کہا جاتا ہے بچے کا ذہن کسی ایسے کاغذ کی طرح ہوتا ہے جو بالکل کورا اور شفاف ہو-عہد طفولیت سے اس قرطاس پر جو کچھ بھی رقم کیا جاۓ وہ تا عمر کے لیے اس کے ذہن کے دریچوں میں پتھر پر لکیر کی مانند نقش ہوجاتا ہے-ابتداۓ حیات کا دورانیہ زندگی کا وہ بیش قیمت دور ہوتا ہے جہاں یا تو انسان کی شخصیت مثبت طرز سے مطابقت رکھتے ہوۓ بننا شروع ہوتی ہے یا بگڑنا! بچپن میں دستیاب ماحول سے مستنبط علم و مشاہدات کی بدولت بچے کی شخصیت کی تعمیر شروع ہوتی ہے-اگرچہ کوئ بچہ جھوٹ یا دھوکہ دہی کے ماحول میں پرورش پانے لگے تو عین ممکن ہے کہ سن بلوغت تک پہنچنے پر مکاری ،جھوٹ یا فریب کارانہ خصلتیں اس کی شخصیت کا لازمی جز بن جاۓ- مختصراً قابل فہم بات یہ ہے کہ جیسا ماحول بچے کو مہیا کیا جاۓ گا اس کی شخصیت اسی کے مطابق ڈھلے گی- اس لیے ضروری ہے کہ احتیاط کے اس متقاضی دور میں سرپرست حتی الامکان مفید و کارآمد باتیں ان کے اذہان میں انڈھیلنے کی کوشیش کریں تاکہ اعلی اقدار و کردار کبھی بچے کی شخصیت سے مفقود نہ ہوسکے اور اس کی شخصیت مسخ ہوکر نہ رہ جاۓ-
لامحالہ اس ضمن میں کتابیں اس مشعل کی مانند ثابت ہوگی جس کی معرفت جہل کی تاریکیوں میں بھی بچے نئ راہیں  تلاش کرنے کے اہل بنیں گے لیکن شرط اول یہ ہے ان نونہال ملت کے ہاتھوں میں کتابیں تھمائ جاںٔیں! انھیں ان کتابوں سے روشناس کروایا جاۓ جہاں معصوم ،بلند پایہ،اور نیک صفات کے حاملین بستے ہیں،جہاں ان کی ذہنی تربیت کا سارا ساز و سامان موجود ہوتا ہے، جہاں انھیں خوابوں کی ایک نئ نگری سے معترف کروایا جاتا ہے،ان میں عزاںٔم بیدار کیے جاتے ہیں،انھیں Visionary بنایا جاتا ہیں اور جو کتابیں چشم زدن میں انھیں ایک دنیا سے دوسری دنیا کی سیر پر لے چلتی ہے- بھلا بتایٔے کس بچے کی طبیعت اس قدر پر لطف و حسین کتابی دنیا میں رہ کر بدی کی جانب منعطف ہوگی؟
کتابوں سے ناصرف آپ کے بچے اعلی اخلاق سیکھتے ہیں بلکہ یہ ان کے کردار کو سینچ کر ایک معرکتہ الآرا شخصیت میں ڈھال لیتی ہیں-قطعاً غلط نہ ہوگا اگر ذوق مطالعہ کو رحمت خداوندی قرار دیا جاۓ - یہ در رحمت ان کے لیے کھلتے ہیں جنھیں ان کا رب علم کی خوشبو سے معطر کرنا چاہتا ہے- جن بچوں میں ذوق مطالعہ موجود ہو انھیں ہرگز اس شوق سے پہلو تہی کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے- بیشتر والدین کا قیاس ہوتا ہیں کہ کتابیں ان کی اولاد کو بے راہ روی کا شکار کردے گی یا وہ تعلیم سے لاپرواہی برتے گے-ایسی صورتحال بالعموم اس وقت درپیش ہوتی ہے جب بچے نامناسب اور لغویات سے بھری کتابوں کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں وگرنہ اچھی کتابیں کبھی مثبت امور سے نہیں روکتی بلکہ یہ تو ایک درست سمت میں پرواز کے لیے آپ کی رہنما اور معاون بن جاتی ہیں-
یہ والدین کی ذمے داری ہیں کہ وہ اچھائ کو برائ سے مستثٰنی کرکے اپنے بچوں کے پیش نظر کریں- کتابیں اچھی بھی موجود ہیں اور توجہ کشید بھی! کوئ بھی کتاب بچوں کو تفویض کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ والدین خود اس کا مطالعہ کریں یا کم از کم سرسری طور پر اسے شرف دید ہی بخش دے-انسان کا مطالعہ جس قدر وسعت پاتا ہے اسی رفتار سے یہ اس کی شخصیت میں سنجیدگی لے آتی ہے ،پھر اس کے ہر قول و عمل سے میچیورٹی صاف جھلکتی ہے-دنیا کے مشہور و معروف اور کامیاب ترین افراد کی زندگیوں کا مشاہدہ کیجیے! قارںٔین آپ کو صریح طور پر نظر آۓ گا کہ ان کی زندگیوں میں کتابوں نے کتنا اہم رول ادا کیا ہے- 
بل گیٹس_ مشہور زمانہ بزنس مین جو اپنے ماضی کا احوال بتاتے ہیں کہ ہر سال کم و بیش وہ پچاس کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے صرف وہی نہیں بلکہ ایلون مسک ،وارن بفٹ اور مارک زکر برگ جیسی شخصیات نے بھی مطالعہ کو اپنی ترجیحات میں ہمیشہ شامل رکھا -ہر کامیاب انسان کی داستان ان کی زندگیوں میں کتابوں کی شمولیت کا واضح اعلان کرتی ہے- 
دور جدید میں بچے زیادہ تر وقت تکنیکی آلات کے ساتھ گزارتے ہیں- یہ آلات مکمل طور پر انھیں اپنے شکنجے میں جکڑ لیتے ہیں- وہ بجاۓ ان سے فاںٔدہ اٹھانے کے شب و روز ویڈیوز،گیمز اور ریلز دیکھنے میں صرف کردیتے ہیں- جو مواد ان ویڈیوز یا ریلز میں شامل ہوتا ہے اس سے فاںٔدہ کم اور نقصان کے امکانات زیادہ نظر آتے ہیں - کیا اس بہتر یہ نہیں ہے کہ ان بچوں میں مطالعہ کی عادت کو مہمیز ملے؟
کتابیں بچوں کو ان کی تہذیب سے جوڑ کر متمدن بناتی ہے- شعور کی اگر تیسری آنکھ موجود ہے تو یہ مطالعہ ہے جو اسے بینائ عطا کرتا ہے! اپنی مادری زبان سے محبت بھی بچوں میںں اس وقت بیدار ہوگی جب وہ اپنے ادب سے تعلق منطقہ کرنے کی بجاۓ پختہ کرے گے- اکثر بہت سے بچے معاشرے میں ایسے موجود ہیں جو اپنی مادری زبان کی تیںٔں ناگواری کا جذبہ دل میں رکھتے ہیں- چند سال قبل دو کانوینٹ میں زیر تعلیم بچوں سے گفتگو ہوئ - وہ قرابت داروں میں سے تھے اور پڑھنے لکھنے کے بے انتہا شوقین بھی! اس وقت انھوں نے کوئ تحریر ذقم کیں تھیں اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنی Horror story میرے گوش و گزار کر رہے تھے- ان کا علم چونکہ محدود تھا اس لیے کہانی ذرا غیر واضح تھی- اسے سمجھنے میں کچھ وقت لگا تاہم میں نے پورے انہماک سے اسے سنا- جب کہانی اختتام کو پہنچی تو بعد ازاں حوصلہ افزاء کلمات کے انھیں مشورہ دیا کہ انگریزی کے ساتھ اردو ادب کا بھی مطالعہ کریں-"اردو لٹریچر میں بھی بہت عمدہ اور بہترین کہانیاں لکھی گئ ہے - ہو سکے تو اس زبان میں بھی کچھ لکھنے کی سعی کریں-"
یہ سننا تھا کہ ایک بچہ بولا -
"اردو زبان کی کہانیاں! مائ فٹ! ہم تو صرف انگلش سیکھے گے اور انگلش سٹوریز لکھے گے"-
جو تکلیف ان الفاظ نے مجھے اس وقت پہنچائ اسے قلم بند کرنا ممکن نہیں! اردو!اتنی پیاری اور شیریں زباں!کیا یہ اس قدر تحقیر آمیز رویہ کی مستحق ہے؟ اس زباں کے بارے میں ہمارے بچوں کا یہ رویہ کس حد تک درست ہیں؟ سوچیٔے ذرا! اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کتابوں اور بچوں کے درمیان دوریاں پیدا کردی ہیں- انھیں اردو سے کبھی متعارف کروایا ہی نہیں- سارا خون پسینہ صرف انگلش سکھانے میں بہایا ہے- اس معاملے میں ان معصوموں کا بھی کوئ قصور نہیں ہیں - ماں باپ نے جس زبان کو ان کے سامنے مزین کرکے پیش کیا انھوں نے اسے بسر و چشم اپنا گردان کر قبول کر لیا- بچوں کو اپنی مادری زبان سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان میں ذوق مطالعہ پیدا کرنا بے حد ضروری ہے- انھیں انگریزی کے ساتھ اپنی زباں سے محبت کروانا آپ کا فرض ہے- 
کتابیں بچوں میں تخلیقی صلاحیت پروان چڑھاتی ہے- یہ انھیں جینے کا قرینہ سکھاتی ہے- بھٹکنے پر فوراً منزلوں اور اہداف کی یاد دہانی کرواتی ہے- آج بچوں میں ذوق مطالعہ ماند پڑنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نئ نسل کو دیو مالائ کہانیاں پسند نہیں آتی- انھیں اب چوہے اور بلی یا خرگوش اور کچھوے سے بھی کوئ انسیت نہیں رہی- انھیں چاہیے متحیر کردینے والی کہانیاں! ایسی کہانیاں جن میں سسپینس ہو ،تھریلر ہو ،جو پراسراریت سے لبریز ہو-( ساںٔنس بیسڈ رہی تو بات ہی کچھ اور ہے-)

عصر حاضر کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بچوں کے لیے با مقصد تحاریر رقم کیں جاۓ جو انھیں زندگی میں کچھ کر دکھانے کے جذبے سے سرشار کردے ،انھیں مقاصد اور امنگوں سے بھردے کیونکہ مقصد کے بغیر زندگی گزارنا اشرف مخلوقات کی شایان شان ہی نہیں ہے۔ جب کتابوں کی رفاقت میسر آتی ہے تو یہ حقیقت انسان پر عیاں ہوتی ہے - کتابیں ہمیں ایک بامقصد زندگی گزارنے کا درس دیتی ہیں-بعض کتابیں ایمانی حلاوت دلوں میں تروتازہ کرتی ہیں- بعض کتابوں سے انسان میں عمل کا جذبہ پنپتا ہے- اور عمل ہی سے زندگی بنتی ہے- 
کتابیں ہر لحاظ سے ایک بہترین تحفہ ہے جو باآسانی آپ اپنے بچوں کو دے سکتے ہے!تو کیا ہے کوئ با نصیب انسان جو کتابوں کی رفاقت قبول کرے؟