وقت کی قدر جانو، وقت تمہاری قدر کرے گا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان تمام نعمتوں میں وقت ایک ایسی قیمتی دولت ہے جو ایک بار گزر جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتی۔ انسان مال و دولت کھو کر دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، مگر گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں لا سکتا۔ اسی لیے اسلام نے وقت کی اہمیت پر خاص زور دیا ہے اور انسان کو اس کی قدر کرنے کی تعلیم دی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف اوقات کی قسمیں کھائی ہیں۔ سورۂ العصر میں ارشاد ہوتا ہے:
"قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کی۔"
اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب وہی لوگ ہیں جو اپنے وقت کو ایمان، نیک اعمال اور بھلائی کے کاموں میں صرف کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۂ الفجر، سورۂ واللیل اور سورۂ والضحیٰ میں بھی مختلف اوقات کی قسمیں کھا کر ان کی عظمت کو واضح فرمایا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی وقت کی قدر و قیمت کو بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔" (صحیح بخاری)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: بڑھاپے سے پہلے جوانی، بیماری سے پہلے صحت، محتاجی سے پہلے خوشحالی، مصروفیت سے پہلے فراغت اور موت سے پہلے زندگی۔"
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم امانت ہے اور اس کا درست استعمال کامیابی کا ذریعہ ہے۔
آج کے دور میں وقت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان تو بنایا ہے، لیکن بہت سے لوگ اپنا قیمتی وقت سوشل میڈیا، غیر ضروری ویڈیوز، فضول گفتگو اور بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ تعلیم، عبادت، کردار سازی اور اپنی زندگی کے اہم مقاصد سے دور ہو جاتے ہیں۔ کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے وقت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہر لمحے کو مفید کاموں میں صرف کرتے ہیں۔
طالب علم کے لیے وقت کی قدر خاص طور پر ضروری ہے۔ جو طالب علم وقت پر پڑھائی کرتے ہیں، اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور سستی سے بچتے ہیں، وہی امتحانات اور عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح عبادات، والدین کی خدمت، علم حاصل کرنے اور معاشرے کی بھلائی کے کاموں کے لیے وقت نکالنا بھی ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
وقت دراصل زندگی کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص وقت کی قدر کرتا ہے، وقت بھی اسے عزت، کامیابی اور ترقی عطا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ وقت کو ضائع کرتے ہیں، وہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر لمحے کو اللہ کی رضا، علم کے حصول اور انسانیت کی خدمت میں صرف کریں۔
وقت ایک انمول خزانہ ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں اس کی قدر کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے وقت کو صحیح طریقے سے استعمال کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ بے شک "وقت کی قدر جانو، وقت تمہاری قدر کرے گا۔"