Translation unavailable. Showing original.
محو تسبیح تو سب ہیں مگر ادراک کہاں
زندگی خود ہی عبادت ہےمگر ہوش نہیں
کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے زندگی ایک عذاب ہے جہاں بے سکونی کا بسیرا ہے اور درد کا آسیب ہے تنہائی کا اوڑھنا بچھونا ہے اور بس
لیکن جب یہی ذہن خدا کی تخلیق کی طرف لے جاتا ہے یہ زندگی تو جینے کے لئے ملی ہے اور ہم اسے ضائع کر رہے ہیں واقعی اس کائنات خدا میں غور کرنے سے ذہن کو سکون ملتا ہے اسکی شادابیوں سے دماغ معطر ہوتا ہے اور اس کے حسن و جمال اور کشش سے دل مطمئن ہوتا ہے.
جب ہم دشواریوں کو خود پر حاوی کر لیتے ہیں تو ہر چیز اجڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس جڑے چمن میں ہی گلستان کے رنگ بو اپنے جلوے بکھیرتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز اپنی حالت پر آ جاتی ہے شرط یہ ہے کہ سلیقے سے سنوارا جائے
ہم اپنی زندگی کے خود ہی معمار ہیں خود ہی ڈیزائنر ہیں جس طرح ہم اسکو بنائیں گے یا جس طرف اس کو موڑیں گے یہ ویسی ہی بن جائے گی یا ویسے ہی مڑ جائے گی ......
کوشش کریں کہ جو بھی حالات پیش آئیں اس پر آنسو بہا کر بیٹھے مت رہیں بلکہ اٹھیں اور گلستان زندگی کی تباہی و بربادی کو بھلا کر پھر سے اس اجڑے دیار کو سنواریں زندگی ایک نعمت ہے اور نعمت کی جتنی حفاظت کی جائے اتنی ہی خوبصورت ہوتی ہے.
میں اگر جی بھی رہا ہوں تو تعجب کیا ہے
مجھ سے لاکھوں ہیں جو بے سود جیے جاتے ہیں
🖋 حمزہ اجمل جونپوری