بچوں کی تربیت میں ماں کا کلیدی کردار
از: نائلہ ریحان مومناتی، مدرسہ اسلامیہ دارِ ارقم، چمن ولی، علی آباد ،بارہ بنکی یوپی
انسانی معاشرہ دراصل ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں گھروں میں پیوست ہوتی ہیں، اور ان گھروں کی بنیاد ماں کی گود سے مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کو بجا طور پر بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔ ایک بچہ جب دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے جس ہستی سے اس کا تعارف ہوتا ہے، وہ اس کی ماں ہوتی ہے۔ وہی اس کی پہلی معلمہ، مربیہ اور رہنما ہوتی ہے۔
ماں کی آغوش بچے کے لیے صرف محبت اور سکون کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی شخصیت سازی کا پہلا مرکز بھی ہوتی ہے۔ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں نقل کے ذریعے سیکھتا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے، وہی اپناتا ہے۔ اگر ماں سچ بولتی ہے، نرم گفتگو کرتی ہے، صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے اور دینی اقدار کی پابند ہوتی ہے تو بچہ بھی انہی صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ماحول میں سختی، جھوٹ یا بے صبری ہو تو اس کے منفی اثرات بھی بچے کی شخصیت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
بچوں کی تربیت ایک نازک اور مسلسل عمل ہے جس کے لیے صرف محبت کافی نہیں بلکہ حکمت، دانائی اور صبر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجھے، ان کے مزاج اور رجحانات کا خیال رکھے اور ان کے مطابق تربیت کا انداز اختیار کرے۔ ہر بچہ ایک الگ شخصیت رکھتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرنا بعض اوقات مفید ثابت نہیں ہوتا۔
دینی تربیت کے حوالے سے ماں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت سے وابستگی، نماز کی پابندی اور قرآنِ کریم سے تعلق پیدا کرنا ماں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اگر بچہ بچپن ہی سے دین کی بنیادوں سے واقف ہو جائے تو بڑے ہو کر وہ ایک باکردار اور ذمہ دار فرد بنتا ہے۔
موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا، موبائل فون اور دیگر جدید ذرائع نے بچوں کی توجہ کو مختلف سمتوں میں تقسیم کر دیا ہے، وہاں ماں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسے چاہیے کہ بچوں کے استعمالِ وقت پر نظر رکھے، ان کی مصروفیات کو مثبت رخ دے، اور انہیں کتابوں، کھیلوں اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف مائل کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے دوستوں اور صحبت پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ صحبت کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔
ایک کامیاب ماں وہ ہے جو بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرے۔ انہیں ڈر اور خوف کے بجائے محبت اور اعتماد کا ماحول دے تاکہ بچہ بلا جھجھک اپنے مسائل اور خیالات کا اظہار کر سکے۔ جب بچہ خود کو سنا ہوا محسوس کرتا ہے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ غلط راستوں سے بچنے کے قابل ہوتا ہے۔
ماں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی ذاتی تربیت اور علمی ترقی پر بھی توجہ دے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ ماں ہی اپنے بچوں کی بہتر رہنمائی کر سکتی ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم سے واقف ہو تاکہ وہ بچوں کے سوالات کا تسلی بخش جواب دے سکے اور انہیں جدید چیلنجز کے مقابلے کے لیے تیار کر سکے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ماں کی تربیت صرف بچپن تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات پوری زندگی قائم رہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات کے پیچھے ایک عظیم ماں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ماں کی دعائیں، اس کی محنت اور اس کی قربانیاں ہی بچے کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم ایک صالح، باکردار اور مثالی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ماؤں کے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی ہوگی اور انہیں ان کی اہمیت کا احساس دلانا ہوگا۔ کیونکہ ایک اچھی ماں نہ صرف ایک اچھا بچہ بلکہ ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام ماؤں کو اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نسلوں کو نیک، صالح اور باکردار بنائے۔
آمین۔