بنت محمد رافع ✍️

آج کل بعض حلقوں میں ایک عجیب سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ "عالمہ سے شادی نہ کرو، وہ زیادہ بولے گی، ہر بات میں دلیل دے گی، زندگی مشکل بنا دے گی۔"

یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ دینی تعلیم کی توہین بھی ہے۔

ذرا غور کیجیے! ایک ایسی خاتون جس نے قرآنِ کریم پڑھا ہو، احادیثِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا ہو، فقہ و شریعت سیکھی ہو، اللہ کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں سے واقف ہو، کیا وہ واقعی گھر برباد کرنے کا سبب بن سکتی ہے؟

اصل مسئلہ عالمہ ہونا نہیں، بلکہ ہمارا دین کو سمجھنے کا انداز ہے۔

باعمل عالمہ دراصل ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے جو اپنے گھر کو دین، اخلاق اور محبت کے نور سے روشن کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ بیوی کے کیا حقوق ہیں، شوہر کے کیا حقوق ہیں، اولاد کی تربیت کیسے کرنی ہے اور رشتوں کو کیسے نبھانا ہے۔

عالمہ سے شادی کا مطلب صرف ایک بیوی حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے گھر میں علم، شعور اور دینی ماحول لانا ہے۔

ایسی ماں بچوں کو صرف دنیاوی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتی بلکہ انہیں اللہ کی معرفت، نماز کی پابندی، اچھے اخلاق اور حلال و حرام کی پہچان بھی سکھاتی ہے۔ اس کی گود ایک چھوٹا مدرسہ بن جاتی ہے جہاں سے نسلوں کی اصلاح شروع ہوتی ہے۔

ہاں، یہ ضرور ہے کہ ایک باعمل عالمہ ظلم، ناانصافی اور گناہ پر خاموش رہنے کو خوبی نہیں سمجھے گی۔ وہ غلط بات کو غلط کہے گی، کیونکہ دین نے اسے حق بات کہنے کا حوصلہ دیا ہے۔ لیکن حق بات کہنا بدتمیزی نہیں ہوتا اور نہ ہی اصلاح کی کوشش نافرمانی کہلاتی ہے۔

اسی طرح صرف عالمہ ہونا بھی کافی نہیں، اصل خوبی "عمل" ہے۔ اگر علم کے ساتھ عاجزی، اخلاق، صبر اور حکمت شامل ہو تو وہ عورت گھر کے لیے بہت بڑی نعمت بن جاتی ہے۔ اور یہی اصول مردوں پر بھی لاگو ہوتا ہے؛ صرف عالم ہونا کافی نہیں، باعمل ہونا ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: مال، حسب و نسب، حسن اور دین۔ پس تم دیندار عورت کو اختیار کرو، کامیاب رہو گے۔"

یہی وجہ ہے کہ دین داری کو ہمیشہ ترجیح دی گئی ہے، کیونکہ دینداری انسان کو حقوق ادا کرنا، صبر کرنا، معاف کرنا اور اللہ سے ڈرنا سکھاتی ہے۔

لہٰذا معاشرے میں یہ تاثر پھیلانا کہ عالمہ بیوی مسئلہ بن جاتی ہے، ایک ناانصافی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ لڑکی عالمہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ بااخلاق، باعمل اور اللہ سے ڈرنے والی ہے یا نہیں۔

ایسی عورت یقیناً گھر کی زینت ہوتی ہے، بوجھ نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کی بیٹیوں کو علم کے ساتھ عمل، اور ہمارے نوجوانوں کو دین دار اور نیک شریکِ حیات کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔