جو آپ پر گزری نہیں، اس کا آپ کو علم نہیں

اس حیاتِ رنگ و بو میں بہت سی باتیں اور بہت سے حقائق ایسے ہیں جو محض سمجھانے سے سمجھ میں نہیں آتے، جب تک انسان خود ان سے نہ گزرے۔ سوائے ان اہلِ خرد کے جنہیں ربِ کریم اپنے فضل و کرم سے بصیرت عطا فرما دے۔ پھر چاہے وہ کم سن بچہ ہو یا عمر رسیدہ بزرگ، وقت کا بادشاہ ہو یا زمانے کا فقیر۔

بچے کو آپ ہزار نصیحتیں کریں، بار بار سمجھائیں اور گلہ پھاڑ پھاڑ کر کہیں کہ: "بیٹا! آگ کے قریب مت جانا، ورنہ جل جاؤ گے۔" مگر آپ کا یہ چلانا اور سمجھانا اس پر اس وقت تک خاطر خواہ اثر نہیں ڈالے گا جب تک وہ خود تپشِ نار کا مزہ نہ چکھ لے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ اس بندۂ خاکسار کے ساتھ بھی پیش آیا، بلکہ کم و بیش ہر طالبِ علم کی زندگی میں ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور پیش آتا ہے۔

جب میں مادرِ علمی ادارہ "مرکز المعارف" میں زیرِ تعلیم تھا تو میرے مشفق و مہربان استاذِ محترم حضرت مولانا محمد منظور قاسمی دامت برکاتہم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا:

"آج تم اپنے اساتذہ کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہو، کل جب خود اس مقام پر پہنچو گے تو حقیقت سمجھ میں آ جائے گی۔"

اس وقت حضرت کی یہ بات ہمیں ذرہ برابر بھی نہ بھائی۔ دل میں یہی خیال آتا تھا کہ آخر ہر بات پر اظہارِ ناراضی کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ معاملہ ہماری سوچ سے بالاتر تھا۔

مگر اب گردشِ ایام نے وہی دن ہمیں بھی دکھا دیے ہیں۔ آج جب ہم سے چار لفظ پڑھنے والے ذہین و فطین مہمانانِ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری کسی بات کا ترش روئی سے جواب دیتے ہیں تو عقل ٹھکانے آ جاتی ہے اور دل کی گہرائیوں سے ایک صدا بلند ہوتی ہے:

"جو آپ پر گزری نہیں، اس کا آپ کو علم نہیں۔"

پھر دل غم سے بھر جاتا ہے اور یہ گنہگار ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں اٹھ جاتے ہیں:

"یا رب! ان طلبہ کو عقلِ سلیم عطا فرما، انہیں وقت کا مقتدا بنا، جید عالمِ باعمل، شریعت و طریقت کا سچا رہبر بنا، اور انہیں اپنے اساتذہ کی قدر و منزلت پہچاننے کی توفیق عطا فرما۔"

باری تعالیٰ ہر طالبِ علم کو اپنے اساتذۂ کرام کی قدر دانی کی توفیق نصیب فرمائے، اور اساتذہ کو اخلاص، صبر اور حسنِ تربیت کی دولت سے مالا مال فرمائے۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

رقیمۂ خاکسار
جمال الدین انوری