`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ ۝ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ۝ لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ﴾

یہ قرآن کی وہ صدا ہے جو زمانوں کی گرد کو چیرتی ہوئی آج بھی انسان کے کانوں میں گونج رہی ہے۔ یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک سوئے ہوئے قافلے کو جگانے کی للکار ہے۔ یہ ایک ایسی پکار ہے جو دنیا کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے انسان کو اس کے انجام کی یاد دلاتی ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آچکا ہے، مگر وہ اب بھی غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ عجیب منظر ہے! موت روزانہ انسانوں کو اپنے آغوش میں لے رہی ہے، قبریں آباد ہورہی ہیں، زمانے بدل رہے ہیں، عمریں گھٹ رہی ہیں، مگر انسان یہ سمجھتا ہے کہ شاید اسے ابھی بہت وقت ملا ہوا ہے۔

دنیا کی رونقیں اس کے دل کو اس طرح مسحور کر دیتی ہیں کہ اسے آخرت کی فکر ہی نہیں رہتی۔ مال کی محبت، شہرت کا نشہ، خواہشات کی چمک اور لذتوں کی کشش اسے اس منزل سے غافل کر دیتی ہے جہاں ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔

قرآن کا شکوہ یہ ہے کہ جب بھی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے، وہ اسے سنتے تو ہیں مگر کھیل تماشے کے انداز میں۔ ان کے کان سنتے ہیں لیکن دل نہیں سنتے۔ ان کی زبانیں تلاوت کرتی ہیں مگر روحیں اس نور سے محروم رہتی ہیں۔ وہ قرآن کو ایک رسم کے طور پر پڑھتے ہیں، زندگی کے دستور کے طور پر نہیں۔

کتنا دردناک منظر ہے کہ خالقِ کائنات اپنے بندوں کو پکار رہا ہے، انہیں محبت سے نصیحت کر رہا ہے، انہیں جہنم کے شعلوں سے بچانے کے لیے بار بار خبردار کر رہا ہے، مگر بندے اس پکار کو سن کر بھی بے پروائی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

"لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ" — ان کے دل غافل ہیں۔

اصل بیماری یہی ہے۔ جب دل دنیا کی محبت میں ڈوب جائے تو نصیحت اثر نہیں کرتی۔ جب دل خواہشات کا غلام بن جائے تو قرآن کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔ جب دل اللہ کی محبت سے خالی ہو جائے تو آخرت کی یاد بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔

اہلِ محبت کہتے ہیں کہ دل ایک آئینہ ہے۔ جب اس پر گناہوں کی گرد جم جاتی ہے تو اس میں حق کا نور منعکس نہیں ہوتا۔ پھر انسان قرآن سنتا ہے مگر روتا نہیں، موت کا ذکر سنتا ہے مگر کانپتا نہیں، جنت کی بشارت سنتا ہے مگر شوق پیدا نہیں ہوتا، جہنم کا تذکرہ سنتا ہے مگر خوف بیدار نہیں ہوتا۔

یہ آیات ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں۔ کیا ہمارا دل بھی دنیا کی دوڑ میں کھو گیا ہے؟ کیا ہم بھی قرآن سنتے ہیں مگر اس کے مطابق زندگی نہیں گزارتے؟ کیا ہم بھی موت کو دوسروں کا مسئلہ سمجھتے ہیں؟

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوں۔ اپنے دلوں کو قرآن کے نور سے زندہ کریں۔ اپنے اعمال کا محاسبہ کریں قبل اس کے کہ ہمارا حساب لیا جائے۔ اپنی آنکھوں میں آخرت کا تصور بسائیں اور اپنے دلوں میں اللہ کی محبت کو جگہ دیں۔

یاد رکھیے! حساب کا دن دور نہیں۔ زندگی کی شام تیزی سے قریب آرہی ہے۔ دنیا کی ہر بہار خزاں میں بدل جائے گی، ہر مسکراہٹ خاموشی میں ڈھل جائے گی، ہر محفل ویرانی کا منظر پیش کرے گی، مگر اللہ کے لیے بہایا گیا ایک آنسو، قرآن کے لیے دھڑکنے والا ایک دل، اور آخرت کی فکر میں گزاری گئی ایک رات ہمیشہ باقی رہے گی۔

آئیے! قرآن کی اس پکار پر لبیک کہیں، اپنے دلوں کو بیدار کریں، اور اس دن کی تیاری کریں جب نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد، بلکہ صرف وہی دل نجات پائے گا جو اپنے رب کے حضور سلامتی کے ساتھ حاضر ہوگا۔

اَللّٰهُمَّ أَيْقِظْ قُلُوبَنَا مِنْ غَفْلَتِهَا، وَاجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا.
آمین یا رب العالمین۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H