؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ بچہ جس ماحول میں رہتا ہے جس مجلس میں بیٹھتا ہے جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے جن باتوں کو روز سنتا ہے جن چیزوں کو بار بار دیکھتا ہے آہستہ آہستہ اسی سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ اسی لئے اسلام نے صحبت ماحول اور تربیت پر غیر معمولی زور دیا ہے۔ کیونکہ بچہ صرف کتابوں سے نہیں سیکھتا بلکہ ماحول سے بھی سیکھتا ہے مشاہدے سے بھی سیکھتا ہے نظام سے بھی سیکھتا ہے اور روزمرہ کے اثرات سے بھی سیکھتا ہے۔

آج کا دور صرف ہتھیاروں کی جنگ کا نہیں بلکہ نظریات تہذیبوں افکار اور ذہنوں کی جنگ کا دور ہے۔ اس دور میں قومیں صرف میدانِ جنگ میں شکست نہیں کھاتیں بلکہ فکری میدان میں بھی ہار جاتی ہیں۔ جب قوم کی نئی نسل اپنی شناخت بھول جائے، اپنے دین سے بےرغبت ہوجائے اپنی تہذیب کو کمتر سمجھنے لگے اپنی زبان اپنے شعائر اپنی اقدار سے شرمانے لگے تو سمجھ لینا چاہئے کہ خطرہ صرف باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بھی پیدا ہوچکا ہے۔

ہمیں اپنے گھروں کے ماحول پر بھی نظر ڈالنی چاہئے۔ کیا ہمارے بچوں کی دینی تعلیم کا اہتمام ہے؟ کیا انہیں قرآن و سیرت اخلاق حلال و حرام اسلامی آداب اور اپنی دینی شناخت کے بارے میں صحیح رہنمائی مل رہی ہے؟ یا پھر سارا زور صرف ڈگری نوکری دنیاوی کامیابی اور مادّی ترقی پر ہے؟ اگر ہم خود اپنی نسل کو دین اخلاق شعور اور شناخت نہیں دیں گے تو دنیا کے مختلف اثرات لازماً ان کے ذہنوں پر اثر انداز ہوں گے۔

حالاتِ حاضرہ ہمیں بار بار یہ سبق دے رہے ہیں کہ صرف جذبات کافی نہیں صرف شکایتیں کافی نہیں صرف دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں بلکہ اپنی اصلاح اپنی بیداری اپنی تعلیم اپنی تربیت اور اپنی ذمہ داری کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی نگرانی کرنی ہوگی ان کے نصاب ان کے ماحول ان کی صحبت ان کی سرگرمیوں اور ان کی فکری نشوونما پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ آنے والا زمانہ انہی بچوں کے ہاتھوں میں ہے۔

مسلمان والدین ہوش مندی حکمت بصیرت اور ذمہ داری سے کام لیں۔ اپنے بچوں کو صرف دنیاوی تعلیم نہ دیں بلکہ ان کی دینی اخلاقی اور فکری تربیت کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہیں ایسا مضبوط بنائیں کہ وہ جدید تعلیم بھی حاصل کریں دنیا میں کامیاب بھی ہوں مگر اپنی شناخت اپنے عقیدے اپنے اخلاق اور اپنی اصل بنیادوں سے بھی وابستہ رہیں۔

قوموں کی حفاظت صرف سرحدوں سے نہیں ہوتی بلکہ گھروں سے ہوتی ہے۔ نسلوں کی تعمیر صرف عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ تربیت سے ہوتی ہے۔ اور مستقبل صرف خواب دیکھنے سے نہیں بنتا بلکہ شعور محنت علم حکمت اور صحیح رہنمائی سے بنتا ہے۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جاگیں سوچیں اپنے گھروں اپنی نسلوں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں کیونکہ غفلت کی قیمت اکثر آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں۔