★بسم اللہ الرحمن الرحیم★
*اصلاح کی شروعات کہاں سے؟ — اپنی ذات سے یا معاشرے سے؟* 
*~✍🏻 محمد معصوم ارریاوی~*
           دارالعلوم وقف دیوبند 
*~………………………………………~*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم و مکرم حضراتِ علماء کرام!
اصلاحِ معاشرہ کی بات جب بھی ہوتی ہے تو فوراً ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ہمیں لوگوں کو بدلنا ہے، برائیوں کو ختم کرنا ہے، اور ایک بہتر سماج قائم کرنا ہے۔ لیکن ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ:
اصلاح کی ابتدا کہاں سے ہو؟ کیا ہم دوسروں کو بدلنے سے آغاز کریں؟ یا سب سے پہلے اپنی ذات کا جائزہ لیں؟
حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام نے ہمیں جو سب سے پہلا سبق دیا ہے وہ یہی ہے کہ:
“اپنی اصلاح، پھر دوسروں کی اصلاح”
اگر ہم خود اپنے علم پر عمل نہیں کریں گے، اگر ہماری نماز، ہمارے معاملات، ہمارا اخلاق درست نہیں ہوگا، تو ہمارے الفاظ میں تاثیر کہاں سے آئے گی؟
قرآن ہمیں بار بار یہی سبق دیتا ہے کہ:
“تم وہ کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟”
لہٰذا:
   سب سے پہلے ہمیں اپنی زندگی کو سنت کے مطابق بنانا ہوگا اپنے گھروں میں دینی ماحول پیدا کرنا ہوگا اپنے کردار سے دعوت دینی ہوگی جب ایک عالم خود عمل کا نمونہ بن جاتا ہے، تو اس کی ایک خاموش نظر بھی لوگوں کو بدل دیتی ہے۔
 پھر دوسرا مرحلہ آتا ہے — معاشرے کی اصلاح
جب ہماری اپنی بنیاد مضبوط ہو جائے، تو ہم: اپنے محلے میں اپنی مسجد میں اپنے حلقۂ اثر میں حکمت، نرمی اور اخلاص کے ساتھ اصلاح کا کام شروع کریں۔
یاد رکھیں:
اصلاح حکم سے نہیں، اخلاق اور عمل سے ہوتی ہے۔
 آج کی ضرورت آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ برائیاں زیادہ ہیں،
بلکہ یہ ہے کہ:
عمل کرنے والے کم ہیں اگر ہر عالم صرف اپنی ذات کو سنوار لے، تو پورا معاشرہ خود بخود سنور جائے گا۔
 آئیے عہد کریں:
ہم سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں گے اپنے علم پر خود عمل کریں گے اور پھر اخلاص کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی کوشش کریں گے
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت، صحیح عمل اور استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔