سائنسـدانوں نے کائنات میں ایک حیران کن سیارہ دریافت ہوا، ایک ایسا سیارہ جہاں کہیں بھی کوئی زمین نہیں ہے ایک بھی براعظم، جزیرہ، پہاڑ یا ساحل نہیں ہر سمت جہاں تک آنکھ نظر آتی، افق پر پھیلے ہوئے نہ ختم ہونے والے پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یہ غیر معمولی دنیا حقیقت میں موجود ہے اس کو ناسا سائنسـدانوں نے TOI-1452 نام دیا۔ یہ سـیارہ زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر ڈرکو برج میں واقع ہے اور اس نے دنیا بھر کے ماہرین فلکیات کی توجہ حاصل کر لی ہے۔،۔ زمین کے برعکس جہاں سمندر تقریباً 71 فیصد سطح پر محیط ہیں لیکن بڑی زمینی سطحیں اب بھی پانی سے اوپر ہے لیکن یہ سیارہ مکمل طور پر پانی پر مشتمل ہے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر دریافت ہونے والے سب سے غیر معمولی ماحول میں سے ایک بنا سکتا ہے۔
اس سیارے کا تعلق سیاروں کی ایک کلاس سے ہے، جسے سپر ارتھ کہتے ہیں۔۔ یعنی یہ ہمارے اپنے سیارے زمین سے بہت بڑا اور زیادہ وسیع ہے، سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ زمین سے تقریباً 1.67 گنا چوڑا اور تقریباً پانچ گنا بڑا ہے۔۔۔۔۔، تاہم جو چیز اس دنیا کو واقعی دلکش بناتی ہے وہ اس کی کثافت ہے۔۔۔ پیمائش سے پتہ چلتا ہے کہ زمین کے وسیع سمندر کے نیچے گہــرائی میں ایک چٹانی حصہ ہے، جبکہ اس سیارے کے اوپر ایک سمندر اتنا وسیع ہے کہ یہ سینکڑوں کلومیٹر گہرا ہو سکتا ہے،، اور یہ زمین پر موجود کسی بھی سمندر سے کہیں زیادہ گہرا ہے اللہ اکبر۔
ہمارے سیارے زمین پر پانی زمین کی کل کمیت کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن TOI-1452 سیارے پر پانی پورے سیارے کا ایک اہم حصہ بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے اس سیارے کے سمندر کے نچلے حصے میں دباؤ ناقابل یقین حد تک زیادہ ہے۔ ناسا کے TESS مشن کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیــٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیارہ مکمل طور پر پانی پر مشتمل ہے، ناسا سائنسدان جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے مزید بھی اس سیارے پر تحقیق کررہے ہیں کہ سیارہ کا ٹھوس حصہ کیوں نہیں ہے پانی کے ساتھ ساتھ اردگرد گیـسوں کا مطالعہ بھی کررہے ہیں۔ عنقریب ہم اس سیارے کو مکمل طور پر ایکسپلور کرلیں گے۔
ایک منٹ کے لیے آنکھیں بند کرکے سوچیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ایک ایسا سیارہ جہاں سمندر کا کوئی کنارہ نہیں، جہاں کوئی براعظم لہروں کو نہیں توڑتا اور جہاں ایک لامتــــناہی سـمندر پوری دنیا کو لپیٹے ہوئے ہے۔ اگر مستقبل کے مشاہدات ان نظریات کی تصدیق کرتے ہیں تو میرے خیال سے TOI-1452 سیارہ جدید اســٹرونومی کی سب سے اہم دریافتوں میں سے ایک بن سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!